فیفا ورلڈ کپ قطر 2022 میں جہاں مجھے دیگر بہت سے تجربات حاصل ہوئے، وہیں مجھے اپنے ماسٹرزریسرچ تھیسس سے متعلق سروے کرنے کا موقع بھی ملا. اسٹڈی کا موضوع ورلڈ کپ میں ٹرانسپورٹ کے رجحانات سے متعلق تھا۔ یہ سروے دو حصوں پر مشتمل تھا، ایک آن لائن ڈیٹا کولیکشن اور دوسرا قطر میں مقیم لوگوں کے ساتھ براہ راست رابطہ اور انٹرویوز کئے گئے . میرا یہ بلاگ دوسرے چینل میں انٹرویوز سے حاصل شدہ تجربات اور مشاہد ات پر مشتمل ہے. عمومی طور پر میرا کام آفس ورک اور ڈیسک اسٹڈی سے متعلق ہے اور عوامی رابطہ بالکل نہیں ہے تو اس پس منظر کے ساتھ اس مہم کا حصہ بننا ایک منفرد تجربہ رہا اور بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا. اس سروے میں، میں اور میرے دیگر ساتھی ٹیبلٹس لے کر پورے قطر میں ایک باقاعدہ طے شدہ شیڈول کے مطابق مختلف مقامات مثلاً میٹرو اسٹیشن، شاپنگ مالز ، اور پارکس وغیرہ میں فیس ٹو فیس انٹرویو کرنے گئے. انٹرویو فارم نسبتاً خاصا لمبا تھا اور ہر انٹرویو میں اندازا دس سے پندرہ منٹ لگ رہے تھے۔ اپنے اس کام کے دوران قدرتی طور پر میرا جھکاؤ اور رجحان پاکستانی، انڈین، اور سری لنکن لوگوں کی طرف زیادہ تھا. ہر سائٹ پر کم از کم ایک ایسا واقعہ ہوا یا ایک ایسا شخص ملا جس سے حاصل شدہ تجربہ اور یادداشت میرے لیے کافی اہم تھا. کافی عرصہ سے سوچا ہوا تھا لیکن لکھنے کا موقعہ نہیں مل رہا تھا. آج یہ یادداشتیں آپ کی پیش خدمت کر رہا ہوں۔

فیفا اسٹڈی سروے کے لیے سب سے پہلے میں قطر کے ‘مسیلا میٹرو اسٹیشن’ گیا، وہاں اسٹیشن کے باہر ایک وسیع میدان میں کئی اسٹال لگے ہوئے تھے اور لوگوں کی کافی چہل پہل تھی. دلچسپ بات سعودی عرب سے آنے والے شائقین کی موجودگی تھی جو اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے قطر آئے ہوئے تھے، ان میں کئی ایک اپنا سفری بیگ ساتھ لیے گھوم پھر رہے تھے اور کھا پی رہے تھے. تو جناب میرے لیے پہلا انٹرویو کرنا ہی کچھ مشکل ثابت ہوا، بہت ہمت کے بعد ایک شخص ملا جو ایک موبائل ویگن پر کچھ بیچ رہا تھا، اس نے بہت تعاون اور گرم جوشی سے انٹرویو دیا. چونکہ پہلا دن تھا اور پہلی بار تھا اس لیے پہلے دن میں غالباً مشکل ہے چودہ انٹرویو ہی کر سکا. اس مقام پر ایک شخص کو جب میں نے روکا تو اس نے میری بات پوری توجہ سے سننے کے بعد پوچھا کہ "انٹرویو دینے سے مجھے کیا ملے گا؟” میں نے جواب دیا کہ آپ کا تعاون قطر میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا اور ساتھ ساتھ آپ لکی ڈرا کے ذریعے پانچ سو ریال کا انعام بھی جیت سکتے ہیں، یہ سنتے ہی اس نے نفی میں سر ہلایا اور عجلت میں وہاں سے چل دیا. بس مجھے اس جگہ کے یہی دو انٹرویو اچھی طرح یاد رہ گئے ہیں

