پاکستان کا سیاحتی سفر

پاکستان کا سیاحتی سفر

کئی سال کی پلاننگ کے بعد اس سال بالآخر ہم پاکستان میں سیاحت کے لیے نکل ہی گئے. میں بہت ہی پر جوش انداز میں 31 جولائی کو قطر سے پاکستان پہنچا. ان دنوں شدید بارشیں چل رہی تھیں لیکن الحمدللہ مجھے لاہور سے سرگودھا کے راستے میں بہت خوبصورت موسم ملا. بدقسمتی سے اسی دن موٹر سائیکل چلاتے ہوئے گرا اور بائیں بازو میں چوٹ لگ گئی . پھر بھی ہمت کر کے اگلے دن یعنی یکم اگست کو ہم سرگودھا سے اسلام آباد روانہ ہوگئے. اسلام آباد میں ہمیں میری اہلیہ کے بھائی علی نے جوائن کیا.اس موقع پر میں ، میری اہلیہ دو بچے اور علی شریکِ سفر تھے. ہم اسلام آباد سے سوات کیلئے روانہ ہوئے. سوات موٹروے پر چائے کے وقفہ کیلئے مختر قیام کیا اور مسحور کن منظر سے لطف اندوز ہوئے.

رات گئے بحرین (سوات) کے ایک ہوٹل میں قیام کیا. ہوٹل کے ساتھ بپھرا ہوا دریائے سوات دوڑ رہا تھا، اگلی صبح ہوٹل کی بالکونی سے یہ منظر دیکھنا انتہائی منفرد تجربہ تھا. تمام ہوٹلوں نے دریا کے ساتھ ہی پائپ لگا کر پانی کی فراہمی کا بندوبست کر رکھا تھا.انڈہ پراٹھہ، چنے وغیرہ کا روایتی ناشتہ کر کے ہم اپنی اگلی منزل کالام روانہ ہو گئے. ابھی نکلے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا. ایک یا غالباً دو ٹرک رک گئے تھے جس کی وجہ سے راستہ بند ہو چکا تھا اور پھر لوگوں نے بھی جلد بازی میں اپنی گاڑیاں مخالف سمت میں ڈال کر سب کو پھنسا دیا. اللہ اللہ کر کے چند متحرک لوگوں اور پولیس نے راستہ کھلوایا. راستے میں چند ایک جگہ رک کر تصویریں بنوائیں، جمعہ پڑھا اور قریباً دو بجے کالام پہنچ گئے اور ہوٹل پہنچ کر سامان رکھ دیا.

ہمارا اگلہ پوائنٹ مہوڈنڈ جھیل تھا، علی نے آناً فاناً وہاں جانے کیلئے فور وہیل گاڑی کا بندوبست کر لیا اور یوں ہم قریباً ساڑھے تین بجے روانہ ہو گئے. راستہ بہت خراب تھا اور سارا راستہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے دعائیں پڑھتے گزرا. راستے میں ‘اصلی ٹراوٹ فش’ کے ایک پوائنٹ پر ایک کلو ٹراؤٹ بنانے کا آرڈر دیا کہ ہماری واپسی تک تیار کر رکھے. مغرب سے آدھ پون گھنٹہ پہلے جھیل پہنچے، وہاں کے مناظر واقعی قدرت کا شاہکار تھے.بچوں نے ہارس رائڈنگ کی اور ہم نے خوب تصویریں بنائیں. ٹھنڈے یخ چشمے سے وضو کیا اور نماز ادا کی. مہوڈنڈ جھیل کی ٹھنڈ کے ساتھ گرما گرم چائے نے مزہ دوبالا کر دیا .

رات کی سیاہی اپنا رنگ جما رہی تھی، دیو ہیکل پہاڑ کسی پہرے دار کی مانند ایستادہ کھڑے تھے، کڑاکے دار دریا اپنے جوبن پر تھا اور ہم واپسی کیلے روانہ ہوئے. ‘اصلی ٹراؤٹ’ کا کھانا کھایا، مچھلی واقعی بہت لذیز بنی تھی. اس دن پتہ چلا کہ ٹرؤٹ کو کانٹوں سمیت بھی کھا لیتے ہیں، یہ ہمارے لئے اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا. راستے میں گاڑی کا ڈرائیور ‘عاشق حسین’ اور اگلی سیٹ پر بیٹھا علی آپس میں لمبی گفتگو میں لگے ہوئے تھے، خوش گپیوں کی شدت کے درمیان کبھی کبھی عاشق حسین سٹئیرنگ چھوڑ کر اشارے سے بات کرتے ہوئے علی کی طرف دیکھتا اور ایسے میں، میں اور میری اہلیہ خوفزدہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے.

راستے میں ہم نے دیکھا کہ مقامی بچے گزرتی گاڑیوں کے پیچھے لٹک کر جا رہے تھے، اسی طرح ایک بچہ ہماری گاڑی کے پیچھے بھی لٹک گیا. ڈرائیور نے گاڑی روک کر اسے ڈانٹا لیکن پھر ہمارے کہنے پر اسے گاڑی کے اندر بٹھا لیا. ڈرائیور نے اپنی زبان میں بچے سے کچھ باتیں کیں اور پھر ہمیں بتایا کہ یہ بچہ ابلے انڈے بیچتا ہے اور آج چار سو روپے کما کر واپس جا رہا ہے. یہ بچے اسی طرح آتی جاتی گاڑیوں کے پیچھے لٹک کر سفر کرتے ہیں. ہم یہ سوچنے لگے کہ زندگی بہت سے لوگوں پر کتنی سخت ہے اور کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں ہر طرح کی آسائش میسر ہے. میری اہلیہ نے اس بچے کو کچھ پیسےدینا چاہے تو اس نے قدرے جھجھکتے ہوئے غیر یقینی انداز میں لے لئے. بچہ راستے میں اپنے گھر پر اتر گیا.

راستے میں کئی طرح کے موضوع زیرِ بحث آئے، عاشق حسین نے قدرے محتاط انداز میں سوات کے خراب دنوں کا ذکر کیا. وہ آج کے حالات اور صورتحال سے بہت مطمئن تھا اور فخر سے بتا رہا تھا کہ آپ چاہے رات کے کسی پہر بھی باہر نکل جاؤ، کوئی آپ کو نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا. عاشق حسین نے کالام داخل ہو کر وہاں کی ساڑھے تین سو سال پرانی تاریخی قدیم مسجد دکھائی جو لکڑی کی بنی تھی اور مرکزی دروازے پر انتہائی نفیس کام ہوا دکھائی دے رہا تھا.

کالام میں رات کے وقت سرکاری اسپتال میں، میں نے اپنا علاج کروانے کی کوشش کی تو اسوقت وہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہ تھا اور سپورٹ اسٹاف کسی نا کسی طرح کام چلا رہا تھا. کوئی خاص انتظام موجود نا تھا، ان لوگوں نے مجھے انجیکشن لگانے کی پیشکش کی جو میں نے رد کر دی اور صرف پٹی کروانے پر ہی اکتفا کیا. اسی دوران ایک چھوٹی بچی وہاں لائی گئی تھی جس نے غلطی سے کیڑے مار دوا کھا لی تھی، اسکو وہاں ڈرپ لگا کر لٹایا ہوا تھا اور سب لوگوں کے چہرے اترے ہوئے تھے. سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ دیکھ بھال ممکن نا تھی. ناجانے اس بچی کا بعد میں کیا بنا ہو گا!

اگلی صبح ہم لوگ مالم جبہ کیلئے روانہ ہوئے. راستے میں جگہ جگہ روڈ کا تعمیراتی کام چل رہا تھا. راستے میں چند ایک جگہ رک کر تصویریں بنائیں. بحرین میں عصر کی نماز ادا کی اور پھر مالم جبہ کی طرف دوبارہ روانہ ہوگئے. مالم جبہ جانے والی سڑک ہماری توقع کے بر خلاف عموماً بہت اچھی تھی. راستے میں جگہ جگہ مقامی بچے سیاحتی گاڑیوں کے پیچھے پیچھے بھاگ کر تازہ ناشپاتیاں بیچنے کی کوشش کر رہے تھے. ٹاپ پر پہنچنے سے اندازاً 11 کلومیٹر قبل ہم ایک چھوٹی دکان نما ہوٹل پر رکے. دکان پر سب بچے بچے ہی موجود تھے، ہماری فرمائش پر بڑے بچے نے دودھ پتی تیار کی اور کیک بسکٹس کے ساتھ پیش کی. اس دوران بچیاں اور چھوٹے بچے شرمیلے انداز میں چھپ کر ہمیں دیکھتے رہے. ہمیں بالکل ٹی وی ڈراموں والے سین یاد آ گئے. تھوڑی ہی دیر میں ان بچوں کے نانا آ گئے اور ہمیں اپنےگھرانے کے بارے میں بتانے لگے. جب ہم نے اس سے پیسے پوچھے تو اس نے کہا کہ ُرہنے دو ٗ. بہرحال ہم نے اصرار کر کے اسے قیمت ادا کی اور انکے خلوص کی گرم جوشی لیے آگے بڑھ گئے.

ٹاپ سے کچھ پہلے کا راستہ کافی خراب تھا. ہم جب مالم جبہ چیئر لفٹ پر پہنچے تو لفٹ کا ٹائم ختم ہو گیا تھا. وہیں سے ہوٹل کرنے کیلئے واپس مڑے، رش ہونے کی وجہ سے ہوٹل روم عجلت میں بک کر لیا. مالم جبہ میں ہوٹلنگ اور کھانے کا معیار بلند کرنے کی اشد ضرورت ہے. اس سارے دورانیے میں پشتون بھائیوں کی فراخ دلی اور گرم جوشی نے بہت متاثر کیا، ان جگہوں کے لوگ بہت اچھے ہیں، آ پ ضرور ان علاقوں میں جائیے.

اگلے دن ناشتے سے فارغ ہو کر اندازاً 10 بجے ہم مالم جبہ چیئر لفٹ پوائنٹ پر پہنچ گئے، ابھی لفٹ شروع ہونے میں تھوڑا وقت تھا، ہم نے وہاں بیٹھ کر وقت گزارنا شروع کر دیا .

