پاکستان کا سیاحتی سفر

پاکستان کا سیاحتی سفر

کئی سال کی پلاننگ کے بعد اس سال بالآخر ہم پاکستان میں سیاحت کے لیے نکل ہی گئے. میں بہت ہی پر جوش انداز میں 31 جولائی کو قطر سے پاکستان پہنچا. ان دنوں شدید بارشیں چل رہی تھیں لیکن الحمدللہ مجھے لاہور سے سرگودھا کے راستے میں بہت خوبصورت موسم ملا. بدقسمتی سے اسی دن موٹر سائیکل چلاتے ہوئے گرا اور بائیں بازو میں چوٹ لگ گئی . پھر بھی ہمت کر کے اگلے دن یعنی یکم اگست کو ہم سرگودھا سے اسلام آباد روانہ ہوگئے. اسلام آباد میں ہمیں میری اہلیہ کے بھائی علی نے جوائن کیا.اس موقع پر میں ، میری اہلیہ دو بچے اور علی شریکِ سفر تھے. ہم اسلام آباد سے سوات کیلئے روانہ ہوئے. سوات موٹروے پر چائے کے وقفہ کیلئے مختر قیام کیا اور مسحور کن منظر سے لطف اندوز ہوئے.

رات گئے بحرین (سوات) کے ایک ہوٹل میں قیام کیا. ہوٹل کے ساتھ بپھرا ہوا دریائے سوات دوڑ رہا تھا، اگلی صبح ہوٹل کی بالکونی سے یہ منظر دیکھنا انتہائی منفرد تجربہ تھا. تمام ہوٹلوں نے دریا کے ساتھ ہی پائپ لگا کر پانی کی فراہمی کا بندوبست کر رکھا تھا.انڈہ پراٹھہ، چنے وغیرہ کا روایتی ناشتہ کر کے ہم اپنی اگلی منزل کالام روانہ ہو گئے. ابھی نکلے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا. ایک یا غالباً دو ٹرک رک گئے تھے جس کی وجہ سے راستہ بند ہو چکا تھا اور پھر لوگوں نے بھی جلد بازی میں اپنی گاڑیاں مخالف سمت میں ڈال کر سب کو پھنسا دیا. اللہ اللہ کر کے چند متحرک لوگوں اور پولیس نے راستہ کھلوایا. راستے میں چند ایک جگہ رک کر تصویریں بنوائیں، جمعہ پڑھا اور قریباً دو بجے کالام پہنچ گئے اور ہوٹل پہنچ کر سامان رکھ دیا.

ہمارا اگلہ پوائنٹ مہوڈنڈ جھیل تھا، علی نے آناً فاناً وہاں جانے کیلئے فور وہیل گاڑی کا بندوبست کر لیا اور یوں ہم قریباً ساڑھے تین بجے روانہ ہو گئے. راستہ بہت خراب تھا اور سارا راستہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے دعائیں پڑھتے گزرا. راستے میں ‘اصلی ٹراوٹ فش’ کے ایک پوائنٹ پر ایک کلو ٹراؤٹ بنانے کا آرڈر دیا کہ ہماری واپسی تک تیار کر رکھے. مغرب سے آدھ پون گھنٹہ پہلے جھیل پہنچے، وہاں کے مناظر واقعی قدرت کا شاہکار تھے.بچوں نے ہارس رائڈنگ کی اور ہم نے خوب تصویریں بنائیں. ٹھنڈے یخ چشمے سے وضو کیا اور نماز ادا کی. مہوڈنڈ جھیل کی ٹھنڈ کے ساتھ گرما گرم چائے نے مزہ دوبالا کر دیا .

رات کی سیاہی اپنا رنگ جما رہی تھی، دیو ہیکل پہاڑ کسی پہرے دار کی مانند ایستادہ کھڑے تھے، کڑاکے دار دریا اپنے جوبن پر تھا اور ہم واپسی کیلے روانہ ہوئے. ‘اصلی ٹراؤٹ’ کا کھانا کھایا، مچھلی واقعی بہت لذیز بنی تھی. اس دن پتہ چلا کہ ٹرؤٹ کو کانٹوں سمیت بھی کھا لیتے ہیں، یہ ہمارے لئے اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا. راستے میں گاڑی کا ڈرائیور ‘عاشق حسین’ اور اگلی سیٹ پر بیٹھا علی آپس میں لمبی گفتگو میں لگے ہوئے تھے، خوش گپیوں کی شدت کے درمیان کبھی کبھی عاشق حسین سٹئیرنگ چھوڑ کر اشارے سے بات کرتے ہوئے علی کی طرف دیکھتا اور ایسے میں، میں اور میری اہلیہ خوفزدہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے.

راستے میں ہم نے دیکھا کہ مقامی بچے گزرتی گاڑیوں کے پیچھے لٹک کر جا رہے تھے، اسی طرح ایک بچہ ہماری گاڑی کے پیچھے بھی لٹک گیا. ڈرائیور نے گاڑی روک کر اسے ڈانٹا لیکن پھر ہمارے کہنے پر اسے گاڑی کے اندر بٹھا لیا. ڈرائیور نے اپنی زبان میں بچے سے کچھ باتیں کیں اور پھر ہمیں بتایا کہ یہ بچہ ابلے انڈے بیچتا ہے اور آج چار سو روپے کما کر واپس جا رہا ہے. یہ بچے اسی طرح آتی جاتی گاڑیوں کے پیچھے لٹک کر سفر کرتے ہیں. ہم یہ سوچنے لگے کہ زندگی بہت سے لوگوں پر کتنی سخت ہے اور کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں ہر طرح کی آسائش میسر ہے. میری اہلیہ نے اس بچے کو کچھ پیسےدینا چاہے تو اس نے قدرے جھجھکتے ہوئے غیر یقینی انداز میں لے لئے. بچہ راستے میں اپنے گھر پر اتر گیا.

راستے میں کئی طرح کے موضوع زیرِ بحث آئے، عاشق حسین نے قدرے محتاط انداز میں سوات کے خراب دنوں کا ذکر کیا. وہ آج کے حالات اور صورتحال سے بہت مطمئن تھا اور فخر سے بتا رہا تھا کہ آپ چاہے رات کے کسی پہر بھی باہر نکل جاؤ، کوئی آپ کو نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا. عاشق حسین نے کالام داخل ہو کر وہاں کی ساڑھے تین سو سال پرانی تاریخی قدیم مسجد دکھائی جو لکڑی کی بنی تھی اور مرکزی دروازے پر انتہائی نفیس کام ہوا دکھائی دے رہا تھا.

کالام میں رات کے وقت سرکاری اسپتال میں، میں نے اپنا علاج کروانے کی کوشش کی تو اسوقت وہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہ تھا اور سپورٹ اسٹاف کسی نا کسی طرح کام چلا رہا تھا. کوئی خاص انتظام موجود نا تھا، ان لوگوں نے مجھے انجیکشن لگانے کی پیشکش کی جو میں نے رد کر دی اور صرف پٹی کروانے پر ہی اکتفا کیا. اسی دوران ایک چھوٹی بچی وہاں لائی گئی تھی جس نے غلطی سے کیڑے مار دوا کھا لی تھی، اسکو وہاں ڈرپ لگا کر لٹایا ہوا تھا اور سب لوگوں کے چہرے اترے ہوئے تھے. سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ دیکھ بھال ممکن نا تھی. ناجانے اس بچی کا بعد میں کیا بنا ہو گا!

