میرا سفرِ حج

میرا سفرِ حج

‘حج 2018 بمطابق 1439 ھجری کی روداد’

اللہ تعالٰی نے مجھے اور میری فیملی کو پچھلے سال حجِ بیت اللہ کی سعادت نصیب فرمائی. میں اس روحانی تجربے کی تفصیلات آپ سب سے شیئر کرنے کیلئے بے چین تھا لیکن بے پناہ مصروفیت اور کچھ سستی کے باعث ایسا نہ ہو سکا. بہر حال اب بھی الحمدللہ اچھا وقت ہے اور اس سال کا حج بھی قریب آ رہا ہے تو امید ہے کہ ہمارے تجربات کسی کے کام آجائیں.

جس دن سے مجھے صحیح معنوں میں حج کی سنجیدہ نوعیت اور فرضیت کی سختی کا ادراک ہوا، اسکے بعد ایک ایک دن گزارنا مشکل ہو گیا تھا. خاص کر آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ حدیثِ مبارکہ کہ جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ ‘جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان ہو اور اس کو سواری میسر ہو جو بیت اللہ تک اس کو پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر” (منقول)

سمندر پار پاکستانیوں کیلئے حج ایپلیکیشن کا کوئ واضح نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں اس ضمن میں کافی مسائل کا سامنا رہتا ہے، اس کا تفصیلی ذکر میں اپنے ایک پچھلے بلاگ میں کر چکا ہوں. تفصیل کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کریں :

https://wordpress.com/post/msultanshah.com/284

قصہ مختصر کئی کافی جدوجہد کے بعد رب کی مہربانی سے ہمارا نام سرکاری اسکیم کے تحت قرعہ اندازی میں نکل آیا.

حج سے پہلے!

حج روانگی سے پہلے نظریہ حج (Concept) اور اسکے پس منظر کو سمجھنے کیلیے اپنے تئیں کافی کوشش کی. یوٹیوب پر مستند عالم دین کے لیکچر وغیرہ سنے. سرچ کے دوران اندازہ ہوا کہ طریقہء حج کے اوپر کافی مواد موجود ہے پر اسکے وسیع تر معنوں پر ٹھوس کام شائع کرنے کی بہت ضرورت ہے. اس سارے عمل کے دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات، ان کی قربانیوں اور ان کے مقام کا پہلے سے زیادہ ادراک ہوا.

” بے شک ابراہیمؑ اپنی ذات سے ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سو وہ کبھی مشرک نہ تھا. اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا اللہ نے اس کو منتخب کر لیا اور سیدھا راستہ دکھایا.دنیا میں اس کو بھلائی دی اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہوگا. پھر ہم نے تمہاری طرف یہ وحی بھیجی کہ یک سو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا. “(سورۃ النحل آیات ١٢٠-١٢٤) ”

سوچ کے نئے دریچے کھلے اور زیادہ سے زیادہ حج کے معاملات کو کھوجنے کی جستجو پیدا ہوئی . روانگی سے قبل محترم مدثر بھائی نے فلسفہ حج پر ایک پرمغز نشست میں ہماری رہنمائی فرمائی. ان کا کہنا یہ تھا کہ “حج کی بھرپور تیاری کریں اور دورانِ حج مشکلات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ اختیار یعنی اطاعت اور استقامت سے کام لیں.”

جدہ روانگی:

ہمارا گروپ کل 13 افراد پر مشتمل تھا جس میں جناب ضرار بھائی اور ظفر بھائی کی فیملیز، میں میری اہلیہ اور ہمارے دو بچے بھی شامل تھے جن کی عمریں اسوقت 4.5 اور 2.5 سال تھیں.حج سے صرف چند دن قبل ہم لوگ کراچی ائرپورٹ سے 15 اگست کی فلائٹ سے روانہ ہوئے.

جدہ ائرپورٹ پر Arrival سے لے کر سامان کی وصولی بہت آرام سے ہو گئی. سعودی حکام نے نہایت گرمجوشی سے حجاج کا استقبال کیا،ا ہم پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں. بہت سے حاجیوں نے اپنی سہولت کے لیے ایئرپورٹ پر ہی موبائل سم کی خریداری کرلی. ہم رات گئے ہم اپنے ہوٹل بتحہ قریش کے علاقے میں پہنچے. وہاں پر پاکستانی معاونین نے نہایت مستعدی سے ہمیں وصول کیا. سامان کی منتقلی اور اپنے اپنے کمروں میں ہونے شفٹ ہونے میں کافی وقت لگ گیا.بالآخر سب اپنے اپنے کمروں تک پہنچ گئے. اب ہمارے لئے یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ ہمارے دونوں بچوں کا کمرہ ماں سے علیحدہ دیا گیا تھا. سامان اور بچوں کو ہینڈل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا.