میں نے وہاں بیٹھ کر ذرا غور کیا تو آس پاس بہت سے مقامی بچے بکھرے تھے اور سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، کوئی ابلے انڈے بیچ رہا تھا تو کوئی ٹافیاں اور کوئی ٹورسٹ بنا ہوا تھا. اتنے سارے پھولوں کو دیکھ کر دل بہت بوجھل ہو گیا اور آنکھوں میں نمی! پڑھنے لکھنے کی عمر میں زندگی ان معصوموں سے کیا کام لے رہی تھی اور ان کے زریعے صاحبِ اقتدار اور صاحبِ استطاعت لوگوں کو کیسے آزما رہی تھی.اگر آپکو راستے میں کوئی پھول گرا ہوا نظر آجائے تو اسے اٹھا کر سائے میں رکھ دیجئے، اگر یہ نہیں کر سکتے تو اس سے کترا کر آگے بڑھ جائیں… لیکن خدارا کسی پھول کو پاؤں تلے نہ روند کر نکل جائیں…کسی کے پھولوں کو رولنے سے پہلے اپنے پھولوں کا ضرور سوچئے!

اسی دوران ایک مقامی بچے ‘شعیب اللہ’ نے ہمیں اپنی خدمات پیش کیں اور ہمیں گھمانے ایک قریبی مقام گرین ویلی لے گیا. وہ ہر کام کرنے کیلئے تیار تھا مثلاً پانی کی بوتل بھی مجھے پکڑا دو، اپنی جیکٹ بھی مجھے دے دو وغیرہ وغیرہ. شعیب الل بمشکل 8-9 سال کا بچہ تھا اور قد میں میرے 5 سالہ بڑے بیٹے سے بمشکل تھوڑا ہی بڑا تھا لیکن انتہائی مہارت سے پر پیچ راستے سے گزارتا ہوا گرین ویلی لے گیا.

گرین ویلی ایک چھوٹا سر سبز میدان تھا جہاں بچوں کیلئے جھولے اور سلائیڈز لگی ہوئی تھیں. وہاں سے واپس گیلے راستے اور کھائیوں سے بچتے بچاتے واپس آئے اور چئیر لفٹ پر سوار ہو گئے، شعیب اللہ بھی ہمارے ساتھ ہی اوپر چلا آیا.

علی اور شعیب اللہ کی بہت اچھی جم رہی تھی. کچھ لوگ اس مقام سے اور آگے سیڑھیاں چڑھ کر جا رہے تھے. ہم نے شعیب اللہ کو معاوضہ دے کر فارغ کیا، اسی دوران میں نے ایک آدمی کو مسکراتے دیکھا جو کہ بچے کو کمائی ملتے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا! اس مقام پر ہم نے خوب تصویریں بنائیں، واپس آ کر ہوٹل سے اپنا سامان اٹھایا اور واپس روانہ ہوگئے.

ہماری اگلی منزل مری تھی. راستے کی خوبصورتی انجوائے کرتے، تصویریں بناتے ہم اسلام آباد پہنچے.

علی نے ہمیں شاہ فیصل مسجد، پارلیمنٹ ہاوس اور سپریم کورٹ کی عمارتیں دکھائیں. ہم ان عمارتوں کے عین سامنے سے گزرے، سنسان سڑک پر ہو کا عالم تھا لیکن حیران کن طور پر ہمیں کسی نے نہ روکا. ہم شہرِ اقدار میں موجود تھے جہاں موجود صاحبِ اقتداروں نے ایک نظریاتی ملک کے ساتھ کیا کچھ نہیں کر ڈالا تھا.. اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمتوں کے باوجود بد نیتی، نا اہلی اور بد انتظامی کے باعث کتنے ہی لوگ اپنے گھروں سے دور غیر ممالک میں حصولِ روزگار کے لئے مجبور ہیں. اسلام کے نام پر ملک کا حصول اور پھر اپنے رب سے دھوکہ دہی، شدید وعدہ خلافیاں جنہوں نے ناجانے کنتی بے چارگیوں کو جنم دیا اور قوم کے خواب بکھیر کر رکھ دئیے…میں ان ہی سوچیوں میں گم تھا. کچھ وقت گزارنے، کھانا کھانے کے بعد ہم رات گئے مری چلے گئے.

مری میں اگلی صبح ناشتے کی میز پر ایک انتہائی معمر صاحب جن کی عمر غالباً ستر سال یا پھر کچھ زیادہ ہو گی، ان کو ٹیبلوں پر کھانا سرو کرتے ہوئے دیکھا. نا جانے کون سی مجبوری ان سے یہ کام کروا رہی تھی!

علی کے ایک دوست وقاص صاحب اپنی گاڑی میں لے کر ہمیں گھمانے نکلے. پنڈی پوائنٹ اور کشمیر پوائنٹ دیکھا اور کچھ دیر نتھیا گلی گھومے. نتھیا گلی میں عجب حسنِ اتفاق ہوا کہ دوحہ میں ہمارے ایک جاننے والے سرور صاحب سے ملاقات ہو گئی. اسکے علاوہ ایوبیہ بھی گئے.

مری کی سڑکوں پر مری کا مخصوص موسم محسوس کیا یعنی بادلوں، پہاڑوں اور درختوں کی تال میل اور بیچ بیچ میں ہلکی ہلکی بارش جو کہ ہم جیسے شہریوں کیلئے انتہائی راحت کا باعث ہوتا ہے.

دورانِ سفر ہم نے چولہے پر پکی تازہ دودھ سے بنی چائے کی تلاش کی جو نہ ملی.اس بات کا تذکرہ جب وقاص بھائی سے کیا تو انہوں نے فوراً کہا ‘ یہاں تازہ دودھ کی چائے ملنا مشکل ہے، کل میں صبح آپ کیلئے تازہ دودھ لے آؤں گا اور آپ یہاں کسی بھی ریسٹورنٹ میں دے کر چائے بنوا لیجیے گا.’ حیران کن طور پر وہ اگلے دن اپنے وعدے کے مطابق دودھ لے بھی آئے اور ہم نے بہترین چائے بنوا کر پی. شکریہ وقاص بھائی!

رات کو مشہورِ زمانہ مال روڈ گھومے اور مختصر شاپنگ کی. مری میں بھی دکان داروں کا رویہ اچھا پایا.

مری میں آخری دن ہم نے مری جی پی او میں موجود بک شاپ سے کچھ کتابیں لیں. سہ پہر کو ہم پنڈی پوائنٹ کی چیئر لفٹ گئے اور انتہائی خوبصورت مناظر انجوائے کئے. چیئر لفٹ جب اونچائی کی جانب اپنے اسٹاپ کے قریب پہنچی تو نیچے چند فوٹو گرافروں نے 100 روپے فی تصویر کی آوازیں لگائیں اور لوگوں کے حامی بھرنے پر دھڑا دھڑ تصویریں بنانے لگے اور پھر بھاگتے ہوئے اوپر اپنی شاپ پر پہنچ گئے اور لوگوں کی پسند کی تصویریں بنانے لگے. ہم نے جس لڑکے سے تصویریں بنوائیں وہ بمشکل 16-18 سال کا تھا اور اوپر پہنچ کر اسکا چہرہ لال، ماتھے پر پسینہ اور سانس پھولا ہوا تھا. واقعی کچھ لوگوں کیلئے حصولِ روزگار کتنا مشکل ہوتا ہے..

وہاں ٹاپ پر ہم نے بچوں کو ہارس رائڈنگ کروائی. میں نے دونوں بچوں کو ایک سفید گھوڑے پر سوار کروا دیا تو ایک اور گھوڑا بان جس کے پاس گہرے رنگ کا گھوڑا تھا وہ بھی آگیا اور گھڑ سواری کیلئے اصرار کرنے لگا. جب اس نے بہت اصرار کیا تو میں نے ایک بچہ اسکے گھوڑے پر بھی سوار کروا دیا. بہت دکھی لہجے میں کہنے لگا ‘صاحب یہ جو میرے پاس گھوڑا ہے یہ زیادہ اچھی نسل کا ہے پر کالا ہے لیکن لوگ نسل کا فرق نہیں سمجھتے اور سفید گھوڑا پسند کرتے ہیں ، مجھ سے بڑی غلطی ہوئی مجھے بھی سفید ہی گھوڑا لینا چاہیے تھا.’ پھر خود ہی کہنے لگا کہ جو نصیب میں رزق ہے وہ تو ضرور ملے گا. میں اسے تسلی دے کر اپنی فیملی کے ساتھ رخصت ہو گیا. کیسی کیسی داستانیں بکھری ہیں ہمارے آس پاس !

ڈھلتی شام کے وقت پنڈی پوائنٹ کی چئیر لفٹ میں سواری کرتے ہوئے قدرتی حسین جنگل کے بیچوں بیچ گزرنا، حشرات اور دیگر پرندوں کی آوازیں بہت شاندار تجربہ رہا.

مری میں بھی میں نے مرکزی سرکاری ہسپتال سے علاج کروانے کی کوشش کی. ڈاکٹر صاحب کی حالت قابلِ رحم تھی، وہ تقریباً جھوم رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ کسی بھی لمحے گرِ جائیں گے. شاید تھکن کی وجہ سے ایسا ہو یا پھر وہ تھے ہی ایسے واللہ عالم! اسوقت ہسپتال میں ایک خاتون کا ‘آپریشن’ چل رہا تھا اور اسٹاف کی بد حواس حالت بتا رہی تھی کہ ‘کیسا آپریشن’ چل رہا ہے. مجھے ڈاکٹر نے ایکسرے لکھ کر دیا اور جب میں متعلقہ جگہ پہنچا تو وقت ختم ہو گیا اور یہاں سے بھی بغیر علاج کے ہی لوٹنا پڑا.

اگست کی سات تاریخ کو مری سے واپسی ہوئی. ہم نے راولپنڈی، سرگودھا اور فیصل آباد میں مختصر قیام کیا اور وہاں سے عید کیلئے کراچی آ گئے .اس دوران احباب نے ہمیشہ کی طرح بہترین مہمان نوازی کی اور ہر طرح ساتھ دیا. اللہ تعالیٰ سب کے رزق میں برکت عطا فرمائے، آمین.