اگلی صبح ہم لوگ مالم جبہ کیلئے روانہ ہوئے. راستے میں جگہ جگہ روڈ کا تعمیراتی کام چل رہا تھا. راستے میں چند ایک جگہ رک کر تصویریں بنائیں. بحرین میں عصر کی نماز ادا کی اور پھر مالم جبہ کی طرف دوبارہ روانہ ہوگئے. مالم جبہ جانے والی سڑک ہماری توقع کے بر خلاف عموماً بہت اچھی تھی. راستے میں جگہ جگہ مقامی بچے سیاحتی گاڑیوں کے پیچھے پیچھے بھاگ کر تازہ ناشپاتیاں بیچنے کی کوشش کر رہے تھے. ٹاپ پر پہنچنے سے اندازاً 11 کلومیٹر قبل ہم ایک چھوٹی دکان نما ہوٹل پر رکے. دکان پر سب بچے بچے ہی موجود تھے، ہماری فرمائش پر بڑے بچے نے دودھ پتی تیار کی اور کیک بسکٹس کے ساتھ پیش کی. اس دوران بچیاں اور چھوٹے بچے شرمیلے انداز میں چھپ کر ہمیں دیکھتے رہے. ہمیں بالکل ٹی وی ڈراموں والے سین یاد آ گئے. تھوڑی ہی دیر میں ان بچوں کے نانا آ گئے اور ہمیں اپنےگھرانے کے بارے میں بتانے لگے. جب ہم نے اس سے پیسے پوچھے تو اس نے کہا کہ ُرہنے دو ٗ. بہرحال ہم نے اصرار کر کے اسے قیمت ادا کی اور انکے خلوص کی گرم جوشی لیے آگے بڑھ گئے.

ٹاپ سے کچھ پہلے کا راستہ کافی خراب تھا. ہم جب مالم جبہ چیئر لفٹ پر پہنچے تو لفٹ کا ٹائم ختم ہو گیا تھا. وہیں سے ہوٹل کرنے کیلئے واپس مڑے، رش ہونے کی وجہ سے ہوٹل روم عجلت میں بک کر لیا. مالم جبہ میں ہوٹلنگ اور کھانے کا معیار بلند کرنے کی اشد ضرورت ہے. اس سارے دورانیے میں پشتون بھائیوں کی فراخ دلی اور گرم جوشی نے بہت متاثر کیا، ان جگہوں کے لوگ بہت اچھے ہیں، آ پ ضرور ان علاقوں میں جائیے.

اگلے دن ناشتے سے فارغ ہو کر اندازاً 10 بجے ہم مالم جبہ چیئر لفٹ پوائنٹ پر پہنچ گئے، ابھی لفٹ شروع ہونے میں تھوڑا وقت تھا، ہم نے وہاں بیٹھ کر وقت گزارنا شروع کر دیا .

میں نے وہاں بیٹھ کر ذرا غور کیا تو آس پاس بہت سے مقامی بچے بکھرے تھے اور سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، کوئی ابلے انڈے بیچ رہا تھا تو کوئی ٹافیاں اور کوئی ٹورسٹ بنا ہوا تھا. اتنے سارے پھولوں کو دیکھ کر دل بہت بوجھل ہو گیا اور آنکھوں میں نمی! پڑھنے لکھنے کی عمر میں زندگی ان معصوموں سے کیا کام لے رہی تھی اور ان کے زریعے صاحبِ اقتدار اور صاحبِ استطاعت لوگوں کو کیسے آزما رہی تھی.اگر آپکو راستے میں کوئی پھول گرا ہوا نظر آجائے تو اسے اٹھا کر سائے میں رکھ دیجئے، اگر یہ نہیں کر سکتے تو اس سے کترا کر آگے بڑھ جائیں… لیکن خدارا کسی پھول کو پاؤں تلے نہ روند کر نکل جائیں…کسی کے پھولوں کو رولنے سے پہلے اپنے پھولوں کا ضرور سوچئے!

اسی دوران ایک مقامی بچے ‘شعیب اللہ’ نے ہمیں اپنی خدمات پیش کیں اور ہمیں گھمانے ایک قریبی مقام گرین ویلی لے گیا. وہ ہر کام کرنے کیلئے تیار تھا مثلاً پانی کی بوتل بھی مجھے پکڑا دو، اپنی جیکٹ بھی مجھے دے دو وغیرہ وغیرہ. شعیب الل بمشکل 8-9 سال کا بچہ تھا اور قد میں میرے 5 سالہ بڑے بیٹے سے بمشکل تھوڑا ہی بڑا تھا لیکن انتہائی مہارت سے پر پیچ راستے سے گزارتا ہوا گرین ویلی لے گیا.

گرین ویلی ایک چھوٹا سر سبز میدان تھا جہاں بچوں کیلئے جھولے اور سلائیڈز لگی ہوئی تھیں. وہاں سے واپس گیلے راستے اور کھائیوں سے بچتے بچاتے واپس آئے اور چئیر لفٹ پر سوار ہو گئے، شعیب اللہ بھی ہمارے ساتھ ہی اوپر چلا آیا.

علی اور شعیب اللہ کی بہت اچھی جم رہی تھی. کچھ لوگ اس مقام سے اور آگے سیڑھیاں چڑھ کر جا رہے تھے. ہم نے شعیب اللہ کو معاوضہ دے کر فارغ کیا، اسی دوران میں نے ایک آدمی کو مسکراتے دیکھا جو کہ بچے کو کمائی ملتے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا! اس مقام پر ہم نے خوب تصویریں بنائیں، واپس آ کر ہوٹل سے اپنا سامان اٹھایا اور واپس روانہ ہوگئے.

ہماری اگلی منزل مری تھی. راستے کی خوبصورتی انجوائے کرتے، تصویریں بناتے ہم اسلام آباد پہنچے.

علی نے ہمیں شاہ فیصل مسجد، پارلیمنٹ ہاوس اور سپریم کورٹ کی عمارتیں دکھائیں. ہم ان عمارتوں کے عین سامنے سے گزرے، سنسان سڑک پر ہو کا عالم تھا لیکن حیران کن طور پر ہمیں کسی نے نہ روکا. ہم شہرِ اقدار میں موجود تھے جہاں موجود صاحبِ اقتداروں نے ایک نظریاتی ملک کے ساتھ کیا کچھ نہیں کر ڈالا تھا.. اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمتوں کے باوجود بد نیتی، نا اہلی اور بد انتظامی کے باعث کتنے ہی لوگ اپنے گھروں سے دور غیر ممالک میں حصولِ روزگار کے لئے مجبور ہیں. اسلام کے نام پر ملک کا حصول اور پھر اپنے رب سے دھوکہ دہی، شدید وعدہ خلافیاں جنہوں نے ناجانے کنتی بے چارگیوں کو جنم دیا اور قوم کے خواب بکھیر کر رکھ دئیے…میں ان ہی سوچیوں میں گم تھا. کچھ وقت گزارنے، کھانا کھانے کے بعد ہم رات گئے مری چلے گئے.