بہرحال کسی نہ کسی طرح ہم اپنے پہلے عمرے کے لیے روانہ ہوئے. ہمارا خیال یہ تھا کہ بچوں کی آسانی کے لیے وہیل چیئر حرم شریف کے مخصوص سیکشن لے لیں گے لیکن اس وقت ایسا ممکن نہ ہوسکا اور سارا راستہ بچوں کو گود میں لے کر چلنا پڑا. اس معاملے میں گروپ کے ممبران نے بہت تعاون کیا کیا اور باری باری ہمارے بچوں کو اٹھا کر طواف شروع کر دیا گیا. یہ تقریباً ایک ناممکن مرحلہ تھا اور پھر وہ الفاظ میرے ذہن میں کھانا گونجے کہ “ابراہیم علیہ السلام کے طریقہ یاد رکھنا” اور ذہن میں یہ بات آنے لگی آج کل کی کوئی بھی آزمائش حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش سے بڑی نہیں ہو سکتی. بس یہی سوچ کر پختہ ارادے کے ساتھ طواف جاری رکھا. غالباً تیسرے یا چوتھے چکر میں اللہ تعالی نے کرم کیا اور گروپ میں شامل ہماری ایک بہن کسی فرشتے کی مانند ایک وہیل چیئر کہیں سے لے آئیں اور ہم نے سوتے بچوں کو وہیل چیئر پر ڈال دیا کیا یوں ہمارا عمرہ باآسانی مکمل ہوگیا. اللہ تعالی محترمہ کو اس نیکی کی جزائے خیر عطا فرمائے، آمین. عمرہ سے فارغ ہوکر ہوٹل جا کر آرام کیا.

اب تک کے واقعات سے مجھے یہ لگ رہا تھا کہ میں نے بچوں کو ساتھ لاکر زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر لی ہے، آگے کیسے چلنا ہے، یہ سوچنے لگا. پھر وہی ہوا اللہ تعالی کی مدد بر آئی، صورت حال ایسی بدلی کہ مجھے اور میری میری فیملی کو ایک علیحدہ کمرہ بلکہ ایک اپارٹمنٹ ٹائپ بمع ہال، کچن میسر آگیا گیا اور باقی لوگ بھی اپنے اپنے حساب سے بہت اچھے سیٹل ہوگئے .

حج انتظامات:

ہوٹل کی رہائش گاہ انتہائی آرام دہ اور شاندار تھی جس میں ہر چیز موجود تھی. تھی پاکستانی معاونین اور دیگر اسٹاف نے بہت جانفشانی کے ساتھ حاجیوں کو ہینڈل کیا اور انتہائی حد تک جاکر ہماری مدد کرتے رہے. کھانے کا انتظام بہت زبردست اور قابلِ تعریف تھا. مزیدار کھانے اپنے شیڈیول پر پیش کیے جاتے رہے. اس موقع پر ہمارے بچوں نے خوب رونق لگائے رکھی اور کھانے کے دوران ہال اور کچن کے درمیان دوڑتے بھاگتے رہے. کچن اسٹاف بھی ان سے مانوس ہوگیا اور ہر طرح ہماری ضرورت کا خیال رکھا.

hajj-2

مسجد الحرام آنے اور جانے کے لیے ہوٹل کے باہر جدید ترین ماڈل کی بسیں ہروقت تیار کھڑی رہتی تھی. بس حاجیوں کو لے کر کدئ کے اسٹیشن پر چھوڑتی تھی اور وہاں سے شٹل سروس کے ذریعے حرم شریف جایا کرتے تھے. مسجد الحرام کے علاوہ اپنی سہولت کے مطابق نماز قریبی مسجد میں پڑھتے تھے. مسجد میں حاجیوں کی خدمت کے لئے ٹھنڈا پانی اور کھجوریں ہر وقت دستیاب تھیں. اس مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے مجھ پر جو روحانی کیفیت طاری ہوئی اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے :

“ یا اللہ تیری کتنی بڑی کرم نوازی ہے. ہے مجھ جیسی نا چیز ایک عام سے بندے کو اتنی بڑی سعادت عطا فرما دی. میں تیرا شکر کیسے ادا کروں”

اپنی کج فہمیوں اور نادانیوں کا احساس، زہن کی سکرین پر ابھرتے زندگی بھر کے مختلف واقعات, سب عزیزوں کے لئے دعائیں اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جاری و ساری لڑیاں…. ‘وہ وقت ساری زندگی کا سرمایہ بن گیا ہے’ .

حج سے پہلے:

حج کا وقت قریب آچکا تھا اس لئے سب لوگ حج کی تیاریاں کرنے میں مصروف ہوگئے. اس دوران میں نے یہ محسوس کیا کیا کہ وہاں ہر حاجی کو کسی نہ کسی چیلنج کا سامنا تھا. کسی کو لفٹ استعمال کرنا نہیں آرہی تھی، کسی سے سعودی سم ایکٹو نہیں ہو پا رہی تھی. کوئی اپنا انٹرنیٹ کنکشن نہیں کر پا رہا تھا اور کوئی اپنے گروپ میں ‘اسپیشل کیس’ ہینڈل کرنے میں لگا ہوا تھا. غرض یہ کہ تقریبا آئیڈیل انتظامات کے باوجود ایک نان آئیڈیل صورتحال درپیش تھی.ہم نےاپنے آپ کو آنے والے حج کے دورانیے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا شروع کردیا. میں نے ہوٹل لابی میں لگے تمام لئے نوٹس پڑھ ڈالے اور بچوں کی حفاظت کے لئے مختلف پلان بناتا رہا. ہمارے روم کے برابر میں پاکستان حج مشن کے ایریا فوڈ انچارج جناب فاروق صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ مقیم تھے تھے. وہ لوگ اپنے اپنے مقررہ وقت میں کام سرانجام دینے کے بعد کمرے میں آرام کیلئے تشریف لاتے تھے. فاروق صاحب بہت محبت سے پیش آئے اور حج کے حوالے سے بہت اچھی ٹپس دیں.