بلا شبہ سفر ایک بہترین استاد ہوتا ہے جیسا کہ چند واقعات اوپر درج کئے گئے ہیں. یہ اور اسکے علاوہ بہت سے چھوٹے چھوٹے تجربات بہت کچھ سکھا جاتے ہیں. دورانِ سفر ڈرائیوروں سے آپ کو بہت حیران کن واقعات سننے کو ملتے ہیں. پاکستان کے سیاحتی مقام بہت خوبصورت ہیں، انکو مزید ڈویلوپ کرنے کی ضرورت ہے خصوصاً روڈ کے اردگرد حفاظتی اقدامات اور موثر طبی سہولیات کی فراہمی اشد ضروری ہے. سوات کالام، مالم جبہ اور مری کا ہمارا یہ سفر بہت زبردست رہا، بالخصوص لوگوں کی سادگی اور کھلے پن نے بہت متاثر کیا. آپ کو بھی موقع ملے تو اپنا ملک ضرور گھومنے نکلیں ساتھ ہی یہ کوشش بھی کریں کہ بہت زیادہ خطرناک راستوں پر نا جائیں ، الل تعالیٰ سب کا حافظ و ناصر ہو!

Advertisements
میرا سفرِ حج

میرا سفرِ حج

‘حج 2018 بمطابق 1439 ھجری کی روداد’

اللہ تعالٰی نے مجھے اور میری فیملی کو پچھلے سال حجِ بیت اللہ کی سعادت نصیب فرمائی. میں اس روحانی تجربے کی تفصیلات آپ سب سے شیئر کرنے کیلئے بے چین تھا لیکن بے پناہ مصروفیت اور کچھ سستی کے باعث ایسا نہ ہو سکا. بہر حال اب بھی الحمدللہ اچھا وقت ہے اور اس سال کا حج بھی قریب آ رہا ہے تو امید ہے کہ ہمارے تجربات کسی کے کام آ جائیں۔

جس دن سے مجھے صحیح معنوں میں حج کی سنجیدہ نوعیت اور فرضیت کی سختی کا ادراک ہوا، اسکے بعد ایک ایک دن گزارنا مشکل ہو گیا تھا. خاص کر آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ حدیثِ مبارکہ جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ “جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان ہو اور اس کو سواری میسر ہو جو بیت اللہ تک اس کو پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو ک مرے”۔ (منقول)

سمندر پار پاکستانیوں کیلئے حج ایپلیکیشن کا کوئ واضح نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں اس ضمن میں کافی مسائل کا سامنا رہتا ہے، اس کا تفصیلی ذکر میں اپنے ایک پچھلے بلاگ میں کر چکا ہوں. تفصیل کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کریں :

https://wordpress.com/post/msultanshah.com/284

قصہ مختصر کئی کافی جدوجہد کے بعد رب کی مہربانی سے ہمارا نام سرکاری اسکیم کے تحت قرعہ اندازی میں نکل آیا.

حج سے پہلے!

حج روانگی سے پہلے نظریہ حج اور اسکے پس منظر کو سمجھنے کیلیے اپنے تئیں کافی کوشش کی. یوٹیوب پر مستند عالم دین کے لیکچر وغیرہ سنے. سرچ کے دوران اندازہ ہوا کہ طریقہء حج کے اوپر کافی مواد موجود ہے پر اسکے وسیع تر معنوں پر ٹھوس کام شائع کرنے کی بہت ضرورت ہے. اس سارے عمل کے دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات، ان کی قربانیوں اور ان کے مقام کا پہلے سے زیادہ ادراک ہوا. قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

” بے شک ابراہیمؑ اپنی ذات سے ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سو وہ کبھی مشرک نہ تھا. اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا اللہ نے اس کو منتخب کر لیا اور سیدھا راستہ دکھایا.دنیا میں اس کو بھلائی دی اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہوگا. پھر ہم نے تمہاری طرف یہ وحی بھیجی کہ یک سو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا. “( ترجمہ سورۃ النحل آیات ١٢٠-١٢٤) “

سوچ کے نئے دریچے کھلے اور زیادہ سے زیادہ حج کے معاملات کو کھوجنے کی جستجو پیدا ہوئی . روانگی سے قبل محترم مدثر بھائی نے فلسفہء حج پر ایک پرمغز نشست میں ہماری رہنمائی فرمائی. ان کا کہنا یہ تھا کہ “حج کی بھرپور تیاری کریں اور دورانِ حج مشکلات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ اختیار یعنی اطاعت اور استقامت سے کام لیں.”

جدہ روانگی:

ہمارا گروپ کل 13 افراد پر مشتمل تھا جس میں جناب ضرار بھائی اور ظفر بھائی کی فیملیز، میں، میری اہلیہ اور ہمارے دو بچے بھی شامل تھے جن کی عمریں اسوقت 4.5 اور 2.5 سال تھیں.حج سے صرف چند دن قبل ہم لوگ کراچی ائرپورٹ سے 15 اگست کی فلائٹ سے روانہ ہوئے.

Jeddah-airport

جدہ ائرپورٹ پر آمد سے لے کر سامان کی وصولی بہت آرام سے ہو گئی. سعودی حکام نے نہایت گرمجوشی سے حجاج کا استقبال کیا،ا ہم پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں. بہت سے حاجیوں نے اپنی سہولت کے لیے ایئرپورٹ پر ہی موبائل سم حاصل کر لیں. ہم رات گئے ہم اپنے ہوٹل بتحہ قریش کے علاقے میں پہنچے. وہاں پر پاکستانی معاونین نے نہایت مستعدی سے ہمیں وصول کیا. سامان کی منتقلی اور اپنے اپنے کمروں میں ہونے شفٹ ہونے میں کافی وقت لگ گیا.بالآخر سب اپنے اپنے کمروں تک پہنچ گئے. اب ہمارے لئے یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ ہمارے دونوں بچوں کا کمرہ ماں سے علیحدہ دیا گیا تھا. سامان اور بچوں کو ہینڈل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا.

بہرحال کسی نہ کسی طرح ہم اپنے پہلے عمرے کے لیے روانہ ہوئے. ہمارا خیال یہ تھا کہ بچوں کی آسانی کے لیے وہیل چیئر حرم شریف کے مخصوص سیکشن لے لیں گے لیکن اس وقت ایسا ممکن نہ ہوسکا اور سارا راستہ بچوں کو گود میں لے کر چلنا پڑا. اس معاملے میں گروپ کے ممبران نے بہت تعاون کیا کیا اور باری باری ہمارے بچوں کو اٹھا کر طواف شروع کر دیا گیا. یہ تقریباً ایک ناممکن مرحلہ تھا اور پھر وہ الفاظ میرے ذہن میں کھانا گونجے کہ “ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ یاد رکھنا” اور ذہن میں یہ بات آنے لگی آج کل کی کوئی بھی آزمائش حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش سے بڑی نہیں ہو سکتی. بس یہی سوچ کر پختہ ارادے کے ساتھ طواف جاری رکھا. غالباً تیسرے یا چوتھے چکر میں اللہ تعالی نے کرم کیا اور گروپ میں شامل ہماری ایک بہن کسی فرشتے کی مانند ایک وہیل چیئر کہیں سے لے آئیں اور ہم نے سوتے بچوں کو وہیل چیئر پر ڈال دیا کیا یوں ہمارا عمرہ باآسانی مکمل ہوگیا. اللہ تعالی محترمہ کو اس نیکی کی جزائے خیر عطا فرمائے، آمین. عمرہ سے فارغ ہوکر ہوٹل جا کر آرام کیا.

safa-marwa-1-1024x646

اب تک کے واقعات سے مجھے یہ لگ رہا تھا کہ میں نے بچوں کو ساتھ لاکر زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر لی ہے، آگے کیسے چلنا ہے، یہ سوچنے لگا. پھر وہی ہوا اللہ تعالی کی مدد بر آئی، صورت حال ایسی بدلی کہ مجھے اور میری میری فیملی کو ایک علیحدہ کمرہ بلکہ ایک اپارٹمنٹ ٹائپ بمع ہال، کچن میسر آگیا گیا اور باقی لوگ بھی اپنے اپنے حساب سے بہت اچھے سیٹل ہوگئے.

حج انتظامات:

ہوٹل کی رہائش گاہ انتہائی آرام دہ اور شاندار تھی جس میں ہر چیز موجود تھی. پاکستانی معاونین اور دیگر اسٹاف نے بہت جانفشانی کے ساتھ حاجیوں کو ہینڈل کیا اور انتہائی حد تک جاکر ہماری مدد کرتے رہے. کھانے کا انتظام بہت زبردست اور قابلِ تعریف تھا. مزیدار کھانے اپنے شیڈیول پر پیش کیے جاتے رہے. اس موقع پر ہمارے بچوں نے خوب رونق لگائے رکھی اور کھانے کے دوران ہال اور کچن کے درمیان دوڑتے بھاگتے رہے. کچن اسٹاف بھی ان سے مانوس ہوگیا اور ہر طرح ہماری ضرورت کا خیال رکھا.

car6

مسجد الحرام آنے اور جانے کے لیے ہوٹل کے باہر جدید ترین ماڈل کی بسیں ہروقت تیار کھڑی رہتی تھی. بس حاجیوں کو لے کر کدئ کے اسٹیشن پر چھوڑتی تھی اور وہاں سے شٹل سروس کے ذریعے حرم شریف جایا کرتے تھے. مسجد الحرام کے علاوہ اپنی سہولت کے مطابق نماز قریبی مسجد میں پڑھتے تھے. مسجد میں حاجیوں کی خدمت کے لئے ٹھنڈا پانی اور کھجوریں ہر وقت دستیاب تھیں. اس مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے مجھ پر جو روحانی کیفیت طاری ہوئی اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے :

“ یا اللہ تیری کتنی بڑی کرم نوازی ہے. ہے مجھ جیسی نا چیز ایک عام سے بندے کو اتنی بڑی سعادت عطا فرما دی. میں تیرا شکر کیسے ادا کروں”

اپنی کج فہمیوں اور نادانیوں کا احساس، زہن کی سکرین پر ابھرتے زندگی بھر کے مختلف واقعات, سب عزیزوں کے لئے دعائیں اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جاری و ساری لڑیاں…. ‘وہ وقت ساری زندگی کا سرمایہ بن گیا ہے’ .