مری میں اگلی صبح ناشتے کی میز پر ایک انتہائی معمر صاحب جن کی عمر غالباً ستر سال یا پھر کچھ زیادہ ہو گی، ان کو ٹیبلوں پر کھانا سرو کرتے ہوئے دیکھا. نا جانے کون سی مجبوری ان سے یہ کام کروا رہی تھی!

علی کے ایک دوست وقاص صاحب اپنی گاڑی میں لے کر ہمیں گھمانے نکلے. پنڈی پوائنٹ اور کشمیر پوائنٹ دیکھا اور کچھ دیر نتھیا گلی گھومے. نتھیا گلی میں عجب حسنِ اتفاق ہوا کہ دوحہ میں ہمارے ایک جاننے والے سرور صاحب سے ملاقات ہو گئی. اسکے علاوہ ایوبیہ بھی گئے.

مری کی سڑکوں پر مری کا مخصوص موسم محسوس کیا یعنی بادلوں، پہاڑوں اور درختوں کی تال میل اور بیچ بیچ میں ہلکی ہلکی بارش جو کہ ہم جیسے شہریوں کیلئے انتہائی راحت کا باعث ہوتا ہے.

دورانِ سفر ہم نے چولہے پر پکی تازہ دودھ سے بنی چائے کی تلاش کی جو نہ ملی.اس بات کا تذکرہ جب وقاص بھائی سے کیا تو انہوں نے فوراً کہا ‘ یہاں تازہ دودھ کی چائے ملنا مشکل ہے، کل میں صبح آپ کیلئے تازہ دودھ لے آؤں گا اور آپ یہاں کسی بھی ریسٹورنٹ میں دے کر چائے بنوا لیجیے گا.’ حیران کن طور پر وہ اگلے دن اپنے وعدے کے مطابق دودھ لے بھی آئے اور ہم نے بہترین چائے بنوا کر پی. شکریہ وقاص بھائی!

رات کو مشہورِ زمانہ مال روڈ گھومے اور مختصر شاپنگ کی. مری میں بھی دکان داروں کا رویہ اچھا پایا.

مری میں آخری دن ہم نے مری جی پی او میں موجود بک شاپ سے کچھ کتابیں لیں. سہ پہر کو ہم پنڈی پوائنٹ کی چیئر لفٹ گئے اور انتہائی خوبصورت مناظر انجوائے کئے. چیئر لفٹ جب اونچائی کی جانب اپنے اسٹاپ کے قریب پہنچی تو نیچے چند فوٹو گرافروں نے 100 روپے فی تصویر کی آوازیں لگائیں اور لوگوں کے حامی بھرنے پر دھڑا دھڑ تصویریں بنانے لگے اور پھر بھاگتے ہوئے اوپر اپنی شاپ پر پہنچ گئے اور لوگوں کی پسند کی تصویریں بنانے لگے. ہم نے جس لڑکے سے تصویریں بنوائیں وہ بمشکل 16-18 سال کا تھا اور اوپر پہنچ کر اسکا چہرہ لال، ماتھے پر پسینہ اور سانس پھولا ہوا تھا. واقعی کچھ لوگوں کیلئے حصولِ روزگار کتنا مشکل ہوتا ہے..

وہاں ٹاپ پر ہم نے بچوں کو ہارس رائڈنگ کروائی. میں نے دونوں بچوں کو ایک سفید گھوڑے پر سوار کروا دیا تو ایک اور گھوڑا بان جس کے پاس گہرے رنگ کا گھوڑا تھا وہ بھی آگیا اور گھڑ سواری کیلئے اصرار کرنے لگا. جب اس نے بہت اصرار کیا تو میں نے ایک بچہ اسکے گھوڑے پر بھی سوار کروا دیا. بہت دکھی لہجے میں کہنے لگا ‘صاحب یہ جو میرے پاس گھوڑا ہے یہ زیادہ اچھی نسل کا ہے پر کالا ہے لیکن لوگ نسل کا فرق نہیں سمجھتے اور سفید گھوڑا پسند کرتے ہیں ، مجھ سے بڑی غلطی ہوئی مجھے بھی سفید ہی گھوڑا لینا چاہیے تھا.’ پھر خود ہی کہنے لگا کہ جو نصیب میں رزق ہے وہ تو ضرور ملے گا. میں اسے تسلی دے کر اپنی فیملی کے ساتھ رخصت ہو گیا. کیسی کیسی داستانیں بکھری ہیں ہمارے آس پاس !

ڈھلتی شام کے وقت پنڈی پوائنٹ کی چئیر لفٹ میں سواری کرتے ہوئے قدرتی حسین جنگل کے بیچوں بیچ گزرنا، حشرات اور دیگر پرندوں کی آوازیں بہت شاندار تجربہ رہا.

مری میں بھی میں نے مرکزی سرکاری ہسپتال سے علاج کروانے کی کوشش کی. ڈاکٹر صاحب کی حالت قابلِ رحم تھی، وہ تقریباً جھوم رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ کسی بھی لمحے گرِ جائیں گے. شاید تھکن کی وجہ سے ایسا ہو یا پھر وہ تھے ہی ایسے واللہ عالم! اسوقت ہسپتال میں ایک خاتون کا ‘آپریشن’ چل رہا تھا اور اسٹاف کی بد حواس حالت بتا رہی تھی کہ ‘کیسا آپریشن’ چل رہا ہے. مجھے ڈاکٹر نے ایکسرے لکھ کر دیا اور جب میں متعلقہ جگہ پہنچا تو وقت ختم ہو گیا اور یہاں سے بھی بغیر علاج کے ہی لوٹنا پڑا.

اگست کی سات تاریخ کو مری سے واپسی ہوئی. ہم نے راولپنڈی، سرگودھا اور فیصل آباد میں مختصر قیام کیا اور وہاں سے عید کیلئے کراچی آ گئے .اس دوران احباب نے ہمیشہ کی طرح بہترین مہمان نوازی کی اور ہر طرح ساتھ دیا. اللہ تعالیٰ سب کے رزق میں برکت عطا فرمائے، آمین.

بلا شبہ سفر ایک بہترین استاد ہوتا ہے جیسا کہ چند واقعات اوپر درج کئے گئے ہیں. یہ اور اسکے علاوہ بہت سے چھوٹے چھوٹے تجربات بہت کچھ سکھا جاتے ہیں. دورانِ سفر ڈرائیوروں سے آپ کو بہت حیران کن واقعات سننے کو ملتے ہیں. پاکستان کے سیاحتی مقام بہت خوبصورت ہیں، انکو مزید ڈویلوپ کرنے کی ضرورت ہے خصوصاً روڈ کے اردگرد حفاظتی اقدامات اور موثر طبی سہولیات کی فراہمی اشد ضروری ہے. سوات کالام، مالم جبہ اور مری کا ہمارا یہ سفر بہت زبردست رہا، بالخصوص لوگوں کی سادگی اور کھلے پن نے بہت متاثر کیا. آپ کو بھی موقع ملے تو اپنا ملک ضرور گھومنے نکلیں ساتھ ہی یہ کوشش بھی کریں کہ بہت زیادہ خطرناک راستوں پر نا جائیں ، الل تعالیٰ سب کا حافظ و ناصر ہو!

