زندگی کا سفر اور بدلتا ہوا انسان۔۔۔

زندگی کا سفر اور بدلتا ہوا انسان۔۔۔

چند ہفتے قبل مجھے اپنے بیٹے کی صحت کے سلسلے میں ایک لوکل ہیلتھ سینٹر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں جب میرے بیٹے کا سیشن جاری تھا، تو اس دوران میری ہلکی پھلکی گفتگو ایک ایسے عربی شخص سے شروع ہوئی جس نے قطر کا روایتی مقامی لباس پہن رکھا تھا۔ گفتگو کافی غیر روایتی رخ اختیار کر گئی اور میرے ذہن سے چپک کر رہ گئی، اسی لیے قارئین کی دلچسپی کیلئے اسے قلم بند کر رہا ہوں۔

پہلے پہل جب میں ہال میں داخل ہوا تو وہاں صرف ایک ہی سیٹ خالی تھی جس کے سامنے والی سیٹ پر یہ صاحب بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے مجھے دیکھ کر خالی سیٹ پر بیٹھنے کی دعوت دی، سو میں وہاں بیٹھ گیا۔

کچھ دیر بعد ایک موقع پر میں نے ان سے ازراہِ تکلف پوچھ لیا:

“کیا آپ اپنے بیٹے کی سپیچ تھراپی کے لیے آئے ہیں؟”

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کی کسی اور مسئلے کے سلسلے میں آئے ہوئے ہیں۔ اسی بات سے بچوں کی بیماریوں، مسائل اور والدین کی پریشانیوں کے حوالے سے گفتگو شروع ہو گئی۔

وہ کہنے لگے کہ اگرچہ میرے بچے کے ساتھ کچھ مسائل ہیں، لیکن الحمدللہ باقی معاملات بہتر ہیں۔ یہ مسائل بھی ان شاء اللہ حل ہو جائیں گے، اور کچھ عرصے بعد جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو شاید ہمیں محسوس ہوگا کہ یہ مشکلات اتنی بڑی نہیں تھیں جتنی اس وقت محسوس ہو رہی ہیں۔

گفتگو اسی موضوع کے اردگرد جاری رہی، لیکن اس دوران ایک بات مجھے بار بار محسوس ہو رہی تھی۔ وہ شخص اپنی گفتگو میں بار بار “الحمدللہ”، “اللہ کا شکر ہے” اور اسی طرح کے کلمات ادا کر رہا تھا۔ اس کے لہجے اور سراپے میں شکر، صبر اور توکل نمایاں تھا۔

میں دل ہی دل میں اس بات سے متاثر بھی ہو رہا تھا اور کچھ متعجب بھی تھا۔

ایک موقع پر میں نے ان سے پوچھ ہی لیا:

“ماشاءاللہ، آپ کی گفتگو سے لگتا ہے کہ آپ بہت توکل والے انسان ہیں اور دین کی طرف آپ کا رجحان کافی گہرا ہے۔ عموماً آج کل کے جدید طرزِ زندگی رکھنے والے لوگ مذہب کے ساتھ ساتھ دنیاوی رنگ میں بھی زیادہ نظر آتے ہیں، مگر آپ کا انداز کچھ مختلف محسوس ہو رہا ہے۔”

اس پر انہوں نے مسکرا کر کہا کہ زندگی کے تجربات انسان کے اندر بہت تبدیلیاں لے آتے ہیں۔ پھر انہوں نے اپنی زندگی کے دو ایسے واقعات سنائے جنہوں نے ان کی سوچ، طبیعت اور زندگی کے رخ کو بدل دیا۔

سب سے پہلے انہوں نے اپنے ایک کزن سالم کا ذکر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ انسان کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ سالم جب ٹین ایج میں تھا تو اس کے ساتھ ایک حادثہ ہوا تھا، جس کا اثر اس کی کھوپڑی پر پڑا۔ علاج کے لیے اسے جرمنی لے جانا پڑا۔ الحمدللہ علاج بخیر و خوبی ہو گیا، لیکن اس کے باوجود اسے زندگی گزارنے میں بعض اوقات کچھ مسائل کا سامنا رہتا تھا۔

بہرحال، اس حادثے کے بعد سالم مزید سات یا آٹھ سال زندہ رہا۔

انہوں نے بتایا کہ سالم کی وفات سے ایک رات پہلے وہ میرے ساتھ تھا۔ بالکل نارمل، بات چیت کرتا ہوا، اگلے دن کے ایک انٹرویو کی تیاری کے حوالے سے بات کر رہا تھا۔ کسی کمپنی میں ملازمت کے سلسلے میں اس کا انٹرویو تھا۔