حج کے دن:

mina

8 ذوالحج علی الصبح ہوٹل سے بسیں حاجیوں کو لے کر منی١ روانہ ہوگئیں. سعودی عرب نے دنیا بھر کے حاجیوں کے لیے اپنے بازو کھول دیے۔ دل دھڑکتے دلوں کے ساتھ لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے ہم منی١ میں اپنے خیموں تک جا پہنچے۔ ہمارا مکتب نمبر نمبر 87 تھا اور اسی کے خیموں میں جاکر ہم مقیم ہوگئے اور ناشتہ کیا۔ منی١ جانے سے پہلے پاکستانی انتظامیہ نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ حج کے پانچ دنوں میں ہم سب متعلقہ مکتب اور معلم کی ذمہ داری پر ہوں گے. ”اس بات کا مطلب آنے والے دنوں میں ہمیں اچھی طرح سمجھ میں آگیا”۔

خیموں میں شدید ترین بدنظمی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ معلم کا کوئی نمائندہ اپنے آفس میں موجود نہ تھا۔کچن سے جیسے تیسے کھانے کی سپلائی جاری تھی۔ ہماری اطلاعات کے مطابق مقامی پاکستانیوں نے بھی مفت میں خیموں کا رخ کیا اور کچھ نے تو کچن پر حملہ بھی کر دیا اور کھانے کو لوٹا۔اسی وجہ سے کئی مواقع پر حاجیوں کو کھانا مل نہ سکا۔ خیمے میں چند جانے پہچانے چہرے بھی نظر ائے یہ دراصل ہماری بلڈنگ کے اندر سروس دینے والے لوگ تھے جو کہ احرام باندھ کر ہمارے ساتھ ہی خیمہ زن ہو گئے تھے ۔ اب ظاہر ہے کہ انتظام تو صرف پاکستان سے آئے حاجیوں کیلئے تھا لیکن باہر کے لوگوں کے آنے سے انتظام خراب ہو گیا. اسی وجہ سے چند معصوم حاجیوں کو رستوں میں یا پھر گھس گھسا کر بہت تکلیف میں گزارا کرنا پڑا۔

8 ذوالحج کا دن بہت گرم رہا اور شام کو اچانک تیز ہوائیں چلنا شروع ہوگئی اور خیمہ ہلنا شروع ہوگیا. یہ قدرت کا شاید پہلا امتحان تھا ،بہرکیف یہ طوفان بھی گزر گیا۔

اگلی صبح نو ذوالحج یومِ عرفات کے دن منی١ سے عرفات جانا بھی کافی مشکل ثابت ہوا۔ آس پاس دوسرے ممالک کے خیمے تھے ان کی بسیں آتی جا رہی تھی اور اپنے حاجی لے کر جا تی جا رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اگر کوئی بس نہیں آرہی تو وہ مکتب 87 کی بس تھی۔ مکتب 84 والوں کا حال بھی لگ بھگ ہمارے جیسا ہی تھا۔ بڑی مشکل سے تقریبا ساڑھے دس بجے کے بعد ہماری بسیں آنا شروع ہوئیں ۔ اس موقع پر عجیب نفسانفسی کا عالم دیکھنے کو ملا۔ میرے ساتھ اس وقت میری اہلیہ، میرے دو بچے طلحہ بھائی اور گروپ کی دیگر دو خواتین موجود تھے۔ طلحہ بھائی ان دنوں زخمی حالت میں فریکچر بازو کے ساتھ ہے۔ اس کمزور گروپ کے ساتھ بس پر سوار ہونا شدید رش میں تقریباً ناممکن دکھائی دے رہا تھا کیونکہ ایک تو بسیں بہت کم تھیں اور اگر آ بھی رہی تھیں تو ان پر لوگ دھاوا بول کر سوار ہو رہے تھے۔ غرض یہ کہ تپتی دھوپ میں ہم لوگ ادھر سے ادھر کوشش کرتے کرتے اپنے خیمے کے عقب میں موجود ایک بڑے سے پل کے نیچے جا پہنچے۔ ایک پیارا کسرتی جسم والا بھائی جو ہمیں نوٹ کر رہا تھا وہ میرے پاس آیا اور بولا ‘ بھائی آپ فکر نہ کریں، میں اور میرے ساتھی آپ لوگوں کو سوار کرواتے ہیں۔ میں بس کا مرکزی دروازہ سنبھالوں گا اور آپ لوگ چڑھ جائیے گا۔ اس بھائی اور اسکے ساتھیوں کے لیے بھی ڈھیروں دعائیں جس نے ہماری مدد کرنے کی بہت کوشش کی، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ بسیں آنا بند ہوگئیں، تقریبا ساڑھے گیارہ بجے کے قریب۔ میں نے جب ذرا غور کیا تو باقی رہ جانے والوں میں سب کمزور لوگ تھے، بہت درد ناک اور معاشرتی صورتحال کی عکاسی کرتا منظر تھا۔ ویل چیئر پر بیٹھے ہوئے بزرگ افراد ایسی فیملیز جن میں خواتین زیادہ تھیں جو سوار نہ ہو سکیں اور باقی ایسے ہی کچھ اور چہرے۔ اسی اثناء میں مجھے پانی لینے کے لیے خیمے کے اندر جانے کا اتفاق ہوا، وہاں وہیل چیئر پر بیٹھے چند بزرگ حضرات اور ان کے ساتھ چند نوجوانوں کو دیکھا جو انتہائی پرسکون انداز میں بہت باوقار طریقے سے عرفات جانے کے لیے تیار تھے۔ انہیں دیکھ کر رشک بھی آیا اور ہمت بھی بندھی۔ سعودی انتظامیہ بقیہ لوگوں کو نکالنے کیلئے سر توڑ کوشش کر رہی تھی. آخر کار چند آخری سرکاری بسوں میں سے ایک بس میں ہم بھی سوال ہو ہی گئے. اس بس میں زیادہ تر بھائیوں کا تعلق بنگلہ دیش تھا، ان کا جوش اور ولولہ کا قابلِ دید تھا۔ منی١ سے عرفات کے جس سفر کے بارے میں ہم نے سنا تھا کہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے وہ سفر بمشکل بیس منٹ میں مکمل ہوگیا اور بس نے ہمیں میدان عرفات کے ایک مقام پر لے جا کر چھوڑ دیا۔ وہاں ہم ایک مسجد کے باہر جا کر بیٹھ گئے اور اللہ تعالی کے خصوصی فضل و کرم سے نہایت آرام کے ساتھ کے نشر ہوتا ہوا خطبہ سنا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو ہم سے بہت پہلے نکل گئے تھے وہ راستے میں رش میں پھسنے کی وجہ سے خطبہ نہ سن سکے۔ ہم جہاں بیٹھے تھے وہاں آس پاس میں کھانے پینے کی اشیاء کے بہت سے کنٹینر کھڑے ہوئے تھے تھے. ہمیں وہاں بیٹھے بٹھائے انواع و اقسام کے کھانے کھلائے گئے، خصوصاً ایک سعودی فیملی نے تو مہمان نوازی کی انتہا کردی۔ اس دن جہاں حاجی گرمی اور انجان جگہ میں حالات کی وجہ سے پریشان تھے وہاں پر سعودیوں اور دیگر میزبانوں نے ایثار کی انتہا کردی۔ اس دن گرمی اتنی زیادہ تھی میں نے پانی کی تقریباً 25- 20 بوتلیں پی لی ہوںگی۔ یومِ عرفات جیسا جاہ و جلال والا دن میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔

کچھ دیر بعد ہم اپنے بچوں کو لے کر عرفات میں قائم پاکستانی کیمپ کی طرف روانہ ہوئے. دوپہر سے لے کر مغرب تک دعاؤں کی قبولیت کا مخصوص وقت ہوتا ہے اور اس وقت میں ہم فاصلہ طے کر رہے تھے۔ ایک خیال یہ آیا جس وقت کا ساری زندگی انتظار کرتے رہے وہ آیا ہے تو ہم دعا بھی ٹھیک سے نہیں مانگ پا رہے ہیں ۔ان ہی خیالات کے ساتھ بالآخر پاکستانی کیمپ میں اپنے گروپ سے جا ملے۔

ہمیشہ کی طرح اللہ تعالیٰ نے پھر کرم فرمایا اور ہمارے بچے گہری نیند سو گئے. ہم سب نے نے کھڑے ہو کر دعائیں مانگنا شروع کر دی. اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ وقت تھم سا گیا ہو. جتنی دعائیں یاد تھیں سب دو دو دفعہ مانگنے کے بعد بھی وقت باقی تھا جیسے سوہنا رب اپنے غلاموں سے سے کہہ رہا ہوں” مانگو جو مانگنا ہے”. وقت میں ایسی حیران کن برکت کبھی محسوس نہیں ہوئی. اس دوران اردگرد ایسا روح پرور ماحول بن گیا جس میں سب حاجی آنسوؤں کے ساتھ اپنی اپنی عرضیاں لیے اپنے مالک کے سامنے کھڑے تھے. اس منظر کو دیکھتے ہوئے منہ سے بے اختیار نکلا ” یا اللہ ان سب کا حج قبول فرما ہم سب کی حاضری قبول فرما”.

muzdalifa

شام ڈھلے ہم اپنے گروپ کے ساتھ پرائیویٹ بس میں سوار ہو کر اپنی اگلی منزل یعنی مزدلفہ کی جانب روانہ ہوئے. وہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کیں. فاصلہ طے کرتے ہوئے منئ١ سے کچھ پہلے فٹ پاتھ پر پڑاؤ ڈالا اور اپنی اپنی چٹائیوں پر سو گئے. عجب عالم تھا وہ بھی، نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز. کیا بڑا کیا چھوٹا سب کھلے آسمان تلے بغیر کسی جھجک کے آرام سے سو رہے تھے.

اگلے دن یعنی 10 ذوالحج کو ہم مزدلفہ سے پیدل واپس منی١ اپنے خیمے پہنچے. کچھ دیر آرام کے بعد جمرات جا کر شیطان کو کنکریاں ماریں. اس کے بعد شام کو قربانی کے بعد سر منڈوا کر احرام کھول دیا. اگلی صبح طواف زیارہ فجر کے بعد شروع کرنے کی کوشش میں لگے اور ظہر کے بعد کہیں جا کر مکمل کرلیا. وہاں سے پھر منی١ اور رمی جمرات. اگلے دن آخی رمی کے بعد اپنے ہوٹل جا پہنچے.