میرا سفرِ حج

میرا سفرِ حج

‘حج 2018 بمطابق 1439 ھجری کی روداد’

اللہ تعالٰی نے مجھے اور میری فیملی کو پچھلے سال حجِ بیت اللہ کی سعادت نصیب فرمائی. میں اس روحانی تجربے کی تفصیلات آپ سب سے شیئر کرنے کیلئے بے چین تھا لیکن بے پناہ مصروفیت اور کچھ سستی کے باعث ایسا نہ ہو سکا. بہر حال اب بھی الحمدللہ اچھا وقت ہے اور اس سال کا حج بھی قریب آ رہا ہے تو امید ہے کہ ہمارے تجربات کسی کے کام آ جائیں۔

جس دن سے مجھے صحیح معنوں میں حج کی سنجیدہ نوعیت اور فرضیت کی سختی کا ادراک ہوا، اسکے بعد ایک ایک دن گزارنا مشکل ہو گیا تھا. خاص کر آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ حدیثِ مبارکہ جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ “جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان ہو اور اس کو سواری میسر ہو جو بیت اللہ تک اس کو پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو ک مرے”۔ (منقول)

سمندر پار پاکستانیوں کیلئے حج ایپلیکیشن کا کوئ واضح نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں اس ضمن میں کافی مسائل کا سامنا رہتا ہے، اس کا تفصیلی ذکر میں اپنے ایک پچھلے بلاگ میں کر چکا ہوں. تفصیل کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کریں :

https://wordpress.com/post/msultanshah.com/284

قصہ مختصر کئی کافی جدوجہد کے بعد رب کی مہربانی سے ہمارا نام سرکاری اسکیم کے تحت قرعہ اندازی میں نکل آیا.

حج سے پہلے!

حج روانگی سے پہلے نظریہ حج اور اسکے پس منظر کو سمجھنے کیلیے اپنے تئیں کافی کوشش کی. یوٹیوب پر مستند عالم دین کے لیکچر وغیرہ سنے. سرچ کے دوران اندازہ ہوا کہ طریقہء حج کے اوپر کافی مواد موجود ہے پر اسکے وسیع تر معنوں پر ٹھوس کام شائع کرنے کی بہت ضرورت ہے. اس سارے عمل کے دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات، ان کی قربانیوں اور ان کے مقام کا پہلے سے زیادہ ادراک ہوا. قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

” بے شک ابراہیمؑ اپنی ذات سے ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سو وہ کبھی مشرک نہ تھا. اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا اللہ نے اس کو منتخب کر لیا اور سیدھا راستہ دکھایا.دنیا میں اس کو بھلائی دی اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہوگا. پھر ہم نے تمہاری طرف یہ وحی بھیجی کہ یک سو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا. “( ترجمہ سورۃ النحل آیات ١٢٠-١٢٤) “

سوچ کے نئے دریچے کھلے اور زیادہ سے زیادہ حج کے معاملات کو کھوجنے کی جستجو پیدا ہوئی . روانگی سے قبل محترم مدثر بھائی نے فلسفہء حج پر ایک پرمغز نشست میں ہماری رہنمائی فرمائی. ان کا کہنا یہ تھا کہ “حج کی بھرپور تیاری کریں اور دورانِ حج مشکلات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ اختیار یعنی اطاعت اور استقامت سے کام لیں.”

جدہ روانگی:

ہمارا گروپ کل 13 افراد پر مشتمل تھا جس میں جناب ضرار بھائی اور ظفر بھائی کی فیملیز، میں، میری اہلیہ اور ہمارے دو بچے بھی شامل تھے جن کی عمریں اسوقت 4.5 اور 2.5 سال تھیں.حج سے صرف چند دن قبل ہم لوگ کراچی ائرپورٹ سے 15 اگست کی فلائٹ سے روانہ ہوئے.

Jeddah-airport

جدہ ائرپورٹ پر آمد سے لے کر سامان کی وصولی بہت آرام سے ہو گئی. سعودی حکام نے نہایت گرمجوشی سے حجاج کا استقبال کیا،ا ہم پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں. بہت سے حاجیوں نے اپنی سہولت کے لیے ایئرپورٹ پر ہی موبائل سم حاصل کر لیں. ہم رات گئے ہم اپنے ہوٹل بتحہ قریش کے علاقے میں پہنچے. وہاں پر پاکستانی معاونین نے نہایت مستعدی سے ہمیں وصول کیا. سامان کی منتقلی اور اپنے اپنے کمروں میں ہونے شفٹ ہونے میں کافی وقت لگ گیا.بالآخر سب اپنے اپنے کمروں تک پہنچ گئے. اب ہمارے لئے یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ ہمارے دونوں بچوں کا کمرہ ماں سے علیحدہ دیا گیا تھا. سامان اور بچوں کو ہینڈل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا.

بہرحال کسی نہ کسی طرح ہم اپنے پہلے عمرے کے لیے روانہ ہوئے. ہمارا خیال یہ تھا کہ بچوں کی آسانی کے لیے وہیل چیئر حرم شریف کے مخصوص سیکشن لے لیں گے لیکن اس وقت ایسا ممکن نہ ہوسکا اور سارا راستہ بچوں کو گود میں لے کر چلنا پڑا. اس معاملے میں گروپ کے ممبران نے بہت تعاون کیا کیا اور باری باری ہمارے بچوں کو اٹھا کر طواف شروع کر دیا گیا. یہ تقریباً ایک ناممکن مرحلہ تھا اور پھر وہ الفاظ میرے ذہن میں کھانا گونجے کہ “ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ یاد رکھنا” اور ذہن میں یہ بات آنے لگی آج کل کی کوئی بھی آزمائش حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش سے بڑی نہیں ہو سکتی. بس یہی سوچ کر پختہ ارادے کے ساتھ طواف جاری رکھا. غالباً تیسرے یا چوتھے چکر میں اللہ تعالی نے کرم کیا اور گروپ میں شامل ہماری ایک بہن کسی فرشتے کی مانند ایک وہیل چیئر کہیں سے لے آئیں اور ہم نے سوتے بچوں کو وہیل چیئر پر ڈال دیا کیا یوں ہمارا عمرہ باآسانی مکمل ہوگیا. اللہ تعالی محترمہ کو اس نیکی کی جزائے خیر عطا فرمائے، آمین. عمرہ سے فارغ ہوکر ہوٹل جا کر آرام کیا.

safa-marwa-1-1024x646

اب تک کے واقعات سے مجھے یہ لگ رہا تھا کہ میں نے بچوں کو ساتھ لاکر زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر لی ہے، آگے کیسے چلنا ہے، یہ سوچنے لگا. پھر وہی ہوا اللہ تعالی کی مدد بر آئی، صورت حال ایسی بدلی کہ مجھے اور میری میری فیملی کو ایک علیحدہ کمرہ بلکہ ایک اپارٹمنٹ ٹائپ بمع ہال، کچن میسر آگیا گیا اور باقی لوگ بھی اپنے اپنے حساب سے بہت اچھے سیٹل ہوگئے.