حج سے پہلے:

حج کا وقت قریب آچکا تھا اس لئے سب لوگ حج کی تیاریاں کرنے میں مصروف ہوگئے. اس دوران میں نے یہ محسوس کیا کیا کہ وہاں ہر حاجی کو کسی نہ کسی چیلنج کا سامنا تھا. کسی کو لفٹ استعمال کرنا نہیں آرہی تھی، کسی سے سعودی سم ایکٹو نہیں ہو پا رہی تھی. کوئی اپنا انٹرنیٹ کنکشن نہیں کر پا رہا تھا اور کوئی اپنے گروپ میں ‘اسپیشل کیس’ ہینڈل کرنے میں لگا ہوا تھا. غرض یہ کہ تقریبا آئیڈیل انتظامات کے باوجود ایک نان آئیڈیل صورتحال درپیش تھی.ہم نےاپنے آپ کو آنے والے حج کے دورانیے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا شروع کردیا. میں نے ہوٹل لابی میں لگے تمام لئے نوٹس پڑھ ڈالے اور بچوں کی حفاظت کے لئے مختلف پلان بناتا رہا. ہمارے روم کے برابر میں پاکستان حج مشن کے ایریا فوڈ انچارج جناب فاروق صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ مقیم تھے تھے. وہ لوگ اپنے اپنے مقررہ وقت میں کام سرانجام دینے کے بعد کمرے میں آرام کیلئے تشریف لاتے تھے. فاروق صاحب بہت محبت سے پیش آئے اور حج کے حوالے سے بہت اچھی ٹپس دیں.

حج کے دن:

Mina-tents

8 ذوالحج علی الصبح ہوٹل سے بسیں حاجیوں کو لے کر منی١ روانہ ہوگئیں. سعودی عرب نے دنیا بھر کے حاجیوں کے لیے اپنے بازو کھول دیے۔ دل دھڑکتے دلوں کے ساتھ لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے ہم منی١ میں اپنے خیموں تک جا پہنچے۔ ہمارا مکتب نمبر نمبر 87 تھا اور اسی کے خیموں میں جاکر ہم مقیم ہوگئے اور ناشتہ کیا۔ منی١ جانے سے پہلے پاکستانی انتظامیہ نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ حج کے پانچ دنوں میں ہم سب متعلقہ مکتب اور معلم کی ذمہ داری پر ہوں گے. ”اس بات کا مطلب آنے والے دنوں میں ہمیں اچھی طرح سمجھ میں آگیا”۔

خیموں میں شدید ترین بدنظمی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ معلم کا کوئی نمائندہ اپنے آفس میں موجود نہ تھا۔کچن سے جیسے تیسے کھانے کی سپلائی جاری تھی۔ ہماری اطلاعات کے مطابق کچھ مقامی پاکستانیوں نے بھی مفت میں خیموں کا رخ کیا اور بعض نے تو کچن پر حملہ بھی کر دیا اور کھانے کو لوٹا۔اسی وجہ سے کئی مواقع پر حاجیوں کو کھانا مل نہ سکا۔ خیمے میں چند جانے پہچانے چہرے بھی نظر آئے، یہ دراصل ہماری بلڈنگ کے اندر سروس دینے والے لوگ تھے جو کہ احرام باندھ کر ہمارے ساتھ ہی خیمہ زن ہو گئے تھے ۔ اب ظاہر ہے کہ انتظام تو صرف پاکستان سے آئے حاجیوں کیلئے تھا لیکن باہر کے لوگوں کے آنے سے انتظام خراب ہو گیا. اسی وجہ سے چند معصوم حاجیوں کو رستوں میں یا پھر گھس گھسا کر بہت تکلیف میں گزارا کرنا پڑا۔

8 ذوالحج کا دن بہت گرم رہا اور شام کو اچانک تیز ہوائیں چلنا شروع ہوگئی اور خیمہ ہلنا شروع ہوگیا. یہ شاید قدرت کا پہلا امتحان تھا ،بہرکیف یہ طوفان بھی گزر گیا۔

اگلی صبح نو ذوالحج یومِ عرفات کے دن منی١ سے عرفات جانا بھی کافی مشکل ثابت ہوا۔ آس پاس دوسرے ممالک کے خیمے تھے ان کی بسیں آتی جا رہی تھی اور اپنے حاجی لے کر جا تی جا رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اگر کوئی بس نہیں آرہی تو وہ مکتب 87 کی بس تھی۔ مکتب 84 والوں کا حال بھی لگ بھگ ہمارے جیسا ہی تھا۔ بڑی مشکل سے تقریبا ساڑھے دس بجے کے بعد ہماری بسیں آنا شروع ہوئیں ۔ اس موقع پر عجیب نفسانفسی کا عالم دیکھنے کو ملا۔ میرے ساتھ اس وقت میری اہلیہ، میرے دو بچے طلحہ بھائی اور گروپ کی دیگر دو بہنیں موجود تھے۔ طلحہ بھائی ان دنوں زخمی حالت میں فریکچر بازو کے ساتھ ہے۔ اس کمزور گروپ کے ساتھ بس پر سوار ہونا شدید رش میں تقریباً ناممکن دکھائی دے رہا تھا کیونکہ ایک تو بسیں بہت کم تھیں اور اگر آ بھی رہی تھیں تو ان پر لوگ دھاوا بول کر سوار ہو رہے تھے۔ غرض یہ کہ تپتی دھوپ میں ہم لوگ اِدھر سے اُدھر کوشش کرتے کرتے اپنے خیمے کے عقب میں موجود ایک بڑے سے پل کے نیچے جا پہنچے۔ ایک پیارا کسرتی جسم والا بھائی جو ہمیں نوٹ کر رہا تھا وہ میرے پاس آیا اور بولا: “بھائی آپ فکر نہ کریں، میں اور میرے ساتھی آپ لوگوں کو سوار کرواتے ہیں۔ میں بس کا مرکزی دروازہ سنبھالوں گا اور آپ لوگ چڑھ جائیے گا”۔ اس بھائی اور اسکے ساتھیوں کے لیے بھی ڈھیروں دعائیں جس نے ہماری مدد کرنے کی بہت کوشش کی، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ بسیں آنا بند ہوگئیں، تقریبا ساڑھے گیارہ بجے کے قریب۔ میں نے جب ذرا غور کیا تو باقی رہ جانے والوں میں سب کمزور لوگ تھے، بہت درد ناک اور معاشرتی صورتحال کی عکاسی کرتا منظر تھا۔ وہیل چیئرز پر بیٹھے ہوئے بزرگ افراد ایسی فیملیز جن میں خواتین زیادہ تھیں جو سوار نہ ہو سکیں اور باقی ایسے ہی کچھ اور چہرے۔ اسی اثناء میں مجھے پانی لینے کے لیے خیمے کے اندر جانے کا اتفاق ہوا، وہاں وہیل چیئر پر بیٹھے چند بزرگ حضرات اور ان کے ساتھ چند نوجوانوں کو دیکھا جو انتہائی پرسکون انداز میں بہت باوقار طریقے سے عرفات جانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ اُنہیں دیکھ کر رشک بھی آیا اور ہمت بھی بندھی۔ سعودی انتظامیہ بقیہ لوگوں کو نکالنے کیلئے سر توڑ کوشش کر رہی تھی، فضا می ہیلی کاپٹر صورتحال کا جائزہ لے رہے تھے. آخر کار چند آخری سرکاری بسوں میں سے ایک بس میں ہم بھی سوال ہو ہی گئے. اس بس میں زیادہ تر بھائیوں کا تعلق بنگلہ دیش تھا، ان کا جوش اور ولولہ کا قابلِ دید تھا۔ منی١ سے عرفات کے جس سفر کے بارے میں ہم نے سنا تھا کہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے وہ سفر فراٹے لیتی ہماری بس نے بمشکل بیس منٹ میں طے کر لیا اور ہمیں میدانِ عرفات کے ایک مقام پر لے جا کر چھوڑ دیا۔ وہاں ہم ایک مسجد کے باہر جا کر بیٹھ گئے اور اللہ تعالی کے خصوصی فضل و کرم سے نہایت آرام کے ساتھ کے نشر ہوتا ہوا ‘خطبہء حج’ سنا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جو لوگ ہم سے بہت پہلے نکل گئے تھے، وہ راستے میں رش میں پھسنے کی وجہ سے خطبہ نہ سن سکے۔ ہم جہاں بیٹھے تھے وہاں آس پاس میں کھانے پینے کی اشیاء کے بہت سے کنٹینر کھڑے ہوئے تھے تھے. ہمیں وہاں بیٹھے بٹھائے انواع و اقسام کے کھانے کھلائے گئے، خصوصاً ایک سعودی فیملی نے تو مہمان نوازی کی انتہا کردی۔ اس دن جہاں حاجی گرمی اور انجان جگہ میں حالات کی وجہ سے پریشان تھے وہاں پر سعودیوں اور دیگر میزبانوں نے ایثار کی انتہا کردی۔ اس دن گرمی اتنی زیادہ تھی میں نے پانی کی تقریباً 25- 20 بوتلیں پی لی ہوںگی۔ یومِ عرفات جیسا جاہ و جلال والا دن میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔

1412331039340_wps_60_Muslim_pilgrims_gather_at

کچھ دیر بعد ہم اپنے بچوں کو لے کر عرفات میں قائم پاکستانی کیمپ کی طرف روانہ ہوئے. دوپہر سے لے کر مغرب تک دعاؤں کی قبولیت کا مخصوص وقت ہوتا ہے اور اس وقت میں ہم فاصلہ طے کر رہے تھے۔ ایک خیال یہ آیا جس وقت کا ساری زندگی انتظار کرتے رہے وہ آیا ہے تو ہم دعا بھی ٹھیک سے نہیں مانگ پا رہے ہیں ۔ان ہی خیالات کے ساتھ بالآخر پاکستانی کیمپ میں اپنے گروپ سے جا ملے۔

ہمیشہ کی طرح اللہ تعالیٰ نے پھر کرم فرمایا اور ہمارے بچے گہری نیند سو گئے. ہم سب نے نے کھڑے ہو کر دعائیں مانگنا شروع کر دی. اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ وقت تھم سا گیا ہو. جتنی دعائیں یاد تھیں سب دو دو دفعہ مانگنے کے بعد بھی وقت باقی تھا جیسے سوہنا رب اپنے غلاموں سے سے کہہ رہا ہوں” مانگو جو مانگنا ہے”. وقت میں ایسی حیران کن برکت کبھی محسوس نہیں ہوئی. اس دوران اردگرد ایسا روح پرور ماحول بن گیا جس میں سب حاجی آنسوؤں کے ساتھ اپنی اپنی عرضیاں لیے اپنے مالک کے سامنے کھڑے تھے. اس منظر کو دیکھتے ہوئے منہ سے بے اختیار نکلا ” یا اللہ اِن سب کا حج قبول فرما ہم سب کی حاضری قبول فرما”.