رات کافی ہو چکی تھی، اس لیے میں نے اس سے کہا:

“اتنی رات ہو گئی ہے، تم میرے گھر پر ہی سو جاؤ۔”

لیکن سالم نے کہا کہ وہ پہلے ہی کسی سے وعدہ کر چکا ہے، اس لیے وہ میرے گھر ہر رات نہیں گزار سکتا۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔

اگلے دن کچھ غیر معمولی سا ماحول محسوس ہوا۔ سالم اور ہمارے کچھ مشترکہ احباب، اس کے چچا اور اس کے والد میرے پاس آئے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا:

“رات سالم تمہارے ساتھ تھا، کیا تم نے کوئی غیر معمولی بات محسوس کی؟”

میں نے کہا کہ نہیں، ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ وہ بالکل ٹھیک تھا، انٹرویو کے لیے ذہنی طور پر تیار تھا۔

اور پھر جب میں نے ان سے سالم کے بارے میں تو خاموشی سی چھا گئی۔ کچھ دیر بعد انہوں نے کلمہ پڑھ کر بتایا کہ سالم کا انتقال ہو گیا ہے۔

یہ سن کر وہ شخص کہنے لگا کہ میں ایسی کیفیت میں چلا گیا جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ایک انسان جو کل رات میرے ساتھ بیٹھا تھا، بات کر رہا تھا، اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا، اگلے دن اچانک اس دنیا سے چلا گیا۔

یہ واقعہ ان کے دل پر بہت گہرا اثر چھوڑ گیا۔

اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا دوسرا واقعہ سنایا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ایک بہت اچھی سپورٹس کار تھی، غالباً 2006 ماڈل۔ نوجوانی کا وقت تھا، دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، ہلہ گلہ، مستی، اور تیز رفتاری بھی زندگی کا حصہ تھی۔ گاڑی تیز چلانے کی عادت تھی۔

اس وقت وہ قطر انرجی میں ملازم تھے۔ ایک دن انہیں کسی ضروری میٹنگ میں پہنچنا تھا۔ وقت بہت کم تھا، تقریباً پندرہ منٹ باقی تھے، جبکہ فاصلہ زیادہ تھا۔ انہوں نے گاڑی بہت تیز رفتاری سے چلانی شروع کر دی، یہاں تک کہ رفتار 200 سے اوپر چلی گئی۔

وہ بتانے لگے کہ اتنی رفتار پر گاڑی کی کیفیت ہی بدل جاتی ہے۔ اسی دوران اچانک کچھ ایسا ہوا کہ گاڑی پلٹ گئی اور سڑک کے کنارے سے باہر جا گری۔

حادثہ اتنا شدید تھا کہ انہیں لگا اب موت کا وقت قریب آ گیا ہے۔ وہ کہنے لگے کہ جس طرح لوگ کہتے ہیں کہ موت کے وقت انسان کی زندگی کے مختلف واقعات اس کے ذہن کی اسکرین پر چلنے لگتے ہیں، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ بچپن سے لے کر اس وقت تک کے واقعات جیسے ذہن کے پردے پر چل رہے تھے، اور مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اب میرا وقت آ چکا ہے۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں بچا لیا۔

لوگوں نے آ کر انہیں گاڑی سے نکالا۔ وہ باہر تو آ گئے، لیکن کھڑے ہونے میں کچھ مشکل ہو رہی تھی۔ حادثہ بہت بڑا تھا، مگر جان بچ گئی۔ وہ بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے ہی بچایا۔

اس دن کے بعد ان کی زندگی کا رخ ہی بدل گیا۔

انہوں نے نہ وہ گاڑی دوبارہ استعمال کی، اور نہ ہی وہ راستہ اختیار کیا۔ حتیٰ کہ انہوں نے اپنی کمپنی تک تبدیل کر لی۔ قطر انرجی کو چھوڑ دیا اور بعد میں قطر کی لیبر منسٹری میں کام شروع کر دیا۔

وہ کہنے لگے کہ زندگی کے ان واقعات نے میری لاپرواہ، بے فکر اور ہلکی پھلکی طبیعت کو بدلنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ موت کو اتنے قریب سے دیکھنے کے بعد میرا رجحان دین کی طرف بڑھ گیا۔ پھر میرا تعلق تبلیغ کی جماعت سے ہو گیا۔ ہم نے تبلیغ کے سلسلے میں وقت لگانا شروع کیا، لوگوں سے ملنا جلنا، جماعت کے ساتھ رہنا، اور مختلف ممالک جیسے بنگلہ دیش، انڈیا اور پاکستان کے دورے بھی کیے۔