حج انتظامات:

ہوٹل کی رہائش گاہ انتہائی آرام دہ اور شاندار تھی جس میں ہر چیز موجود تھی. پاکستانی معاونین اور دیگر اسٹاف نے بہت جانفشانی کے ساتھ حاجیوں کو ہینڈل کیا اور انتہائی حد تک جاکر ہماری مدد کرتے رہے. کھانے کا انتظام بہت زبردست اور قابلِ تعریف تھا. مزیدار کھانے اپنے شیڈیول پر پیش کیے جاتے رہے. اس موقع پر ہمارے بچوں نے خوب رونق لگائے رکھی اور کھانے کے دوران ہال اور کچن کے درمیان دوڑتے بھاگتے رہے. کچن اسٹاف بھی ان سے مانوس ہوگیا اور ہر طرح ہماری ضرورت کا خیال رکھا.

car6

مسجد الحرام آنے اور جانے کے لیے ہوٹل کے باہر جدید ترین ماڈل کی بسیں ہروقت تیار کھڑی رہتی تھی. بس حاجیوں کو لے کر کدئ کے اسٹیشن پر چھوڑتی تھی اور وہاں سے شٹل سروس کے ذریعے حرم شریف جایا کرتے تھے. مسجد الحرام کے علاوہ اپنی سہولت کے مطابق نماز قریبی مسجد میں پڑھتے تھے. مسجد میں حاجیوں کی خدمت کے لئے ٹھنڈا پانی اور کھجوریں ہر وقت دستیاب تھیں. اس مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے مجھ پر جو روحانی کیفیت طاری ہوئی اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے :

“ یا اللہ تیری کتنی بڑی کرم نوازی ہے. ہے مجھ جیسی نا چیز ایک عام سے بندے کو اتنی بڑی سعادت عطا فرما دی. میں تیرا شکر کیسے ادا کروں”

اپنی کج فہمیوں اور نادانیوں کا احساس، زہن کی سکرین پر ابھرتے زندگی بھر کے مختلف واقعات, سب عزیزوں کے لئے دعائیں اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جاری و ساری لڑیاں…. ‘وہ وقت ساری زندگی کا سرمایہ بن گیا ہے’ .

حج سے پہلے:

حج کا وقت قریب آچکا تھا اس لئے سب لوگ حج کی تیاریاں کرنے میں مصروف ہوگئے. اس دوران میں نے یہ محسوس کیا کیا کہ وہاں ہر حاجی کو کسی نہ کسی چیلنج کا سامنا تھا. کسی کو لفٹ استعمال کرنا نہیں آرہی تھی، کسی سے سعودی سم ایکٹو نہیں ہو پا رہی تھی. کوئی اپنا انٹرنیٹ کنکشن نہیں کر پا رہا تھا اور کوئی اپنے گروپ میں ‘اسپیشل کیس’ ہینڈل کرنے میں لگا ہوا تھا. غرض یہ کہ تقریبا آئیڈیل انتظامات کے باوجود ایک نان آئیڈیل صورتحال درپیش تھی.ہم نےاپنے آپ کو آنے والے حج کے دورانیے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا شروع کردیا. میں نے ہوٹل لابی میں لگے تمام لئے نوٹس پڑھ ڈالے اور بچوں کی حفاظت کے لئے مختلف پلان بناتا رہا. ہمارے روم کے برابر میں پاکستان حج مشن کے ایریا فوڈ انچارج جناب فاروق صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ مقیم تھے تھے. وہ لوگ اپنے اپنے مقررہ وقت میں کام سرانجام دینے کے بعد کمرے میں آرام کیلئے تشریف لاتے تھے. فاروق صاحب بہت محبت سے پیش آئے اور حج کے حوالے سے بہت اچھی ٹپس دیں.

حج کے دن:

Mina-tents

8 ذوالحج علی الصبح ہوٹل سے بسیں حاجیوں کو لے کر منی١ روانہ ہوگئیں. سعودی عرب نے دنیا بھر کے حاجیوں کے لیے اپنے بازو کھول دیے۔ دل دھڑکتے دلوں کے ساتھ لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے ہم منی١ میں اپنے خیموں تک جا پہنچے۔ ہمارا مکتب نمبر نمبر 87 تھا اور اسی کے خیموں میں جاکر ہم مقیم ہوگئے اور ناشتہ کیا۔ منی١ جانے سے پہلے پاکستانی انتظامیہ نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ حج کے پانچ دنوں میں ہم سب متعلقہ مکتب اور معلم کی ذمہ داری پر ہوں گے. ”اس بات کا مطلب آنے والے دنوں میں ہمیں اچھی طرح سمجھ میں آگیا”۔

خیموں میں شدید ترین بدنظمی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ معلم کا کوئی نمائندہ اپنے آفس میں موجود نہ تھا۔کچن سے جیسے تیسے کھانے کی سپلائی جاری تھی۔ ہماری اطلاعات کے مطابق کچھ مقامی پاکستانیوں نے بھی مفت میں خیموں کا رخ کیا اور بعض نے تو کچن پر حملہ بھی کر دیا اور کھانے کو لوٹا۔اسی وجہ سے کئی مواقع پر حاجیوں کو کھانا مل نہ سکا۔ خیمے میں چند جانے پہچانے چہرے بھی نظر آئے، یہ دراصل ہماری بلڈنگ کے اندر سروس دینے والے لوگ تھے جو کہ احرام باندھ کر ہمارے ساتھ ہی خیمہ زن ہو گئے تھے ۔ اب ظاہر ہے کہ انتظام تو صرف پاکستان سے آئے حاجیوں کیلئے تھا لیکن باہر کے لوگوں کے آنے سے انتظام خراب ہو گیا. اسی وجہ سے چند معصوم حاجیوں کو رستوں میں یا پھر گھس گھسا کر بہت تکلیف میں گزارا کرنا پڑا۔

8 ذوالحج کا دن بہت گرم رہا اور شام کو اچانک تیز ہوائیں چلنا شروع ہوگئی اور خیمہ ہلنا شروع ہوگیا. یہ شاید قدرت کا پہلا امتحان تھا ،بہرکیف یہ طوفان بھی گزر گیا۔