شام ڈھلے ہم اپنے گروپ کے ساتھ پرائیویٹ بس میں سوار ہو کر اپنی اگلی منزل یعنی مزدلفہ کی جانب روانہ ہوئے. وہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کیں. فاصلہ طے کرتے ہوئے منی١ سے کچھ پہلے فٹ پاتھ پر پڑاؤ ڈالا اور اپنی اپنی چٹائیوں پر سو گئے. عجب عالم تھا وہ بھی، نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز. کیا بڑا کیا چھوٹا سب کھلے آسمان تلے بغیر کسی جھجک کے آرام سے سو رہے تھے.

optimized-rituals-of-hajj-muzdalifa

اگلے دن یعنی 10 ذوالحج علاصبح ہم مزدلفہ سے پیدل واپس منی١ اپنے خیمے پہنچے. کچھ دیر آرام کے بعد جمرات جا کر شیطان کو کنکریاں ماریں. اس کے بعد شام کو قربانی کے بعد سر منڈوا کر احرام کھول دیا. اگلی صبح طواف زیارہ فجر کے بعد شروع کرنے کی کوشش میں لگے اور ظہر کے بعد کہیں جا کر مکمل کرلیا. وہاں سے پھر منی١ اور رمی جمرات. اگلے دن آخی رمی کے بعد اپنے ہوٹل جا پہنچے.

اس دورانیے میں سعودی حکومت کے شاندار انتظامات کا مشاہدہ کیا خاص کر سیکورٹی والوں کا ذمہ دارانہ رویہ قابلِ تعریف ہے. گرم موسم میں حاجیوں پر ٹھنڈے پانی کا اسپرے کیا جا رہا تھا. راستوں میں تقریباً پرفیکٹ انتظامات جس میں کھانے پینے کے ریسٹورنٹ, موبائل ریچارج کی سہولیات اور قربانی کے بوتھ قابلِ ذکر ہیں.

قیام منی١ اور دورانِ حج کے مشاہدات :

منی١ کیمپ میں کچھ حاجیوں کی جانب سے بھی لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ دیکھنے کو ملا. وضو خانے پر رش ہوتا تھا تو کولر پر بیٹھ کر پینے کے ٹھنڈے پانی ی سے ہی وضو شروع کر دیتے تھے. باہر کے لوگوں اور کھانے کی چھینا جھپٹی کا تذکرہ تو پہلے ہی ہوچکا ہے.

مکتب کے لیول پر بہت مایوس کن صورتحال تھی. معلم کا کا نمائندہ صرف ایک ہی بار نظر آیا اور حاجیوں نے جیسے تیسے گزارا کیا. پاکستانی معاونین بھی خال خال نظر آئے، حج کے دن تو کوئی بھی نہیں نظر آیا کیونکہ سب اپنا حج کرنے لگ گئے تھے . بعد میں پتہ چلا کہ پاکستانی حج مشن پر تعینات ہوئے تقریباً سب لوگوں نے اپنا حج بھی کیا ہے. پاکستانی حاجی دربدر خوار ہوتے رہے. ٹیکسی والے منہ مانگی قیمتیں وصول کرتے رہے. عام دنوں میں جو کرایہ 20-15 ریال ہوتا تھا وہ 75-150 ریال لیا گیا کچھ مواقع پر لوگوں کو دو سو ریال میں سفر کرنا پڑا. جن لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے انہوں نے لمبے لمبے سفر پیدل طے کیے اور بعد ازاں کچھ بزرگ افراد زخموں پر پٹی کے ساتھ خیموں میں نظر آئے. ہمارے لئے یہ زندگی کا عظیم ترین سفر تھا لیکن کاروباری مقاصد کے لیے یہ ایک سیزن اور بزنس اپارچونٹی تھی،جنہوں نے حاجیوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا. مقامی لڑکوں نے حرم کے اندر مجبور حاجیوں کے ساتھ عجب کھیل کھیلا. وقفاالحرم وہیل چئیرز جو حرم میں حاجیوں کے لیے مفت میں مختص تھیں انہیں ہتھیاکر 500 ریال تک مانگتے رہے.ہم نے خود دو بار 200 ریال دے کر ویل چیئر بچوں کے لئے حاصل کی. جیسے جیسے جیب ہلکی ہوتی گئی، حاجیوں کی پریشانی بھی بڑھتی گئی .پاکستان سے جانے والوں کو گھر سے کچھ پیسے اندازہ سے بھی زیادہ لے کر جانے چاہئیں. حرم میں صفا مروہ کے پیچھے وہیل چئیر کے لئے ایک مخصوص آفس ہے، ابو جہل کا جہاں گھر تھا اور آج بیت الخلا موجود ہیں. وہاں سے وہیل چیئر مفت لے سکتے ہیں، موقع پرست لٹیروں سے بچیں جو حرم کے اندر دو نمبری کرتے ہیں. یہی موقع ہے آپ مجبوروں کی مدد کریں، طاقتور افراد کمزوروں کا ساتھ دیں تو ہر کسی کی مشکلات کم ہو سکتی ہیں.

حج کے بعد اپنے سفری معاملات کے سلسلے پاکستان حج مشن آفس العزیزیہ جانے کا موقع ملا, وہاں جا کر بہت تکلیف دہ مناظر دیکھلنے کو ملے. لے. وہی پیارے بھائی جنہوں نے حاجیوں کے لیے دن رات ایک کر دئیے تھے, وہی بھائی سر منڈائے، سر پر ٹوپی پہنے، شرمندہ شرمندہ نظریں جھکائے لوگوں کی کھری کھری باتیں سن رہے تھے اور اپنی تاویلیں پیش کر رہے تھے. بھئی اس مسئلہ کو حل کریں، پاکستانی معاونین کام چھوڑ کر اپنا حج شروع کردیں گے تو حاجیوں کی مدد کون کرے گا؟ بہانہ یہ بنایا جاتا ہے کہ حج کے دنوں میں ذمہ داری معلم کی ہے. ہمیں کیا پتہ سعودی کمپنی یا معلم کا، ہم تو آپ کو جانتے ہیں. بہت ہیں ہی آسان سی بات ہے، معاونین حج کی سب سے زیادہ ضرورت دورانِ حج ہوتی ہے اور اگر آپ اسی اس دوران ہی موجود نہیں ہوں گے تو آپ کے وہاں جانے کا کیا فائدہ؟ معلم کے ساتھ آپکو رابطہ میں رہنا چاہیے اور ہمہ وقت خیموں میں اور دیگر جگہوں پر موجود ہونا چاہیے تاکہ اپنے حاجیوں کی مدد کر سکیں اور ان کے مسائل حل کر سکیں. نہایت افسوس کے ساتھ ہم نے اس چیز کا مشاہدہ کیا ہے کہ آپ نے اپنی ساری محنت پر ایک بنیادی غلطی کرکے خود ہی پانی پھیر دیا یا اور ثواب کی جگہ گناہ کے امکانات پیدا کر لئے. حاجی جن پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہوئے ان کی تفصیلات اکٹھا کرنا بھی ممکن نہیں ہے . پاکستانی معاونینِ حج بشمول اعلی حکام اور سپورٹ اسٹاف سب اپنا اپنا حج کر رہے تھے. جس کی وجہ سے بہت بڑا خلا پیدا ہوا اور حاجی دربدر خوار ہوتے رہے. حج صرف صاحبِ حیثیت پر فرض ہے. آپ وہاں حج سپورٹ کی حیثیت سے گئے ہیں نہ کہ حج ادا کرنے. مندرجہ بالا کام کر کے نہ صرف آپ نے اپنی ذمہ داریوں سے ناانصافی کی بلکہ مستحق حاجیوں کیلئے باعثِ تکلیف بنے ورنہ شرمندگی کی کوئی وجہ نہیں بنتی. میں نے بعد میں اس موضوع پر کافی اسٹاف لوگوں سے بات کی لیکن سب آئیں بائیں شائیں گول مول جواب دیتے رہے، کسی نے صاف اور سیدھی بات نہ کی. پاکستانی حج منسٹری کو اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے. افسوس ہماری قوم میں ابھی اتنی اخلاقی پختگی نہیں ہے کہ وہ خود احتسابی کرتے ہوئے ایسے کام ہی نہ کرے.

حج کے بعد کے ایام :

لوگوں کا غصہ آہستہ آہستہ کچھ ٹھنڈا ہوا تو نارمل روٹین دوبارہ شروع ہوگیا اور بہترین انتظامات دوبارہ بحال ہو گئے. حرم شریف حاضری اور زیارتیں وغیرہ. ہمیں مکہ میوزیم دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا.

ہمارے گروپ کے زیادہ تر لوگ پہلے ہی مدینہ اور پھر فائنل منزلوں پر نکل گئے. مدینہ روانگی سے قبل ہم نے یکم ستمبر کو کافی وقت معلم کے دفتر میں گزارا. معلم کے دفترکا انچارج کافی مناسب ذمہ دار آدمی معلوم ہو رہا تھا. کئی راتوں سے ٹینشن کی وجہ سے سو نہ سکا تھا. ہمارے بچوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہمارا بہت خیال رکھا ہے. اس دوران مجھے محسوس ہوا کہ پاکستانی مشن اور معلم کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے. میری سب سے گزارش ہے کہ آپ نے اپنی اپنی ذمہ داری نبھائیں، ایک دوسرے سے تعاون کریں اور اس چیز میں سیاست نہ کریں.

مدینہ منورہ میں قیام :

4b58af4e8c571319759ce054d9f3acee

وہاں سے ہم شہرِ مدینہ منورہ پہنچ گئے. سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضری دی اور بچوں کو بھی پیش کیا، سب عزیزوں کا سلام عرض کیا، کچھ کا خصوصی پیغام نام لے کر پہنچایا اور کچھ راز و نیاز بھی… .ایک موقع پر جب میں روزہء رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کچھ دور کھڑے ہو کر منظر دیکھ رہا تھا اور کیفیات کو محسوس کرنے کی کوشش کر رہا تھا. میں نے دیکھا کہ لوگ کیسے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پیش کرنے کے لئے سرشاری کے عالم میں ایک دوسرے پر گر رہے تھے. یقیناً ان میں دنیاوی مالدار بھی ہوں گے لیکن اس دربار میں ہر کوئی آگے بڑھنا چاہتا تھا. اس قابل رشک منظر اور دل کی کیفیت کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے.

