شفاف نظام کی اہمیت: قطر میں ایمانداری کی شاندار مثال

شفاف نظام کی اہمیت: قطر میں ایمانداری کی شاندار مثال

بعض اوقات زندگی کا کوئی بظاہر معمولی واقعہ انسان کو بہت متاثر کر دیتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل دفتر میں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اس واقعے میں مجھے صرف اپنا گمشدہ بٹوا ہی واپس نہیں ملا، بلکہ ایک مضبوط نظام کی اہمیت بھی ایک نئے انداز سے سمجھ میں آ گئی۔ سبق آموزی اور قارئین کی دلچسپی کے نظریے سے میں اس واقعے کو قلم بند کر رہا ہوں ۔

دوپہر کے کھانے کا وقت تھا۔ ہم نے معمول کے مطابق ایک قریبی ریستوران سے کھانا منگوایا۔ ہمارے دفتر میں ڈیلیوری والے عموماً گراؤنڈ فلور تک آتے ہیں، جہاں سے ہم اپنا کھانا وصول کر لیتے ہیں۔

میں بھی کھانا لینے نیچے گیا۔ ادائیگی کے دوران ڈیلیوری والے کی کارڈ مشین کچھ خراب ہوگئی۔ وہ اسے دوبارہ چلانے لگا تو میں قریب موجود صوفے پر بیٹھ گیا، اپنا بٹوا سامنے رکھی میز پر رکھا اور انتظار کے دوران موبائل فون پر ایک ضروری کام مکمل کرنے لگا۔ چند لمحوں بعد کارڈ مشین دوبارہ چل پڑی۔ میں نے کارڈ سے ادائیگی کی، موبائل پر جاری کام مکمل کیا اور جلدی میں واپس اپنی سیٹ کی طرف روانہ ہوگیا۔ کھانا کھایا اور معمول کے مطابق دفتری کام میں مشغول ہو گیا اور مجھے بالکل احساس نہ ہوا کہ میرا بٹوا اسی میز پر رہ گیا ہے۔

تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے بعد ایک سیکیورٹی اہلکار میرا نام پوچھتا ہوا ہمارے فلور تک پہنچا۔ وہ میری سیٹ کے قریب آیا اور پوچھا:

“سر، کیا آپ اپنا بٹوا نیچے بھول گئے ہیں؟”

میں نے فوراً اپنی جیبیں دیکھی تو واقعی بٹوا موجود نہیں تھا۔ ایک لمحے کے لیے اپنی لاپروائی پر حیرت ہوئی، مگر ساتھ ہی اطمینان بھی ہوا کہ میری چیز محفوظ ہے۔اس بٹوے میں صرف نقد رقم ہی نہیں تھی بلکہ قطر اور پاکستان کے کئی اہم کارڈز، شناختی دستاویزات اور فیملی کی چند تصاویر بھی موجود تھیں۔ اگر بٹوا نہ ملتا تو نقصان صرف مالی نہ ہوتا؛ میں کارڈز دوبارہ بنوانے اور ضروری معاملات نمٹانے کی پریشانی میں بھی الجھ سکتا تھا۔

اہلکار نے بتایا کہ بٹوا سیکیورٹی آفس میں محفوظ ہے۔ میں فوراً وہاں پہنچا۔ ضروری کارروائی کے بعد بٹوا نہ صرف میرے حوالے کردیا گیا بلکہ مجھے ہر چیز چیک کر کے اطمینان حاصل کرنے کیلے بھی کہا گیا۔ میں نے وہیں کھڑے ہوکر اسے کھولا۔ الحمدللہ، ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی۔ نہ رقم کم تھی، نہ کوئی کارڈ غائب تھا اور نہ ہی کسی چیز کو چھیڑا گیا تھا۔

جس اہلکار نے مجھے بٹوہ واپس کیا تھا، اس نے مجھے بتا کہ آپ اے ٹی ایم مشین کے پاس موجود میز پر اسے بھول گئے تھے ،اور یہ کہ اس نے فوراً سیکیورٹی آفس میں جمع کرا دیا تاکہ اسے محفوظ طریقے سے اصل مالک تک پہنچایا جاسکے۔

میں اس کی ایمانداری سے بہت متاثر ہوا۔ بطورِ شکریہ میں نے اسے کچھ رقم دینا چاہی۔ اس نے پہلے انکار کیا، لیکن میرے اصرار پر رکھ لی۔ میں نے کہا:

“میری طرف سے چائے پی لیجیے گا۔”

میں مطمئن ہو کر سیٹ پر واپس آگیا۔ ساتھ ہی دل میں یہ ارادہ بھی کیا کہ آئندہ ایسی لاپروائی سے ضرور بچوں گا۔

لیکن اس واقعے کا زیادہ متاثر کن پہلو اگلے دن سامنے آیا۔

صبح تقریباً دس بجے سیکیورٹی آفس سے مجھے دوبارہ فون آیا۔ انہوں نے پوچھا:

“کیا آپ نے کل ہمارے ایک اہلکار کو کچھ رقم دی تھی؟”

میں نے جواب دیا کہ جی ہاں، میں نے اپنی خوشی سے دی تھی۔ میرا بٹوا بحفاظت واپس ملا تھا، اس لیے میں نے شکریے اور حوصلہ افزائی کے طور پر اسے معمولی سی رقم دی۔