اگلی صبح نو ذوالحج یومِ عرفات کے دن منی١ سے عرفات جانا بھی کافی مشکل ثابت ہوا۔ آس پاس دوسرے ممالک کے خیمے تھے ان کی بسیں آتی جا رہی تھی اور اپنے حاجی لے کر جا تی جا رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اگر کوئی بس نہیں آرہی تو وہ مکتب 87 کی بس تھی۔ مکتب 84 والوں کا حال بھی لگ بھگ ہمارے جیسا ہی تھا۔ بڑی مشکل سے تقریبا ساڑھے دس بجے کے بعد ہماری بسیں آنا شروع ہوئیں ۔ اس موقع پر عجیب نفسانفسی کا عالم دیکھنے کو ملا۔ میرے ساتھ اس وقت میری اہلیہ، میرے دو بچے طلحہ بھائی اور گروپ کی دیگر دو بہنیں موجود تھے۔ طلحہ بھائی ان دنوں زخمی حالت میں فریکچر بازو کے ساتھ ہے۔ اس کمزور گروپ کے ساتھ بس پر سوار ہونا شدید رش میں تقریباً ناممکن دکھائی دے رہا تھا کیونکہ ایک تو بسیں بہت کم تھیں اور اگر آ بھی رہی تھیں تو ان پر لوگ دھاوا بول کر سوار ہو رہے تھے۔ غرض یہ کہ تپتی دھوپ میں ہم لوگ اِدھر سے اُدھر کوشش کرتے کرتے اپنے خیمے کے عقب میں موجود ایک بڑے سے پل کے نیچے جا پہنچے۔ ایک پیارا کسرتی جسم والا بھائی جو ہمیں نوٹ کر رہا تھا وہ میرے پاس آیا اور بولا: “بھائی آپ فکر نہ کریں، میں اور میرے ساتھی آپ لوگوں کو سوار کرواتے ہیں۔ میں بس کا مرکزی دروازہ سنبھالوں گا اور آپ لوگ چڑھ جائیے گا”۔ اس بھائی اور اسکے ساتھیوں کے لیے بھی ڈھیروں دعائیں جس نے ہماری مدد کرنے کی بہت کوشش کی، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ بسیں آنا بند ہوگئیں، تقریبا ساڑھے گیارہ بجے کے قریب۔ میں نے جب ذرا غور کیا تو باقی رہ جانے والوں میں سب کمزور لوگ تھے، بہت درد ناک اور معاشرتی صورتحال کی عکاسی کرتا منظر تھا۔ وہیل چیئرز پر بیٹھے ہوئے بزرگ افراد ایسی فیملیز جن میں خواتین زیادہ تھیں جو سوار نہ ہو سکیں اور باقی ایسے ہی کچھ اور چہرے۔ اسی اثناء میں مجھے پانی لینے کے لیے خیمے کے اندر جانے کا اتفاق ہوا، وہاں وہیل چیئر پر بیٹھے چند بزرگ حضرات اور ان کے ساتھ چند نوجوانوں کو دیکھا جو انتہائی پرسکون انداز میں بہت باوقار طریقے سے عرفات جانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ اُنہیں دیکھ کر رشک بھی آیا اور ہمت بھی بندھی۔ سعودی انتظامیہ بقیہ لوگوں کو نکالنے کیلئے سر توڑ کوشش کر رہی تھی، فضا می ہیلی کاپٹر صورتحال کا جائزہ لے رہے تھے. آخر کار چند آخری سرکاری بسوں میں سے ایک بس میں ہم بھی سوال ہو ہی گئے. اس بس میں زیادہ تر بھائیوں کا تعلق بنگلہ دیش تھا، ان کا جوش اور ولولہ کا قابلِ دید تھا۔ منی١ سے عرفات کے جس سفر کے بارے میں ہم نے سنا تھا کہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے وہ سفر فراٹے لیتی ہماری بس نے بمشکل بیس منٹ میں طے کر لیا اور ہمیں میدانِ عرفات کے ایک مقام پر لے جا کر چھوڑ دیا۔ وہاں ہم ایک مسجد کے باہر جا کر بیٹھ گئے اور اللہ تعالی کے خصوصی فضل و کرم سے نہایت آرام کے ساتھ کے نشر ہوتا ہوا ‘خطبہء حج’ سنا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جو لوگ ہم سے بہت پہلے نکل گئے تھے، وہ راستے میں رش میں پھسنے کی وجہ سے خطبہ نہ سن سکے۔ ہم جہاں بیٹھے تھے وہاں آس پاس میں کھانے پینے کی اشیاء کے بہت سے کنٹینر کھڑے ہوئے تھے تھے. ہمیں وہاں بیٹھے بٹھائے انواع و اقسام کے کھانے کھلائے گئے، خصوصاً ایک سعودی فیملی نے تو مہمان نوازی کی انتہا کردی۔ اس دن جہاں حاجی گرمی اور انجان جگہ میں حالات کی وجہ سے پریشان تھے وہاں پر سعودیوں اور دیگر میزبانوں نے ایثار کی انتہا کردی۔ اس دن گرمی اتنی زیادہ تھی میں نے پانی کی تقریباً 25- 20 بوتلیں پی لی ہوںگی۔ یومِ عرفات جیسا جاہ و جلال والا دن میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔

1412331039340_wps_60_Muslim_pilgrims_gather_at

کچھ دیر بعد ہم اپنے بچوں کو لے کر عرفات میں قائم پاکستانی کیمپ کی طرف روانہ ہوئے. دوپہر سے لے کر مغرب تک دعاؤں کی قبولیت کا مخصوص وقت ہوتا ہے اور اس وقت میں ہم فاصلہ طے کر رہے تھے۔ ایک خیال یہ آیا جس وقت کا ساری زندگی انتظار کرتے رہے وہ آیا ہے تو ہم دعا بھی ٹھیک سے نہیں مانگ پا رہے ہیں ۔ان ہی خیالات کے ساتھ بالآخر پاکستانی کیمپ میں اپنے گروپ سے جا ملے۔

ہمیشہ کی طرح اللہ تعالیٰ نے پھر کرم فرمایا اور ہمارے بچے گہری نیند سو گئے. ہم سب نے نے کھڑے ہو کر دعائیں مانگنا شروع کر دی. اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ وقت تھم سا گیا ہو. جتنی دعائیں یاد تھیں سب دو دو دفعہ مانگنے کے بعد بھی وقت باقی تھا جیسے سوہنا رب اپنے غلاموں سے سے کہہ رہا ہوں” مانگو جو مانگنا ہے”. وقت میں ایسی حیران کن برکت کبھی محسوس نہیں ہوئی. اس دوران اردگرد ایسا روح پرور ماحول بن گیا جس میں سب حاجی آنسوؤں کے ساتھ اپنی اپنی عرضیاں لیے اپنے مالک کے سامنے کھڑے تھے. اس منظر کو دیکھتے ہوئے منہ سے بے اختیار نکلا ” یا اللہ اِن سب کا حج قبول فرما ہم سب کی حاضری قبول فرما”.

شام ڈھلے ہم اپنے گروپ کے ساتھ پرائیویٹ بس میں سوار ہو کر اپنی اگلی منزل یعنی مزدلفہ کی جانب روانہ ہوئے. وہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کیں. فاصلہ طے کرتے ہوئے منی١ سے کچھ پہلے فٹ پاتھ پر پڑاؤ ڈالا اور اپنی اپنی چٹائیوں پر سو گئے. عجب عالم تھا وہ بھی، نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز. کیا بڑا کیا چھوٹا سب کھلے آسمان تلے بغیر کسی جھجک کے آرام سے سو رہے تھے.

optimized-rituals-of-hajj-muzdalifa

اگلے دن یعنی 10 ذوالحج علاصبح ہم مزدلفہ سے پیدل واپس منی١ اپنے خیمے پہنچے. کچھ دیر آرام کے بعد جمرات جا کر شیطان کو کنکریاں ماریں. اس کے بعد شام کو قربانی کے بعد سر منڈوا کر احرام کھول دیا. اگلی صبح طواف زیارہ فجر کے بعد شروع کرنے کی کوشش میں لگے اور ظہر کے بعد کہیں جا کر مکمل کرلیا. وہاں سے پھر منی١ اور رمی جمرات. اگلے دن آخی رمی کے بعد اپنے ہوٹل جا پہنچے.