اس دورانیے میں سعودی حکومت کے شاندار انتظامات کا مشاہدہ کیا خاص کر سیکورٹی والوں کا ذمہ دارانہ رویہ قابلِ تعریف ہے. گرم موسم میں حاجیوں پر ٹھنڈے پانی کا اسپرے کیا جا رہا تھا. راستوں میں تقریباً پرفیکٹ انتظامات جس میں کھانے پینے کے outlets, موبائل ریچارج کی سہولیات اور قربانی کے بوتھ قابلِ ذکر ہیں.

دورانِ حج کے مشاہدات :

منی١ کیمپ میں کچھ حاجیوں کی جانب سے بھی لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ دیکھنے کو ملا. وضو خانے پر رش ہوتا تھا تو کولر پر بیٹھ کر پینے کے ٹھنڈے پانی ی سے ہی وضو شروع کر دیتے تھے. باہر کے لوگوں اور کھانے کی چھینا جھپٹی کا تذکرہ تو پہلے ہی ہوچکا ہے.

مکتب کے لیول پر بہت مایوس کن صورتحال تھی. معلم کا کا نمائندہ صرف ایک ہی بار نظر آیا اور حاجیوں نے جیسے تیسے گزارا کیا. پاکستانی معاونین بھی خال خال نظر آئے، حج کے دن تو کوئی بھی نہیں نظر آیا کیونکہ سب اپنا حج کرنے لگ گئے تھے . بعد میں پتہ چلا کہ پاکستانی حج مشن پر تعینات ہوئے تقریباً سب لوگوں نے اپنا حج بھی کیا ہے. پاکستانی حاجی دربدر خوار ہوتے رہے. ٹیکسی والے منہ مانگی قیمتیں وصول کرتے رہے. عام دنوں میں جو کرایہ 20-15 ریال ہوتا تھا وہ 75-150 ریال لیا گیا کچھ مواقع پر دو سو ریال میں سفر کرنا پڑا. جن لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے انہوں نے لمبے لمبے سفر پیدل طے کیے اور بعد ازاں کچھ بزرگ افراد زخموں پر پٹی کے ساتھ خیموں میں نظر آئے. ہمارے لئے یہ زندگی کا عظیم ترین سفر تھا لیکن کاروباری مقاصد کے لیے یہ ایک سیزن اور بزنس اپارچونٹی تھی،جنہوں نے حاجیوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا. مقامی لڑکوں نے حرم کے اندر مجبور حاجیوں کے ساتھ عجب کھیل کھیلا. وقفاالحرم وہیل چئیرز جو حرم میں حاجیوں کے لیے مفت میں مختص تھیں انہیں ہتھیاکر 500 ریال تک مانگتے رہے.ہم نے خود دو بار 200 ریال دے کر ویل چیئر بچوں کے لئے حاصل کی. جیسے جیسے جیب ہلکی ہوتی گئی، حاجیوں کی پریشانی بھی بڑھتی گئی .پاکستان سے جانے والوں کو گھر سے کچھ پیسے اندازہ سے بھی زیادہ لے کر جانے چاہئیں. صفا مروہ کے پیچھے وہیل چئیر کے لئے حرم میں ایک مخصوص آفس ہے، ابو جہل کا جہاں گھر تھا اور آج بیت-الخلا موجود ہیں. وہاں سے وہیل چیئر مفت لے سکتے ہیں، موقع پرست لٹیروں سے بچیں جو حرم کے اندر دو نمبری کرتے ہیں. یہی موقع ہے آپ مجبوروں کی مدد کریں، طاقتور افراد کمزوروں کا ساتھ دیں تو ہر کسی کی مشکلات کم ہو سکتی ہیں.

حج کے بعد اپنے سفری معاملات کے سلسلے پاکستان حج مشن آفس العزیزیہ جانے کا موقع ملا, وہاں جا کر بہت تکلیف دہ مناظر دیکھلنے کو ملے. لے. وہی پیارے بھائی جنہوں نے حاجیوں کے لیے دن رات ایک کر دئیے تھے, وہی بھائی سر منڈائے، سر پر ٹوپی پہنے، شرمندہ شرمندہ نظریں جھکائے لوگوں کی کھری کھری باتیں سن رہے تھے اور اپنی تاویلیں پیش کر رہے تھے.بھئ اس مسئلہ کو حل کریں پاکستانی معاونین کام چھوڑ کر اپنا حج شروع کردیں گے تو حاجیوں کی مدد کون کرے گا؟ بہانہ یہ بنایا جاتا ہے کہ حج کے دنوں میں ذمہ داری معلم کی ہے. ہمیں کیا پتہ سعودی کمپنی یا معلم کا، ہم تو آپ کو جانتے ہیں. بہت ہیں ہی آسان سی بات ہے، معاونین حج کی سب سے زیادہ ضرورت دورانِ حج ہوتی ہے اور اگر آپ اسی اس دوران ہی موجود نہیں ہوں گے تو آپ کے وہاں جانے کا کیا فائدہ؟ معلم کے ساتھ آپکو Co-ordinate کرنا چاہیے اور ہمہ وقت خیموں میں اور اور دیگر جگہوں پر موجود ہونا چاہیے تاکہ اپنے حاجیوں کی مدد کر سکیں اور ان کے مسائل حل کر سکیں. نہایت افسوس کے ساتھ ساتھ ہم نے اس چیز کا مشاہدہ کیا ہے کہ آپ نے اپنی ساری محنت پر ایک بنیادی غلطی کرکے خود ہی پانی پھیر دیا یا اور ثواب کی جگہ گناہ کے امکانات پیدا کر لئے. حاجی جن پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہوئے ان کی تفصیلات اکٹھا کرنا بھی ممکن نہیں ہے ہے . پاکستانی معاونین حج بشمول اعلی حکام اور سپورٹ اسٹاف سب اپنا اپنا حج کر رہے تھے. جس کی وجہ سے بہت بڑا خلا پیدا ہوا اور حاجی دربدر خوار ہوتے رہے. حج صرف صاحبِ حیثیت پر فرض ہے. آپ وہاں حج سپورٹ کی حیثیت سے گئے ہیں نہ کہ حج ادا کرنے. مندرجہ بالا کام کر کے نہ صرف آپ نے اپنی ذمہ داریوں سے ناانصافی کی بلکہ مستحق حاجیوں کیلئے باعثِ تکلیف بنے ورنہ شرمندگی کی کوئی وجہ نہیں بنتی. بعد میں اس موضوع پر کافی اسٹاف لوگوں سے بات کی لیکن سب آئیں بائیں شائیں گول مول جواب دیتے رہے، کسی نے صاف اور سیدھی بات نہ کی. پاکستانی حج منسٹری کو اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے. افسوس ہماری قوم میں ابھی اتنی اخلاقی پختگی نہیں ہے کہ وہ خود احتسابی کرتے ہوئے ایسے کام ہی نہ کرے.