انہوں نے کہا کہ آہستہ آہستہ مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ دنیا کی رونق، میلہ، گاڑیاں، رفتار، دکھاوا اور وقتی مزے سب فانی ہیں۔ آخرکار ہر انسان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، لہذا زندگی کو بے مقصد گذارنا بہت بڑی بے وقوفی ہے۔

پھر انہوں نے کہا کہ انسان کو زندگی کے ہر معاملے میں اپنی پوری کوشش بھی کرنی چاہیے، لیکن ساتھ ساتھ جو بھی میسر ہو اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرتے رہنا چاہیے۔ زندگی کی چھوٹی موٹی مشکلات کا صبر اور حوصلے سے مقابلہ کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے حق میں جو بہتر ہوتا ہے وہی فرماتے ہیں۔

یہ گفتگو راشد المری صاحب کے ساتھ ہوئی۔ آخر میں ہمارے درمیان ٹیلیفون نمبرز کا تبادلہ بھی ہوا۔ وہ نہایت مثبت انداز میں گفتگو کر کے رخصت ہوئے۔ یہ پوری گفتگو تقریباً پچیس منٹ، شاید زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے پر مشتمل تھی، مگر میرے لیے بہت معنی خیز رہی۔

میں نے ان سے اجازت بھی لی کہ اگر وہ مناسب سمجھیں تو میں اس گفتگو کو لکھ کر شائع کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے خوش دلی سے اجازت دی اور کہا کہ جب آپ لکھ لیں تو مجھے بھی ضرور شیئر کیجیے گا۔

اس پورے واقعے میں میرے لیے ایک اور اہم سبق بھی تھا کہ میں اگر میں ان سے بات ہی شروع نہ کرتا، تو شاید وہ اپنے موبائل فون میں مصروف رہتے اور میں اپنے موبائل فون میں۔ نہ ہمیں ایک دوسرے کو جاننے کا موقع ملتا، نہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا۔

حالیہ برسوں میں مجھے یہ احساس زیادہ شدت سے ہونے لگا ہے کہ لمحۂ موجود میں رہنا کتنا ضروری ہے۔ چلتے پھرتے، لفٹ میں، انتظار گاہوں میں، یا کسی ہسپتال اور ہیلتھ سینٹر میں، ہم اکثر اپنے موبائل فون میں گم رہتے ہیں۔ ہمارے اردگرد لوگ موجود ہوتے ہیں، مگر ہم ایک دوسرے سے لا تعلق ہوتے ہیں۔

شاید اسی وجہ سے انسانی تعلق، انسانی فطرت، اور ایک دوسرے کے لیے فطری لگاؤ کہیں نہ کہیں کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

موبائل فون یقیناً ایک مفید چیز ہے، لیکن اس کا محدود اور بامقصد استعمال ضروری ہے۔ اگر ہم ہر وقت موبائل میں گم رہنے کے بجائے کبھی اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بھی محسوس کریں، ان سے بات کریں، ان کی بات سنیں، تو شاید بہت کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اور یہ کہ جب بھی کسی سے بات کی جائے تو پوری توجہ سے کی جائے، یہ نہ ہو کہ توجہ موبائل فون یا کہیں اور بٹی ہوئی ہو!

کئی اچھے تعلقات بن سکتے ہیں۔ کئی تجربات ہمیں نئی سوچ دے سکتے ہیں۔ کئی لوگوں کی کہانیاں ہمارے اندر تبدیلی کا سبب بن سکتی ہیں۔

آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ ہر انسان کی زندگی میں کچھ نہ کچھ اہم سبق ضرور چھپا ہوتا ہے۔ بعض اوقات زندگی کے کچھ واقعات انسان کے رویے، سوچ اور طبیعت کو ہمیشہ کے لیے بدل دیتے ہیں۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پرانے جاننے والے جب انسان کو نئے دور میں دیکھتے ہیں تو ہم اس کی بدلی ہوئی طبیعت اور رویے پر حیران رہ جاتے ہیں۔

یہ دنیا واقعی ایک عجیب و غریب جگہ ہے۔

یہاں ہر انسان کی اپنی ایک کہانی ہے، اور ہر کہانی سننے کے قابل ہے۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے اور محسوس کرنے کے لیے تھوڑا سا وقت نکالیں۔اسی سننے میں، اسی سمجھنے میں، اور اسی لمحۂ موجود میں رہنے میں زندگی کے کئی خوبصورت سبق پوشیدہ ہیں۔

سلطان شاہ
الوکرہ، قطر سے —

تبصرہ کریں