اس دورانیے میں سعودی حکومت کے شاندار انتظامات کا مشاہدہ کیا خاص کر سیکورٹی والوں کا ذمہ دارانہ رویہ قابلِ تعریف ہے. گرم موسم میں حاجیوں پر ٹھنڈے پانی کا اسپرے کیا جا رہا تھا. راستوں میں تقریباً پرفیکٹ انتظامات جس میں کھانے پینے کے ریسٹورنٹ, موبائل ریچارج کی سہولیات اور قربانی کے بوتھ قابلِ ذکر ہیں.

قیام منی١ اور دورانِ حج کے مشاہدات :

منی١ کیمپ میں کچھ حاجیوں کی جانب سے بھی لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ دیکھنے کو ملا. وضو خانے پر رش ہوتا تھا تو کولر پر بیٹھ کر پینے کے ٹھنڈے پانی ی سے ہی وضو شروع کر دیتے تھے. باہر کے لوگوں اور کھانے کی چھینا جھپٹی کا تذکرہ تو پہلے ہی ہوچکا ہے.

مکتب کے لیول پر بہت مایوس کن صورتحال تھی. معلم کا کا نمائندہ صرف ایک ہی بار نظر آیا اور حاجیوں نے جیسے تیسے گزارا کیا. پاکستانی معاونین بھی خال خال نظر آئے، حج کے دن تو کوئی بھی نہیں نظر آیا کیونکہ سب اپنا حج کرنے لگ گئے تھے . بعد میں پتہ چلا کہ پاکستانی حج مشن پر تعینات ہوئے تقریباً سب لوگوں نے اپنا حج بھی کیا ہے. پاکستانی حاجی دربدر خوار ہوتے رہے. ٹیکسی والے منہ مانگی قیمتیں وصول کرتے رہے. عام دنوں میں جو کرایہ 20-15 ریال ہوتا تھا وہ 75-150 ریال لیا گیا کچھ مواقع پر لوگوں کو دو سو ریال میں سفر کرنا پڑا. جن لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے انہوں نے لمبے لمبے سفر پیدل طے کیے اور بعد ازاں کچھ بزرگ افراد زخموں پر پٹی کے ساتھ خیموں میں نظر آئے. ہمارے لئے یہ زندگی کا عظیم ترین سفر تھا لیکن کاروباری مقاصد کے لیے یہ ایک سیزن اور بزنس اپارچونٹی تھی،جنہوں نے حاجیوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا. مقامی لڑکوں نے حرم کے اندر مجبور حاجیوں کے ساتھ عجب کھیل کھیلا. وقفاالحرم وہیل چئیرز جو حرم میں حاجیوں کے لیے مفت میں مختص تھیں انہیں ہتھیاکر 500 ریال تک مانگتے رہے.ہم نے خود دو بار 200 ریال دے کر ویل چیئر بچوں کے لئے حاصل کی. جیسے جیسے جیب ہلکی ہوتی گئی، حاجیوں کی پریشانی بھی بڑھتی گئی .پاکستان سے جانے والوں کو گھر سے کچھ پیسے اندازہ سے بھی زیادہ لے کر جانے چاہئیں. حرم میں صفا مروہ کے پیچھے وہیل چئیر کے لئے ایک مخصوص آفس ہے، ابو جہل کا جہاں گھر تھا اور آج بیت الخلا موجود ہیں. وہاں سے وہیل چیئر مفت لے سکتے ہیں، موقع پرست لٹیروں سے بچیں جو حرم کے اندر دو نمبری کرتے ہیں. یہی موقع ہے آپ مجبوروں کی مدد کریں، طاقتور افراد کمزوروں کا ساتھ دیں تو ہر کسی کی مشکلات کم ہو سکتی ہیں.

حج کے بعد اپنے سفری معاملات کے سلسلے پاکستان حج مشن آفس العزیزیہ جانے کا موقع ملا, وہاں جا کر بہت تکلیف دہ مناظر دیکھلنے کو ملے. لے. وہی پیارے بھائی جنہوں نے حاجیوں کے لیے دن رات ایک کر دئیے تھے, وہی بھائی سر منڈائے، سر پر ٹوپی پہنے، شرمندہ شرمندہ نظریں جھکائے لوگوں کی کھری کھری باتیں سن رہے تھے اور اپنی تاویلیں پیش کر رہے تھے. بھئی اس مسئلہ کو حل کریں، پاکستانی معاونین کام چھوڑ کر اپنا حج شروع کردیں گے تو حاجیوں کی مدد کون کرے گا؟ بہانہ یہ بنایا جاتا ہے کہ حج کے دنوں میں ذمہ داری معلم کی ہے. ہمیں کیا پتہ سعودی کمپنی یا معلم کا، ہم تو آپ کو جانتے ہیں. بہت ہیں ہی آسان سی بات ہے، معاونین حج کی سب سے زیادہ ضرورت دورانِ حج ہوتی ہے اور اگر آپ اسی اس دوران ہی موجود نہیں ہوں گے تو آپ کے وہاں جانے کا کیا فائدہ؟ معلم کے ساتھ آپکو رابطہ میں رہنا چاہیے اور ہمہ وقت خیموں میں اور دیگر جگہوں پر موجود ہونا چاہیے تاکہ اپنے حاجیوں کی مدد کر سکیں اور ان کے مسائل حل کر سکیں. نہایت افسوس کے ساتھ ہم نے اس چیز کا مشاہدہ کیا ہے کہ آپ نے اپنی ساری محنت پر ایک بنیادی غلطی کرکے خود ہی پانی پھیر دیا یا اور ثواب کی جگہ گناہ کے امکانات پیدا کر لئے. حاجی جن پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہوئے ان کی تفصیلات اکٹھا کرنا بھی ممکن نہیں ہے . پاکستانی معاونینِ حج بشمول اعلی حکام اور سپورٹ اسٹاف سب اپنا اپنا حج کر رہے تھے. جس کی وجہ سے بہت بڑا خلا پیدا ہوا اور حاجی دربدر خوار ہوتے رہے. حج صرف صاحبِ حیثیت پر فرض ہے. آپ وہاں حج سپورٹ کی حیثیت سے گئے ہیں نہ کہ حج ادا کرنے. مندرجہ بالا کام کر کے نہ صرف آپ نے اپنی ذمہ داریوں سے ناانصافی کی بلکہ مستحق حاجیوں کیلئے باعثِ تکلیف بنے ورنہ شرمندگی کی کوئی وجہ نہیں بنتی. میں نے بعد میں اس موضوع پر کافی اسٹاف لوگوں سے بات کی لیکن سب آئیں بائیں شائیں گول مول جواب دیتے رہے، کسی نے صاف اور سیدھی بات نہ کی. پاکستانی حج منسٹری کو اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے. افسوس ہماری قوم میں ابھی اتنی اخلاقی پختگی نہیں ہے کہ وہ خود احتسابی کرتے ہوئے ایسے کام ہی نہ کرے.