مدینہ میں قیام کے دوران ہمارا چھوٹا بیٹا سائڈ ٹیبل سے ٹکرا کر زخمی ہوگیا. ہم اسے لے کر فوراً باہر نکلے تو نیچے پاکستانی حکام کا اپنی گاڑی میں کہیں جانے کے لیے تیار تھے، ہمارا مسئلہ دیکھ کر فوراً پاکستانی ہسپتال میں پہنچا دیا جہاں پر بچے کو ڈاکٹر نے ٹانکا لگایا. ان سب کی مدد کے بے حد شکر گزار ہیں.

زیارات کرنے اور کھجوریں لینے کے بعد اپنے سپریم لیڈر سرورِ کونین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو الوداع کہتے ہوئے ہم واپس اپنی منزل یعنی دوحہ – قطر واپس لوٹ آئے.

پاکستانی تارکینِ وطن کی حالت زار :

umrah-taxi-5

مکہ کے قیام دوران وہاں مقیم پاکستانیوں کے حالات دیکھنے کا موقع ملا. بدلتی ہوئی سعودی پالیسیوں اور دگرگوں معاشی حالات کی وجہ سے لوگ بہت پریشان تھے. بالخصوص ٹیکسی ڈرائیور بمشکل گزارا کر رہے تھے اور ایک ایک ریال گن کر کما رہے تھے. کم وبیش یہی حال چھوٹے دکان داروں کا بھی تھا. وہاں پر گئے ہوئے پاکستانی سپورٹ اسٹاف سے بھی اس موضوع پر بات چیت ہوئی اور وہ لوگ بھی یہ وقت گزار کر جلد از جلد پاکستان واپس جانا چاہتے تھے. یہ سب اتنا واضح تھا کہ اس بات کو میں یہاں بیان کئے بغیر نہ رہ سکا. اللہ تعالی سب کی مشکلیں آسان فرمائے، آمین. تارکینِ وطن کے عزیزوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے پردیسی بھائیوں کے حالات کا احساس کریں…

حج پر جانے والوں کے لئےچند مشورے :

150418149759a7fcf97768d

سامان کم سے کم لے کر جائیں. صرف ضروری اور مخصوص دوائیاں لے کر جائیں. غیر ضروری چیزیں لے جا کر آپ خود پریشان ہوں گے. پاکستان کے حاجی کیمپ کی مارکیٹ میں ملنے والا سامان سفر کیلئے کافی رہتا ہے. وہیل چئیر اگر انتہائی ضروری ہو تو پاکستان سے ہی ساتھ لے کر جائے ورنہ جیسا اوپر بتایا گیا حرم کے مخصوص آفس سے مفت لے سکتے ہیں یا پھر ادھر ادھر پڑی ہوئی ایسی وہیل چیئر جس پر وقفالحرم لکھا ہو وہ آپ بلا جھجھک استعمال کر سکتے ہیں . کچھ پیسے زیادہ رکھ کر لے کے جائیں. کمزور افراد کی مدد کریں کریں اور ان کا حج آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں. منی١ میں قیام کے دوران فضول باتوں سے بچیں اور عبادت پر دیہان دیں. بسوں میں سوار ہوتے ہوئے دھکے نہ دیں، دیر سے پہنچنا کسی کو ایذا دے کر پہنچنے سے بہتر ہے. اسی طرح حجرِ اسود کا بوسہ لینے کیلئے بھی دھکم پیل نہ کریں اور اپنی عبادت ضائع ہونے سے بچائیں. غیر معمولی حالات کے لئے تیار رہیں اور ایک دوسرے سے ہمیشہ شائستگی سے پیش آئیں. سیلفیز اور ویڈیوز بنانے میں قیمتی وقت برباد نہ کریں. پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے باوقار انداز اپنائیں اور اپنے ملک کی نیک نامی کا باعث بنیں.

حرفِ آخر:

ہمارے والدین اور وہ تمام لوگ جن کی مدد اور کی دعائیں ہر پل ہمارے ساتھ تھیں اور وہ اصحاب جنہوں نے اس سفر میں ہماری بھرپور مدد کی خصوصاً ضرار بھائی اور ظفر بھائی بمع اہل وعیال، محترم عابد زرین صاحب اور فرخ شاہ بمع فیملی وغیرہ. اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ خوش اور آباد رکھے.

ہر صاحب حیثیت شخص جس نے حج نہیں کیا وہ آج ہی پروگرام بنا لے. اس سال کے خوش نصیبوں کو پیشگی مبارکباد اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے اور آپکی حاضری قبول فرمائے، آمین. اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمائے اور ہم سب کو بار بار اپنے دربار میں حاضری کی سعادت نصیب فرمائے آمین ثم آمین.

Article No.

Note: This Article has also been published at following:

میرا سفر حج

 

“Conventional society and free Social Media”

“Conventional society and free Social Media”

Neither everything is meant to be shared nor everyone deserve to know everything about you…Specially your personal life!!!

We human beings live among various social circles. The closest blood relationships with parents, our siblings then relatives, neighbors and acquaintances, class fellows and work fellows as well. As a matter of fact, our behavior/attitude within each of our social circle is different; the level of closeness, esteem and frankness varies from one group to the other. Not everything could be commonly shared between these social circles. Our maturity level and treatment to various people also gets advanced with age. Whereas Social media keeps everyone at the same level giving the equal opportunities to all without the distinctions just explained, everyone is a ‘friend’ on social media. In my humble opinion, there can never be such a separation of our relationships levels on social media due to its domain, which is an un-natural thing.

Social media has revolutionized the process of human interaction and wonders can happen with a touch of finger. In our daily lives today, we often give references of events encountered on the social media posts and discussions undergone on various topics. Whole world can look into what you have shared and what are your views. However, most of us are not very good in setting up our privacy up to reasonable extent thus live vulnerable online life. Therefore, the amount of damage is immeasurable due to unintended mistakes. Even if you setup privacy, you can never be sure of how far your activities may reach!

Today, we share our social gatherings with friends and families. We cannot travel without sharing updated status, we have to tell the whole world what food we are eating, where and with whom to digest it properly. All of this is meaningless to many others but they have access to all our personal activities. What is the need of showing your new house or expansive car to the whole world? What about those who cannot afford to travel, or eat such expansive food. Why post fake smiles, who are we making fool?

Most crucial part comes in when people share their family lives. Is there really a need of sharing wedding pictures of you and your extended family with everyone? Sharing honeymoon travel and pictures, is it obligatory? Personal relationships between Husband and wife are an extremely private thing; today why people forget this and share private pictures and emotions openly. Above all, facing various questions even from irrelevant persons about your personal life, which could be avoided if you had use the sharing buttons wisely. Are likes that much important to us? I am unable to understand why people expose their life partners to the whole world. One of the issues of sharing too much can be that you are providing people with chances to comment on your personal lives. When you are sharing your happy lives openly, bear in mind that the factor of “Nazr-e-Badd”/ jealousy also comes into play as a bitter reality.

One related thing that comes into mind is that free-mixing was never that easy before which now has new dimensions. Even stranger Male and Females can add each other, talk freely; you can see anyone personal pictures and videos as they upload their stories. Often same people in real life claim to be preserving to strangers and obeying veil while on street; they should think for a second that their pictures and videos can also damage their modesty and could go in hands the exploiters. Up to 1990’s it was considered an out of world thing to get a picture or number of girls but now both things are available on fingertips. Have the moral values of society changed altogether?

That reticence/parda between our various social circles is very important and should be kept in mind while doing anything on social media. I know many of wise people who are very selective in what they share and some do not share even a single-family picture on social media channels. Some people have even left this online world to live a content life with their family. Technology has given us chances to keep our things more private such as sharing the personal items within relevant groups through WhatsApp messenger, which is far better than sharing it openly and loudly on Facebook, Instagram or Twitter.

My sincere suggestion to all is that please think many times before you share. Do not expose yourself too much because you never know real intentions of others; please do not become a joke. Although Facebook has introduced blocking options but I have experience that this is not helpful all the time because all of your contacts would not have applied same filters. The media entices you to share your feelings and you can become a prey anytime to share un-necessary items. It easy to share but it’s almost difficult to wipe out our your web footprint. Preserving our cultural values should be an integral part of our efforts for a safe future.

Note:

This article has been published at the following links:

Conventional Society And Free Social Media

Article No.61

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Pakistan Visit, 2017 

Pakistan Visit, 2017 

                                                          From diaries of an expat

After living about Nine years abroad, I recently finished yet another annual visit to Pakistan and as usual it left many impressions.

Meeting a Stranger, route to Karachi
I landed in Lahore from Doha and right away my next destination was Sargodha. In Daewoo Bus, a man sitting next to me gave me his British visa rejection letter (written in English) to tell him translation. The main highlights of that letter were:

• The man was declared a Lawyer with a certain monthly income in his visa application but his bank account transactions record was a bit suspicious for British embassy.
• British embassy was doubtful about how he would mange his living during his stay and showed their concern that he would slip inside UK as illegal immigrant.
• Any future visa application with similar application was most likely to be rejected.

I explained him about the idea of letter and he nodded his head in reply. He was termed Lawyer in the letter, so l was thinking why a qualified person would ask anyone for translation of a letter. Soon I found out that the document processor only showed him as lawyer which he was not in reality. By conversation I found out that, he was Desperate to get out of country by hook or by crook. He gave examples of his brother and other acquaintances who made impressive progress after getting abroad. I said “ What wonders a person would do abroad if he could not anything here in Pakistan”. He replied “A man would do anything abroad, we all have dreams for our children”. He was repeating that “There must be some wisdom from Allah(S.W.T) and I will find my way outside as I am trying my best” but the amazing aspect was that he was not concerned about the deception/fudging in papers at all. To avoid guilt afterwards, I conveyed the importance of avoiding foul play but with very less use. Fraud and Tawakkul side by side, Ahhh. He went on his own way and me on my own at the Bus station…

From Sargodha, I went to Faisalabad for a 1 day brief stay. I found unusual support for the ex-prime minister Nawaz Sharif who was on roads during that time. I was so surprised to see a complete difference in opinion where all issues related to him & his rally were somehow given favored shape by his supporters.

I had booked my tickets via Pakistan railways mobile application few weeks back, a good facility for train travelers. Journey from Faisalabad to Karachi through Karakoram Express was as smooth as a whistle. Hat’s off to railways management, keep doing good work.