حج کے بعد کے ایام :

لوگوں کا غصہ آہستہ آہستہ کچھ ٹھنڈا ہوا تو نارمل روٹین دوبارہ شروع ہوگیا اور بہترین انتظامات دوبارہ بحال ہو گئے. حرم شریف حاضری اور زیارتیں وغیرہ. ہمیں مکہ میوزیم دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا.

ہمارے گروپ کے زیادہ تر لوگ پہلے ہی مدینہ اور پھر فائنل منزلوں پر نکل گئے. مدینہ روانگی سے قبل ہم نے یکم ستمبر کو کافی وقت معلم کے دفتر میں گزارا. معلم کے دفترکا انچارج کافی مناسب ذمہ دار آدمی معلوم ہو رہا تھا. کئی راتوں سے ٹینشن کی وجہ سے سو نہ سکا تھا. ہمارے بچوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہمارا بہت خیال رکھا ہے. اس دوران مجھے محسوس ہوا کہ پاکستانی مشن اور معلم کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے. میری سب سے گزارش ہے کہ آپ نے اپنی ذمہ داری نبھائیں، ایک دوسرے سے تعاون کریں اور اس چیز میں سیاست نہ کریں.

مدینہ منورہ میں قیام :

masjid nabwi.jpg

وہاں سے ہم شہرِ مدینہ منورہ پہنچ گئے. سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضری دی اور بچوں کو بھی پیش کیا، سب عزیزوں کا سلام عرض کیا، کچھ کا خصوصی پیغام نام لے کر پہنچایا، کچھ راز و نیاز بھی… .ایک موقع پر جب میں روزہ رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کچھ دور کھڑے ہو کر منظر دیکھ رہا تھا اور کیفیات کو محسوس کرنے کی کوشش کر رہا تھا. میں نے دیکھا کہ لوگ کیسے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پیش کرنے کے لئے سرشاری کے عالم میں ایک دوسرے پر گر رہے تھے. یقیناً ان میں دنیاوی مالدار بھی ہوں گے لیکن اس دربار میں ہر کوئی آگے بڑھنا چاہتا تھا. اس قابل رشک منظر اور دل کی کیفیت کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے.

مدینہ میں قیام کے دوران ہمارا چھوٹا بیٹا سائڈ ٹیبل سے ٹکرا کر زخمی ہوگیا. ہم اسے لے کر فوراً باہر نکلے تو نیچے پاکستانی حکام کا اپنی گاڑی میں کہیں جانے کے لیے تیار تھے، ہمارا مسئلہ دیکھ کر فوراً پاکستانی ہسپتال میں پہنچا دیا جہاں پر بچے کو ڈاکٹر نے ٹانکا لگایا. ان سب کی مدد کے بے حد شکر گزار ہیں.

زیارات کرنے اور کھجوریں لینے کے بعد سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو الوداع کہتے ہوئے ہم واپس اپنی منزل یعنی دوحہ – قطر واپس لوٹ آئے.

پاکستانی تارکینِ وطن کی حالت زار :

taxi.jpg

مکہ کے قیام دوران وہاں مقیم پاکستانیوں کے حالات دیکھنے کا موقع ملا. بدلتی ہوئی سعودی پالیسیوں اور دگرگوں معاشی حالات کی وجہ سے لوگ بہت پریشان تھے. بالخصوص ٹیکسی ڈرائیور بمشکل گزارا کر رہے تھے اور ایک ریال گن کر کما رہے تھے. کم وبیش یہی حال چھوٹے دکان داروں کا بھی تھا. وہاں پر گئے ہوئے پاکستانی سپورٹ اسٹاف سے بھی اس موضوع پر بات چیت ہوئی اور وہ لوگ بھی یہ وقت گزار کر جلد از جلد پاکستان واپس جانا چاہتے تھے. یہ سب اتنا واضح تھا کہ اس بات کو میں یہاں بیان کئے بغیر نہ رہ سکا. اللہ تعالی سب کی مشکلیں آسان فرمائے. تارکینِ وطن کے عزیزوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے پردیسی بھائیوں کے حالات کا احساس کریں…