حج کے بعد کے ایام :

لوگوں کا غصہ آہستہ آہستہ کچھ ٹھنڈا ہوا تو نارمل روٹین دوبارہ شروع ہوگیا اور بہترین انتظامات دوبارہ بحال ہو گئے. حرم شریف حاضری اور زیارتیں وغیرہ. ہمیں مکہ میوزیم دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا.

ہمارے گروپ کے زیادہ تر لوگ پہلے ہی مدینہ اور پھر فائنل منزلوں پر نکل گئے. مدینہ روانگی سے قبل ہم نے یکم ستمبر کو کافی وقت معلم کے دفتر میں گزارا. معلم کے دفترکا انچارج کافی مناسب ذمہ دار آدمی معلوم ہو رہا تھا. کئی راتوں سے ٹینشن کی وجہ سے سو نہ سکا تھا. ہمارے بچوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہمارا بہت خیال رکھا ہے. اس دوران مجھے محسوس ہوا کہ پاکستانی مشن اور معلم کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے. میری سب سے گزارش ہے کہ آپ نے اپنی اپنی ذمہ داری نبھائیں، ایک دوسرے سے تعاون کریں اور اس چیز میں سیاست نہ کریں.

مدینہ منورہ میں قیام :

4b58af4e8c571319759ce054d9f3acee

وہاں سے ہم شہرِ مدینہ منورہ پہنچ گئے. سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضری دی اور بچوں کو بھی پیش کیا، سب عزیزوں کا سلام عرض کیا، کچھ کا خصوصی پیغام نام لے کر پہنچایا اور کچھ راز و نیاز بھی… .ایک موقع پر جب میں روزہء رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کچھ دور کھڑے ہو کر منظر دیکھ رہا تھا اور کیفیات کو محسوس کرنے کی کوشش کر رہا تھا. میں نے دیکھا کہ لوگ کیسے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پیش کرنے کے لئے سرشاری کے عالم میں ایک دوسرے پر گر رہے تھے. یقیناً ان میں دنیاوی مالدار بھی ہوں گے لیکن اس دربار میں ہر کوئی آگے بڑھنا چاہتا تھا. اس قابل رشک منظر اور دل کی کیفیت کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے.

مدینہ میں قیام کے دوران ہمارا چھوٹا بیٹا سائڈ ٹیبل سے ٹکرا کر زخمی ہوگیا. ہم اسے لے کر فوراً باہر نکلے تو نیچے پاکستانی حکام کا اپنی گاڑی میں کہیں جانے کے لیے تیار تھے، ہمارا مسئلہ دیکھ کر فوراً پاکستانی ہسپتال میں پہنچا دیا جہاں پر بچے کو ڈاکٹر نے ٹانکا لگایا. ان سب کی مدد کے بے حد شکر گزار ہیں.

زیارات کرنے اور کھجوریں لینے کے بعد اپنے سپریم لیڈر سرورِ کونین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو الوداع کہتے ہوئے ہم واپس اپنی منزل یعنی دوحہ – قطر واپس لوٹ آئے.

پاکستانی تارکینِ وطن کی حالت زار :

umrah-taxi-5

مکہ کے قیام دوران وہاں مقیم پاکستانیوں کے حالات دیکھنے کا موقع ملا. بدلتی ہوئی سعودی پالیسیوں اور دگرگوں معاشی حالات کی وجہ سے لوگ بہت پریشان تھے. بالخصوص ٹیکسی ڈرائیور بمشکل گزارا کر رہے تھے اور ایک ایک ریال گن کر کما رہے تھے. کم وبیش یہی حال چھوٹے دکان داروں کا بھی تھا. وہاں پر گئے ہوئے پاکستانی سپورٹ اسٹاف سے بھی اس موضوع پر بات چیت ہوئی اور وہ لوگ بھی یہ وقت گزار کر جلد از جلد پاکستان واپس جانا چاہتے تھے. یہ سب اتنا واضح تھا کہ اس بات کو میں یہاں بیان کئے بغیر نہ رہ سکا. اللہ تعالی سب کی مشکلیں آسان فرمائے، آمین. تارکینِ وطن کے عزیزوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے پردیسی بھائیوں کے حالات کا احساس کریں…

حج پر جانے والوں کے لئےچند مشورے :

150418149759a7fcf97768d

سامان کم سے کم لے کر جائیں. صرف ضروری اور مخصوص دوائیاں لے کر جائیں. غیر ضروری چیزیں لے جا کر آپ خود پریشان ہوں گے. پاکستان کے حاجی کیمپ کی مارکیٹ میں ملنے والا سامان سفر کیلئے کافی رہتا ہے. وہیل چئیر اگر انتہائی ضروری ہو تو پاکستان سے ہی ساتھ لے کر جائے ورنہ جیسا اوپر بتایا گیا حرم کے مخصوص آفس سے مفت لے سکتے ہیں یا پھر ادھر ادھر پڑی ہوئی ایسی وہیل چیئر جس پر وقفالحرم لکھا ہو وہ آپ بلا جھجھک استعمال کر سکتے ہیں . کچھ پیسے زیادہ رکھ کر لے کے جائیں. کمزور افراد کی مدد کریں کریں اور ان کا حج آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں. منی١ میں قیام کے دوران فضول باتوں سے بچیں اور عبادت پر دیہان دیں. بسوں میں سوار ہوتے ہوئے دھکے نہ دیں، دیر سے پہنچنا کسی کو ایذا دے کر پہنچنے سے بہتر ہے. اسی طرح حجرِ اسود کا بوسہ لینے کیلئے بھی دھکم پیل نہ کریں اور اپنی عبادت ضائع ہونے سے بچائیں. غیر معمولی حالات کے لئے تیار رہیں اور ایک دوسرے سے ہمیشہ شائستگی سے پیش آئیں. سیلفیز اور ویڈیوز بنانے میں قیمتی وقت برباد نہ کریں. پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے باوقار انداز اپنائیں اور اپنے ملک کی نیک نامی کا باعث بنیں.

حرفِ آخر:

ہمارے والدین اور وہ تمام لوگ جن کی مدد اور کی دعائیں ہر پل ہمارے ساتھ تھیں اور وہ اصحاب جنہوں نے اس سفر میں ہماری بھرپور مدد کی خصوصاً ضرار بھائی اور ظفر بھائی بمع اہل وعیال، محترم عابد زرین صاحب اور فرخ شاہ بمع فیملی وغیرہ. اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ خوش اور آباد رکھے.

ہر صاحب حیثیت شخص جس نے حج نہیں کیا وہ آج ہی پروگرام بنا لے. اس سال کے خوش نصیبوں کو پیشگی مبارکباد اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے اور آپکی حاضری قبول فرمائے، آمین. اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمائے اور ہم سب کو بار بار اپنے دربار میں حاضری کی سعادت نصیب فرمائے آمین ثم آمین.

Article No.

Note: This Article has also been published at following:

میرا سفر حج