Winning a Lucky Draw
Only after few days of stay in Karachi I received a phone call in which a person verified me my full name with NIC and mobile number and gave me good news of winning a Toyota 2017 GLi model. This was due to purchase of Sundar foods item during last year and filling a lucky draw form, back of the mind I was thinking I never filled such form. Anyhow, he further explained their presence in Pakistan forwarded me an sms asking to contact their manager within 3 days to claim my car. I never contacted them and they never came back thereafter. Why an Organization giving away such an expansive prize was unable to deliver it at my doorstep, a definite scam attempt spot-on exactly during my Pakistan visit.

Karachi, city of Garbage

garbage

City of lights is now city of Garbage. I was most of time roaming around in Landhi-Korangi area. Most roads and streets were flooded with Sewage water, which become worst during raintimes; everywhere on the outskirts, garbage was present.  The shortest journey of 1.5 kms from my home to Babaer market was occupied with two dangerous ditches filled with sewerage water, vehicles had to slow down and proceed through the notched area and Motorcyclists were almost sure to get some dirt on their clothes.

Me and my wife somehow managed to survive and  passed through reasonable health condition but Kids were severely effected due to all the filth around. I had to make at least 10 visits to nearby Awadh Hospital. Awadh’s staff was also amazed at our situation and frequent visits/issues.

System is not working I Karachi. Governments sweepers and Garbage is scarce. Most areas are having privately managed garbage pickers. Even they get absent very often stopped by Party walay. What would Kachra Politics give to smart politicians?? ”Party Walay and Establishment” are two strange terms I am unable to fully understand since my childhood.

Heavy Rainfalls

rainfall

I saw perhaps the biggest Lightening and Thunderstorm during this visit. It was a contrast situation when it was raining. The residents of new houses were enjoying inside their cozy setups while the inmates of low levels houses were throwing water out with the help of buckets. There was no issues inside my new house but this difference of situation hit me quite deep down as I recalled my school days when me and my family had to do the same to throw water out of our home to save out appliances and other households. Above all cruel realities, innocent children were running from here to there in the street making a lot of fun and enjoying the rain time.

A night before EID when it was last heaviest rainfall of the stretch, I was in the Babar market for monthly shopping with family. It started raining when we were in the middle of the market. As we made our way out, water was flowing like a river. No Rickshaw or Taxi was ready to drop us, there were dozens people sorting out how to escape this situation. At last, I decided to move on my bike. I was quite confident on my Super Power 70 CC bike which once saved my in a similar situation from Defence to Landhi; but that time I was alone…I managed to start my bike but biggest problem was ponded water on road under which the uneven road and open manholes were hidden and you never knew what’s going to happened next. I switched ON all of my senses and followed the wheel path of vehicles ahead of me. Occasional thunder , heavy rain, haphazard traffic, wife and 2 kids doing their own things and above all all unseen and unexpected hazards ahead; it was one of scariest ride. At last we reached our home crossing all dangerous waters and/or rain mixed with sewage water with a fear factor of some broken live electricity wire…

K-Electric
In our area, scheduled load shedding is being practiced but during my visit K-electric showed all its hidden talent to us. Some days were normal load shedding, some days unexpected breakdown. A day was amazingly free of load shedding. There were shocks of 2-3 brief switch-offs on Eid’s 2nd day. Our old house which is vacant these days was labeled as “ Kunda Use along meter” on the Bill and I cannot explain amount of pain felt due to this thing as we have never done such a thing. Whose problem is to make fully recovery and avoid losses? What about those honest users who never steal electricity but face load shedding due to losses in their area? Such discriminant behavior must end soon!

Qurbani
I decided to only go to Mandi one day before EID and so was materialized when we moved from our home to Bhains Colony for Jaanwar Purchase. We were 7 people and got onto a messed up open to sky Suzuki. Cloudy weather and uneven roads made it like an adventurous Safari ride. Market rates were down due to rainfalls and we manged to purchase escape goats on reasonable prices. Qurbani was smooth, we cousins and family did justice with numerous goats on the day upto 2:00 pm before getting too tired. Area was free from any fear of snatching animal skin. Relevant people were gathering remains of animals. The painful thing was to do Qurbani in between sewage waters as gutters were overflowing everywhere. Young boys spent a lot of time in visiting Mandi, puchasing animals and taking care of them right till the end. They had to provide security Guard services too for the animals at night.

Government must make big slaughter houses to avoid hygienic issues emerging after the Qurbani. The Festivity, activities and mess Qurbani practiced in Pakistan is perhaps the one of its kind in the whole world. You can not imagine anyone doing private Qurbani at their homes elsewhere…

End of Trip
On last day, we attended a decent ceremony of Bismillah and Ameen of kids arranged by our cousin and his family. Similar to all passed years, I was once again saying good bye to loved ones with some cheerful memories sensing some unsaid words in their eyes, leaving some undone tasks; leaving my beloved country…

Whether I am back to reality or have I left reality; I do not know at this stage. Pakistan Zindabad, Hamehsa!

Note:

Article No:59

This Blog has also been published at following links:

https://www.pakpositive.com/pakistanibloggers/impressions-of-visiting-pakistan-after-9-years-abroad-t2222.html

http://www.zemtv.com/2017/09/20/pakistan-visit-2017/
 

Champions Trophy 2017, Yet another fairytale in Pakistan’s Cricket

Champions Trophy 2017, Yet another fairytale in Pakistan’s Cricket

                                      An account of a famous win and way forward…

Pakistanis were so jubilant and swamped with the occasion that none of us wanted end of victorious mood; just fancy this fervor continues for ever… Everyone had a story to tell about celebrations of this victory over India. The same night, we (here in Doha-Qatar) also went for Sehri Treat in a Pakistani restaurant named Punjab restaurant and witnessed an awesome atmosphere. Big screen was showing Pakistani channels presenting stats of final match and you could well hear commentary from each table. A large group of about 30-35 people were especially out there having party time. Giggles, itching here and there poking each other with some meaningful jokes enjoying Pakistan’s victory. Smiling for no reason! We could well see that people belonging to almost all provinces were present there united under the cause of cricket. This is a very special thing related with sport of cricket. It’s a rare sight seen after the Pakistan’s triumph of World T20 in 2009.

pakistan-final-celebrate-after-winning-champions-trophy_2a72ed9e-544e-11e7-869c-505e32be9126

Miraculous Phenomenon!

When our team started playing as a unit, you could easily see the unseen forces working in our favor. Rain rescued our weak batting lineup against South-Africa. Sarfaraz survived 2 dropped catches in a must win against Sri-Lanka where it was almost over for our team. Famous NO ball by Bumrah and Fakhar Zaman got a new life to post a maiden TON. Then Muhammad Hafeez’s stumps got in tact despite being hit by the ball. Allah (SWT) helped when team got united and put all their efforts for winning matches in holy month of Ramzan. And they were humble enough to recognize this unseen phenomenon thanking first Almighty Allah and then explaining all formal tactics and strategies behind their performances. What a sight it was for Pakistani fans and cricket lovers all over the world to see unpredictable team Pakistan, emerging from lowest ranking and shaking confidence of best teams of the world.

jasprit-bumrah-twitter_806x605_71497880907

Humble Boys!

A very unique aspect of this young Pakistani team is the simplicity and innocence displayed by players including the captain. No attitude, no arrogance! Short interesting videos started erupting from the very next day and still continuing. They respectfully entertained all the spectators greeting them at all places and were seen with their old friends. Captain came out of his home to gift his cricket shirt to a blind special child, we saw his simple wear and Ulti Topi. Sarfaraz kept on praising his boys wherever he went, that’s a sign of a true leader. Rumman Raees was spotted assisting common people on a street Iftari organized in some old area of Karachi. Hassan Ali celebrating with people of Gujranwala, land of Pehalwans now introduced as hometown of a hardworking fast bowler. Fakhar Zaman enjoying a causual full dressed Shalwar Qameez bath in a canal with his friends. Shadab Khan hugged by a random passionate fan at a petrol station and this boy respected elder person giving all due time to speak whatever he wanted to say. All of this is in itself a big delight to watch. Hoping that such attention and fame shall not get on to their minds and they do not get too much carried away. I wish they all remain the same even after gathering more success in future.

20sarfraz-1

Our Amir is Back!

A day before Final match, just randomly I was thinking who could be a match winner for Pakistan in this match. Muhammad Amir was the one name which came into my mind and I tweeted as:

And what an amazing day he had, picking up 3 big players of India. This effort and his excellent batting effort in the game against Sri-Lanka may well be regarded as his complete return to international cricket. He is one of lucky people who played crucial roles in Pakistan’s win in World T20, 2009 and Champions Trophy, 2017. Best wishes to Muhammad Amir from this point, may you have a long, clean and successful career for Pakistan.

mohammad-amir-1

Amir, Junaid Khan, Hafeez, Babar Azam and others should also get attention of people and media for their efforts.

Merit, Merit & just Merit

After the first lost against India, it was an amazing turnaround for Pakistan team especially in the fielding department. The way all players were backing up each other and marshaled by Sarfaraz was just awesome. It was a rare sight for an ever suffering Pakistani supporter. Runs they stopped and amazing catches they took were exciting for spectators around the world. They played as a unit! You can not have this thing when there are issues within the team or when some villain is doing his own politics. Within 3 days gap to final, Amir Sohail’s viral statement shocked all of us. Whether we accept it or not, the useless Karachi-Lahore or Karachi-Punjab divide is often seen in Pakistan’s cricket.  But the good thing was that Ex-players like Wasim Akram & Basit Ali came to rescue our boys with their positive messages. The special thing in this Champions trophy is the overwhelming response from all corners. Whole Pakistan owned this team throughout series of events.

Good cricketing facilities should be provided all over the country and Deserving talented players to be given fair chance because if you do not give them chance, favoritism will doom everything because there is no replacement for merit. I would request that anything that happened in past should be buried and national team to be selected on merit and supported from all cricketers regardless of their belonging to any city or region. That’s the only way forward!

Fawad-Alam-propose

Role of Pakistan Super League

To be honest, one should give due credit to all people who were involved in organizing Pakistan Super League (PSL) from which we got some exciting players. PSL franchise owners also seem to be passionate about the cause. Like Karachi Kings, other teams should also arrange Talent hunt camps within their regions and present talented players at PSL stage. I suggest few more teams like Hyderabad, Faisalabad & Sialkot etc should be added to PSL. A final topping to PSL; Cricket team named ‘Kashmir’ representing whole Kashmir valley must be added in PSL.