سیکیورٹی افسر نے نہایت احترام سے کہا:

“ہم آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں، لیکن ہمارے ادارے کے قواعد اسٹاف کو اس نوعیت کی کوئی رقم وغیرہ قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔”

میں نے وضاحت کی کہ میری نیت صرف شکریہ ادا کرنے کی تھی۔ انہوں نے جواب دیا:

“ہمیں آپ کی نیت پر کوئی شک نہیں، لیکن اصول اپنی جگہ اصول ہے۔”

میں نے کہا کہ اگر ایسا ہی ہے تو وہ رقم مجھے واپس کردی جائے۔

چند گھنٹوں بعد جب میں اپنی سیٹ پر بھی موجود نہیں تھا، تو سیکیورٹی افسر اور وہی اہلکار مجھے ڈھونڈتے ہوئے آئے اور کسی طریقے سے مجھ تک پہنچ گئے اور انہوں نے نہایت احترام کے ساتھ وہ رقم واپس کردی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ شاید وہ کوئی بہت بڑا بوجھ اتار رہے ہوں!

اس لمحے میں نے ماتحت سیکیورٹی اہلکار کے چہرے پر ہلکی سی شرمندگی محسوس کی۔ بعد میں خود احتسابی کی نظریئے سے دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ آئندہ رقم دینے کی بجائے تشکر کا کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے ۔ بہرحال اس سارے معاملے میں کوئی بھی قصور وار نہیں تھا۔

سیکیورٹی افسر نے مجھے بتایا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلے بھی ان کا عملہ گمشدہ نقد رقم، دیگر قیمتی اشیاء حتیٰ کہ سونا بھی ان کے اصل مالکان تک پہنچا چکا ہے۔ ان کے لیے یہ کوئی غیر معمولی کارنامہ نہیں بلکہ ہماری روزمرہ کی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ یہ بات میرے دل کو بہت لگی۔

میں نے واپس آ کر اپنے ساتھی سے بھی اس واقعے کا ذکر کیا تو وہ بھی بہت متاثر ہوئے۔ اس لمحے ہمیں احساس ہوا کہ مضبوط نظام دراصل اسی کو کہتے ہیں۔ وہاں معاملہ کسی فرد کی نیت یا ذاتی صوابدید پر نہیں چھوڑا گیا تھا۔ نیت اچھی ہو یا بری، اصول سب کے لیے ایک ہی تھا۔ اس پورے واقعے میں میرے لیے سب سے اہم چیز صرف ایک فرد کی ایمانداری نہیں تھی، بلکہ وہ نظام تھا جس نے ایمانداری کو ایک باقاعدہ ثقافت اور روایت میں تبدیل کردیا تھا۔

گم شدہ چیز کو محفوظ کرنا، اس کے مالک کو تلاش کرنا، ضروری کارروائی مکمل کرنا اور حتیٰ کہ شکریے کے نام پر دی گئی رقم بھی واپس کرنا۔ یہ سب کچھ ایک واضح اور منظم طریقۂ کار کے تحت ہوا۔ یہ واقعہ قطر کی پبلک ورکس اتھارٹی ( اشغال) میں ہوا اور مجھے یقین ہے کہ دیگر اداروں میں بھی ایسا ہی کلچر قائم ہو گا۔

معاشروں کو اچھے انسانوں کے ساتھ مضبوط نظام بھی درکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی الحمدللہ بے شمار ایماندار، باکردار اور مخلص لوگ موجود ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ایسے متاثرکن واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جن میں لوگ دوسروں کی گم شدہ رقم اور قیمتی اشیاء واپس کردیتے ہیں۔ لیکن ہمیں ایسے ادارہ جاتی نظام مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جو ایمانداری کو صرف کسی فرد کی نیک نیتی پر نہ چھوڑیں، بلکہ اسے ایک اجتماعی رویے اور مستقل اصول میں تبدیل کردیں۔

قطر کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ شاید یہی ہے کہ یہاں مختلف ملکوں، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آتے ہیں، مگر ایک مضبوط نظام کے اندر رہتے ہوئے وہ ایک مشترکہ معیار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی ادارہ جاتی نظم و ضبط قطر کو دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس واقعے سے ہم ایک نتیجہ یہ بھی اخذ کر سکتے ہیں کہ اداروں کے نظام کو ایسا بنا دیا جائے کہ جس میں اچھے لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی جائے اور غلط رویے کے امکانات کو محدود کردیا جائے۔

مندرجہ بالا رویے محفوظ اور غیر محفوظ معاشروں کے درمیان بنیادی فرق پیدا کر دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ قطر کے امن، سلامتی اور ترقی کو قائم رکھے، اس ملک کی قیادت اور اس نظام کو دیانت داری سے چلانے والے تمام لوگوں کو جزائے خیر عطا فرمائے، اور ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو بھی ایسے مضبوط، شفاف اور قابلِ اعتماد نظام عطا فرمائے جن پر ہر شہری اعتماد بھی کرسکے اور فخر بھی۔

آمین۔

سلطان شاہ
الوکرہ، قطر سے

تبصرہ کریں