حج پر جانے والوں کے لئےچند مشورے :

wheel chair.jpg

سامان کم سے کم لے کر جائیں. صرف ضروری اور مخصوص دوائیاں لے کر جائیں. غیر ضروری چیزیں لے جا کر آپ خود پریشان ہوں گے. پاکستان کے حاجی کیمپ میں ملنے والا سامان سفر کیلئے کافی رہتا ہے. وہیل چئیر اگر انتہائی ضروری ہو تو پاکستان سے ہی ساتھ لے کر جائے ورنہ جیسا اوپر بتایا حرم کے مخصوص آفس سے مفت لے سکتے ہیں یا پھر ادھر ادھر پڑی ہوئی ایسی وہیل چیئر جس پر وقفالحرم لکھا ہو وہ آپ بلا جھجھک استعمال کر سکتے ہیں . کچھ پیسے زیادہ رکھ کر لے کے جائیں. کمزور افراد کی مدد کریں کریں اور ان کا حج آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں. منی١ میں قیام کے دوران فضول باتوں سے بچیں اور عبادت پر دھیان دیں. بسوں میں سوار ہوتے ہوئے دھکے نہ دیں، دیر سے پہنچنا کسی کو ایذا دے کر پہنچنے سے بہتر ہے. اسی طرح حجرِ اسود کا بوسہ لینے کیلئے بھی دھکم پیل نہ کریں اور اپنی عبادت ضائع ہونے سے بچائیں. غیر معمولی حالات کے لئے تیار رہیں اور ایک دوسرے سے ہمیشہ شائستگی سے پیش آئیں. سیلفیز اور ویڈیوز بنانے میں قیمتی وقت برباد نہ کریں. پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے باوقار انداز اپنائیں اور اپنے ملک کی نیک نامی کا باعث بنیں.

حرفِ آخر:

ہمارے والدین اور وہ تمام لوگ جن کی مدد اور کی دعائیں ہر پل ہمارے ساتھ تھیں اور وہ اصحاب جنہوں نے اس سفر میں ہماری بھرپور مدد کی خصوصاً ضرار بھائی اور ظفر بھائی بمع اہل وعیال، محترم عابد زرین صاحب اور فرخ شاہ بمع فیملی وغیرہ. اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ خوش اور آباد رکھے.

ہر صاحب حیثیت شخص جس نے حج نہیں کیا وہ آج ہی پروگرام بنا لے. اس سال کے حوش نصیبوں کو پیشگی مبارکباد اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے اور آپکی حاضری قبول فرمائے، آمین. اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمائے اور ہم سب کو بار بار اپنے دربار میں حاضری کی سعادت نصیب فرمائے آمین ثم آمین.

Advertisements
PARTY… #PAKISTANZINDABAD #52

PARTY… #PAKISTANZINDABAD #52

“Lets support the best political party in the world”
“And hold firmly to the rope of Allah all together and do not become divided”. (Sura Al-Imran,3:103)
For the past many years during Independence day a very common SMS is shared between Pakistanis viz “In 1947, a nation was searching for a country and today our country is searching for its nation”… I just can not forget that moment from August,2014 during first ‘Dharna days’ near Imran Khan’s Lahore residence where there was a canal in between the supporters of Imran Khan and Nawaz Sharif. All of them were carrying Pakistan flags and throwing stones at each other outrageously…  There is high need of finding whats went wrong in between creation of Pakistan and today’s mess!
All India Muslim league was formed in 1906 as a necessity to represent Muslims for united India against all odds and with sheer commitment, our forefathers were able to form beloved Pakistan for us. Until now, Pakistan remains a unique entity along-with Israel created on religious ideology. Unfortunately, we lost our founding father soon after independence while they were trying to set up a direction for a new born nation. Since then, we see lack of a comprehensive/visionary process to build nation.
At birth of Pakistan, there were not many political parties. Political parties started to emerge as constitution was put in place alongwith a democratic system of elections to run the country.As a result, today we see hundreds of parties having their own supporters against their rivals chanting variety of slogans all over the country. Political romances and breakups takes places as per situation and need of time.If today, 2 leaders are hugging each other; there is no guarantee of tomorrow.Similarly their supporters will either shake hands or deal with fists & kicks to the other side as per orders of their leader.
I have a firm belief that application of western democratic system in our society is a biggest mistake ever made and political parties are biggest obstacle to our national unity. I can openly challenge a happy family of 5 persons sitting on the same dinner table; if you start taking sides and supporting different parties and their leaders in your discussion; you surely will end up with outrage and argumentative fight. Such phenomenon is very much evident in daily talk shows. This is ‘jamhooriyat ka husn’ we are facing today.
Referring to a recent example when anti Pakistan speech was made by MQM chief, Pakistanis all over the world condemned it with a solid “Pakistan Zindabad” response. Pakistan Zindabad response is clearly evident whenever we win some world sport event or when faced by natural calamities like earthquake or floods. After the Peshawar APS tragedy the whole nation backed Pakistan army to achieve the incredible through operation Zab-e-Azb. Our best responses come when we act as Pakistanis.
Human beings live on earth in different groups; depending upon your intelligence/maturity level you can visualize as many sub divisions as possible. One party based on brotherhood was formed by our beloved prophet Muhammad (S.A.W.) by preaching Allah’s message to complete Islam. Religion surely was the biggest recognition and ideology at that time. Talking of today’s era, various nation states exits ,over 200 of them and there is a history attached to each nation state.
Nation states interact with each other at state diplomatic level , not on further sub division parties or tribes level. In united nations, heads of countries represent their nation as a whole not as fragments of their society. That’s how interests of a large group are being presented/defended in front of all other countries. I believe that nation states form realistic political parties representing their nations today.
Coming back to Pakistan, today we see dozens of political parties and hardly anyone of them carries a unanimous national respect. Parties in Pakistan mostly supported based on provincial, linguistic and ethnic basis. Notable individuals often form their own party to participate in so called Democratic process, forming a sub-group who feels they can bring Pakistan back on track and whose manifesto, flag and electoral sign is different from the other. Hence dividing a great nation into so many segments.
We can see intense debates on social media where supporters of one party just rips off other parties. Interestingly, when I pointed out few blunders of Imran khan on social media, one of my friend said “I have followed your posts since a long time, I know very well you are a supporter of PML(N); can’t you see what wonders Imran Khan is doing in KPK”. Believe me,it took some time after that friend was somewhat satisfied as I shared some critical posts regarding PML(N) and Nawaz Sharif. Overseas Pakistanis are considered all fans of Imran Khan and all living in Punjab are considered buddies of Nawaz Sharif. Interior Sindh’s population considered pro-PPP and generations of migrants from India are believed to be all supporters of MQM etc.
Lets take a deep breathe and imagine which party our army is working for; was it electoral democratic process that brought up GEM like General Raheel Sharif? Which party Pakistan cricket team is playing for? Which party are we representing on all International airports while carrying Green passports? Against which party our internal and external enemies working?  That single party is Pakistan. So why we further go down the hill. Is there any further need of any other flag after Green Flag? Why consider our own brothers and sisters our enemies based on Political/party affiliations?
So can’t we get rid of such things which makes us oppose each other?. Can not we stop opposing each other on party basis? Can we hold to that Party which binds us together? With a clear mind, one ideology, one identity; can we become die hard political workers of a much bigger and meaning full party that is our beloved PAKISAN!…After that its Allah’s will how he generate self cleansing process for our country…
Fellow Pakistanis must be mature enough to realize their binding forces, hold hands of each other so that we can have a different SMS during upcoming Independence days “Nation and Country stand together; NO POWER ON EARTH CAN UNDO PAKISTAN”…
“And hold firmly to the rope of Allah all together and do not become divided”. (Sura Al-Imran,3:103)
Article No.52
Please note thus article has been published on 26 August,2016 at following links:

Special cases need special attention! #51

image

Last year on 18th September 2015, my sister in Law gave birth to quintuplets(5 kids at once including 3 boys and 2 girls) in C.M.H. Sialkot-Pakistan and this news was catched by almost each news channel. The family tried to keep this news as secret but the media somehow came to know about it and almost forcefully reported this as special news story of the day. News reporters were so desperate to win the breaking news race that some news channels reported false facts and figures. For example, a news channel reported 3 girls and 2 boys but in fact they were 3 boys and 2 Girls. They named childern’s father as Atif whereas his name was Asif. They reported that father of these babies was residing in Qatar but in reality he was living in Greece.One channel even promised that they will give special gift for these children but that promise was never honored.

The whole family was so happy but as the news spread around via TV, situation was somewhat difficult to handle. Few “Bay Awlaad” random people approached  this family and requested to give away 1 baby to them. An awkward scenario was created and was difficult to avoid.

Practically speaking, having 5 kids at once can shake budget of any typical family. And the same happened with this family as well; anyhow few family individuals came up to the cause and provided their best support realizing their responsibility towards this unusual situation. Soon-after one baby boy out of 5 passed away; now 2 kids are with their mother while 2 are being raised at maternal grandmother’s home.Worthy to mention, the baby boys have lately gone through eyes treatment due to ailment. While observing the whole episode; it was so painful to see the role of media and society as a whole who took it as a juicy news story but no one thinking as to what would happen thereafter? Nobody came forward to support this blessed family.

I have a very firm belief that special children and other special cases like the one discussed above arise due  to definite reasons; as exam for normal blessed human beings like most of us. Nature tests us to how we respond to the call of duty. How well we accommodate special cases within our society. We should play best possible role within our domains so that nobody feels lonely or dejected in this world.
Surprisingly,there have been quite a few cases of multiple child births lately in Pakistan. Government, news channels and related child products companies(making diapers,clothing,toys and Milk etc) should take initiative to provide support for at-least 2-3 years as a good will gesture. Providing few hundred thousands to people in need is like peanuts in comparison to huge amounts spent on advertisements. Later, they can add this work under their publicity campaigns which would certainly encourage others to get their act together for serving society at large. Such social issue does have an opportunity of community service and well being.

Particularly speaking regarding the news channels, I strongly feel that some boundaries need to be established as regards to respecting privacy of people. Big question is that “Is just reporting a story enough or do we need to go an extra mile to issues related with a particular story?”. Media may appeal and direct suggested measures/steps to related authorities and individuals.A grand review/followup TV program could be arranged at the end of month to review status of news reported in passed month. As an practicing Engineer, whenever we highlight any issues on our project, we always come up with probable solution or options of resolution. This must be trait in all other trades as well. Why can not our media adopt similar practice?

Apart from our professional routine life roles, we have a greater part to play towards the community; and you would definitely feel on a much higher ground after considering above suggestions affirmatively.

Article No.51

Please note thus article has been published on 11th June,2016 at following links:

http://blogs.dunyanews.tv/13468/special-cases-need-special-attention/

Special Cases need Special attention!