There is no doubt that India has played a big role in bringing our cricket down. We can also not forget how Pakistani players were humiliated during action in the initial versions of Indian Premier League (IPL). That later led to formation of PSL and now we got talented players who beat India in the Champions trophy final. I would strongly suggest, Pakistani cricketers should never be permitted from our side to play in IPL and we must strive to make PSL a world’s leading cricket league with innovations and Pakistani talent in action.

Future Steps

Winning the Champions trophy is not the end of achievements, it’s just a beginning. Lot of things needs to be fixed within our cricketing system. PCB should not be running under government ruling, it needs to be an autonomous body. Reforms should be made to Domestic structure, sponsors should be invited and attractive atmosphere to be created for public viewing. School and college cricket should be revived as a campaign enticing our young generation to spend more time on ground activities rather to be engaged to social media all the time. We always had a weak and vulnerable batting lineup. I am of a belief that it is due to lack of big play grounds, children play in streets and constrained environment with local rules of street cricket so batsmen cannot play their shots freely. Another reason is expansive kit for batsmen and majority of us are happy in bowling rather than exploring our batting skills. So, some serious measures need to be taken to produce quality batsmen with good techniques, power hitters in particular.

It was so romantic to see Pakistan team overcoming their fears and play like Tigers. I hope all of us are mature enough to capitalize on success from this point onwards. Thank you team Pakistan for giving us MOKA MOKA & providing unforgettable moments of joy…

Article No. 58

Please note that this Article has been published at following websites:

https://www.pakpositive.com/pakistanibloggers/celebrating-champions-trophy-2017-in-qatar-t2206.html

Destructive topics in Pakistani Dramas!

Destructive topics in Pakistani Dramas!

“Reviewing current trend of unhealthy topics like Divorce and invitation for producing healthy dramas with strong topics!!!”
In my school days, there was a scenario in a drama named ‘Ye Zindagi’ featuring Nauman Aijaz and Mah Noor Baloch. After a brisk love marriage, the couple broke up soon after; however, after realizing this fatal mistake the husband suggested “Halalah” to his ex-wife. This was a new term for me and straight away I asked my father “Dad what is this Halalah?”. My father somehow handled my question and told that was just nothing…Remember, that time was almost ending period of golden Pakistani dramas. Indian dramas soon captured our market for quite a significant amount of time during early 2000’s. Pakistani drama then fought back its way lately and even influenced the Indian market due to some good dramas. This was indeed a good feeling for seasoned viewers of Pakistani dramas.
It has been noticed that our dramas are yet again falling behind of topics as most of the stories are circulating around the marriage issue of loving man and woman. These are filmed in very sophisticated locations/ homes but the inmates are displaying ultimate immoral attitude and filthy family politics. I have noticed that relationship of husband–wife in many current dramas is shown in complicated status which ends up in Divorce. The scene of fight and shooting 3 words of Talaq are shown often as if it’s a very normal thing and part of our society.

I can certainly recall that during my childhood days’, divorce was never too often discussed within sections of society but with the passage of time and influence of abundantly produced dramas; Divorce has become a very common topic. Remember this is most unlikeable Halal act in Islam. We can see the impacts of showing/discussing this topic as the lives of many media celebrities are very unstable and also the rate of divorce is rising within society. Young innocent minds are definitely catching up this and can practice it very well in their practical life without realizing the real consequences. The environment in which you live your life counts a lot for you and watching such topics certainly makes their place in sub-conscious of mind and can get you in such a situation where a minor conflict can result in fatal event of Divorce.Stop-Separation-and-Divorce-Problems

We have to be responsible in protecting this noble institution of marriage by influencing positive topics to flourish this relationship. Instead of complicated Husband-Wife relationships, why can’t we cover strong bond and examples of how they supported each other during times of financial crisis or in case of severe health problems? Every other day, we can see highlights of many brilliant stories of common Pakistanis on various social media platforms like “Humans of Pakistan”; we can make many dramas out of them. I cannot forget fantastic pictures/stories covered by Brandon Stenton of “Humans of New York” while he visited Pakistan back in 2015. Why not glorify our enthusiastic and most resilient people instead of showing cunning stories of disgrace and betrayal between them?

14877388940o-indian-family-facebook

Read More: HONY in Pakistan
https://msultanshah.com/2015/08/24/humans-of-new-york-restored-faith-in-humans-of-pakistan/

There are hundreds of genuine topics speared in the society including life cycle of overseas expatriate people and their families back home. Topics related with various ongoing army operations and their effects on related people.  Topics related to the success stories of un-known heroes may well be covered as pay back to them; this would certainly inspire others. We can cover lives of our forgotten heroes (and living heroes) from education, science, arts, armed forces and sports. Dramas can be made covering issues related with special children and their status in the society. Media can cover conditions of people related with various organizations such as Pakistan railways, PIA, Sui-Gas and private media itself to make people realize efforts and issues related to them and better understand their lives. Above all, on the education and training side; topics covering the ideology of Pakistan depicting true goals for which Pakistan was created must be shown as a national duty.
TV channels can invite and appreciate young authors for getting fresh out of the box stories. I am certain that different and genuine topics shall definitely grab more audience and shall certainly be equally or even more successful in the monetary terms as well. We can certainly work our way towards improving society by taking such steps.
Let’s realize the important of topics covered in our dramas and take a first step today!

Article No. 56:

This article has been published at following:

“TIP” that sinks the Ship! #55

“TIP” that sinks the Ship! #55

“Despite of doing justice with work &caring for quality of service,often certain workers solely work for fetching extra money from clients”… 

There is trend in Qatar for giving away amounts of money to people involved with low paid jobs like taxi drivers,waiters, cleaners and barbers etc at the end of receiving their service. Usually these people do not ask their clients; they provide adequate service and its up to the customer to either give something additional or just go away.I have bad experienceat Barber shops where there is visible pressure of giving some TIP amount. After hair cutting or shave, they start to give un-necessary elongated final touches and also starts massage without asking. The customer usually getscompelled with this and gives some TIP thereafter. After roaming around and seeing lot of disturbing people, I settled with one barber who had just one bad habit i.e rather than deducting amount as per charge rate; he used to return change for the money note given by the customer asking them to give amount oftheir own will. Anyhow, I managed togo along with him after taking promise that he will deduct exact price of service and giving TIP would solely be on my discretion and I just forbid them to carry out massage after hair cut…

In 2014, we found a very gentle and seemingly holy lift operator on the Lahore Airport who started giving a lot of prayers and well wishes to me and my family. His style & voice were so touching and it seemed that his prayers were something special of us; I peculiarly gave him Rs.100. “What a nice man, I feel personally connected with him” I told my wife. Interesting after having lunchwe were returning close to the same lift again when we saw that same man blessing another family in a similar tone and affection. “Ahh so this was a professional thing not anything personal” we thought!

A recent journey enticed me to write this article. I had a chance of extensive traveling from Qatar to Pakistan and then back within about 30 hours and observed many faces of this forced TIP thing. Airport taxi service was having a tight schedule the day I reached Karachi and I had to take a yellow cab who overcharged by taking Rs. 950 and I had to go in a very bad conditioned taxi; so there was no question of any TIP. On the same day I went to Lahore and took a taxi from airport to Daewoo Bus stop. Driver was a sleepy,fat,seemingly lazy but witty character who recounted types of services he could provide including private travel between the cities of Punjab. At the end of journey, further to telling Rs100 extra (which ultimately was rectified by me) with respect to mileage he refused to accept Rs.50 TIP, he insisted on Rs.100 as according to him was a usual and must thing. I somehow managed to get rid of him giving away Rs.100.I had around 1 hour of waiting time at Daewoo stop’s waiting area; whenI used washroom, cleaner there was doing the similar duty i.e. offering toprovide special care to customers enticing for as much TIP as possibleAs I left washroom/ablution place, he presented Tissue Paper box like waiter style and honored me with a attentive army styled salute and obtained well deserved Rs.20. Daewoo travel from Lahore to Sargodha was a great one indeed commanded by a fine hostess who was in total control of proceedings and carried out a wonderful jobI specially thanked her for great effort. I again had to travel back within 2 hours but performance of  the hostess this time was nowhere near to the former one. “Doing justice with your duty is really scarce” I thought! Then I went to Lahore airport for finally traveling to Doha-Qatar; 2 converse examples were waiting for me there. After our baggage screening, while we went to the officer doing baggage inquiry. He asked about amount of money we had in our pockets to keep by Pakistani rule of maximum amount of money while on the move. “ I hardly have Rs. 1000-1200 and wife likewise”. “Alright open thatbag” he asked and while I was about to bring my bag he said “Why would you take so much headache,leave it Sir jee give us Rs.400-500 and go ahead”. This was something unexpected for me but I insisted to him to do his work and said” I am already short of cash and can not give you money”. “Alright then open your bag” he remarked and as I carried my bag down, he left us without checking. As we moved towards the Check-in counter, my wife saw him doing similar things with other customers as well. Authorities must check such black sheeps who do not obey their duties and leave the baggage without checking for Rs. 500 only or so. We can very well judge the opposite situation at foreign good airports where they treat families as preference and do not keep an eye on their pockets like this. Thereafter, when we went to the Polio Vaccination counter, we found a very nicely behaved gentleman who gave me a good advice as per his past experience to make vaccination certificate for myself despite of not staying for a month or more in Pakistan.

As per my experience/understanding, people would still continue giveaways to people involved with such jobs as we have majority of kind hearted customers understanding financial constraints involved with low-paid class. But having such behavior of fetching maximum out of the customer’s pocket and treating client as per expected amount of TIP wastes whole effort and ultimately loose goodwill of clients. Instead of pleasing the customer, such people become a headache for them and ultimately earning disrespect for their profession.

One of the main thing to curtail such behavior is that companies should take care of their employees maintaining rational wage standards and government must also take some measures to flourish balance in society. Various job related training programs can be arranged and moral training for on job behavior should be arranged for a pleasant dealing with customers. A well trained individual deserves to charge as per his/her standard and would certainly not be interested to pump extra payment. People complaining about bad reputation of particular professions should take a note of such teasing behavior which infiltrates earnings with dubiety.  

Article No. 55:

This article has been published at following:

http://www.pakistankakhudahafiz.com/blogs/tip-sinks-ship/