میری دوسری سائٹ قطر کا مشہور و معروف ‘میوزیم آف اسلامک آرٹس پارک’ تھا. یہ پارک دوحہ کے مشہور زمانہ سوق واقف اور کارنش اسٹریٹ کے پاس واقع ہے. دوحہ کارنش کو ورلڈ کپ کے دوران ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا تھا اور دلہن کی طرح سجا دیا گیا تھا. اس دورانیے میں میرا اس علاقے میں سروے کے علاوہ بھی چند بار جانا ہوا اور وہاں چلتے ہوئے اور عظیم الشان چمک دمک دیکھتے ہوئے میں سوچا کرتا تھا کہ یہاں مقیم بر صغیر کے ہم جیسے لوگوں کی لطف اندوزی کیلئے یہ کیسا شاندار اور تاریخی موقع میسر آیا ہے. بہر حال میوزیم پارک کی خاص بات وہاں پر جاری چہل پہل تھی، یہ ایک فین زون بھی تھا اور وہاں لوگ لائیو میچ سے بھی لطف اندوز ہو رہے تھے. وہاں دو اور لوگ بھی ملے جو باوردی کسی اور کیس کیلئے سروے کر رہے تھے، انہوں نے نا صرف خود مجھے خوش دلی سے انٹرویو دیا بلکہ ہماری یونیورسٹی کے ایسے ہی پراجیکٹس کیلئے دلچسپی بھی ظاہر کی. وہاں ایک بھارتی سے انٹرویو کیا جو وہاں موجود لکڑی کی ایک کشتی میں بیٹھا انتہائی انہماک کے ساتھ کچھ پڑھ رہا تھا. میں نے جب اسے اپنے مقصد کے بارے میں بتایا تو اس نے خوش دلی سے انٹرویو دیا لیکن انٹرویو کے اختتام پر اس نے لکی ڈرا میں شرکت سے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی کہ "میں اپنے بل بوتے پر کچھ حاصل کرنا چاہتا ہوں اور اس قسم کی چانس منی پر یقین نہیں رکھتا ہوں”. اس سے بات چیت میں یہ اندازہ ہوا کہ بے شک وہ نوجوان اس وقت جدوجہد کے حال میں تھا لیکن اس کی سوچ نے مجھے بہت متاثر کیا۔
میری تیسری سائٹ ‘السوڈان میٹرو اسٹیشن ‘تھی، اس سائٹ سے متصل ایک بس اسٹیشن بھی تھا اور قطر کی پبلک ٹرانسپورٹ کمپنی ‘کاروہ’ کا اسٹاپ بھی تھا، میں یہاں نسبتاً کم لوگوں کے انٹرویو کر سکا. یہاں پر ایک بھاری بھرکم سردار جی سے انٹرویو یاد رہ گیا جو ایک بس ڈرائیور تھے اور اپنی عمر سے انتہائی بڑے لگ رہے تھے، فیملی کے بغیر تارکِ وطن کی زندگی گزار رہے تھے. ان کی خاص بات چہرے پر موجود وقار اور لب و لہجے کا ٹھراؤ تھا، ان سے بات کر کے یوں لگ رہا تھا کہ گویا وقت تھم سا گیا ہو۔
تیس نومبر ٢٠٢٢ کو میں سروے کرنے’ آکسیجن پارک’ گیا، وہاں پر ماحول بہت ہی پرسکون قسم کا تھا. لوگ کم ہونے کی وجہ سے شروع میں کچھ خاطر خواہ پراگریس نہ نکل سکی. اس جگہ کی خاص بات یہ تھی کہ کچھ انتہائی شرارتی افریقی عربی لڑکے کھیل رہے تھے اور جب ان کو لکی ڈرا کے بارے میں پتہ چلا تو یک دم سارے میرے اردگرد جمع ہو گئے، کچھ نے انٹرویو دیا اور کچھ نے آن لائن لنک لے کر آگے بڑھانے کا وعدہ کر لیا. مجھے اس جگہ پر رات کے کھانے کے بعد ایک آخری انٹرویو بھی یاد ہے جو کہ ایک قطری نوجوان کے ساتھ کیا، وہ ٹریک سوٹ میں ملبوس تھا اور میرے انگریزی میں کیے گئے کچھ سوالات کے جواب میں انتہائی حیران کن پاکستانی انداز میں ‘جی’ کہہ دیتا تھا. پھر اس نے بتایا کہ ان کا کسی پاکستانی کے ساتھ عرصہ دراز تک تعلق رہا تھا تو ان کو اردو کے کچھ الفاظ کی سمجھ بوجھ ہے۔
میری اگلی سائٹ ‘روادات الخیل پارک’ تھا جہاں بے انتہا رونق تھی اور زیادہ تر لوگ بیچلرز تھے جو آپس میں گپیں لگا رہے تھے. یہاں پر کچھ پشتون حضرات سے بات چیت ہو گئی جن میں دو بھائی تھے اور ساتھ میں کچھ بچے بھی تھے، سروے کے ساتھ ساتھ چھوٹے والے بھائی نے بتایا کہ وہ یہاں کے ایک سیکیورٹی ادارے میں کام کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ انتہائی دلچسپ انداز میں اپنے کام کی آسانیوں اور اللہ کے کرم کے گن گانے لگا اور بڑا بھائی بھی رشک کے ساتھ اسکے آسانی بھرے کام کا ذکر کرنے لگا. انہوں نے بتایا کہ وہ روز اسی وقت پیدل اپنے گھر سے اس پارک میں آتے ہیں اور چائے پیتے ہیں. بہت محبت والے لوگ ثابت ہوئے اور مجھے بھی انہوں نے چائے پلائی. اس پارک میں ایک اور بہت کھلے دل کے پاکستانی بزنس مین سے ملاقات ہوئی، وہ بہت جلدی میں تھے لیکن نا صرف انہوں نے مجھے پورا انٹرویو دیا بلکہ اپنا نمبر بھی شئیر کیا اس وعدے کے ساتھ کے میں اگر چاہوں تو انڈسٹریل ایریا میں انکے یارڈ آ کر انکے اسٹاف سے بھی جی بھر کر انٹرویوز کر سکتا ہوں۔

تین دسمبر ٢٠٢٢ کو میں ‘لوسیل مرینا پرومینیڈ’ گیا جہاں ورلڈ کپ کی وجہ سے بہت رونق اور چہل پہل تھی. اس جگہ کا کوئی خاص واقع مجھے یاد نہیں سوائے اس کے کہ یہاں ایک آفس کا ساتھی مل گیا جو مجھے سروے کرتے دیکھ کر کافی حیران ہوا۔

اس کے بعد میں دوحہ کے مشہور اور بڑے ‘ایسپائیر پارک’ گیا. یہاں کی خاص بات یہ تھی کہ ایک پاکستانی پشتون بھائیوں کے گروپ سے ملاقات ہو گئی جو کہ انتہائی متمول اور کاروباری قسم کے لوگ تھے، شروع میں ذرا کچھ ریزرو سے تھے لیکن بعد ازاں انہوں نے میرے ساتھ کافی تعاون کیا اور میرے کام سے متعلق کافی سوال و جواب بھی کیے. انہوں نے ساتھ ہی ساتھ اپنی کاروباری پریشانیوں کے احوال بھی بتائے. اس جگہ کے اختتام پر مجھے اتفاق سے ایک سعودی نوجوان مل گیا جس سے مجھے انٹرویو تو نہیں کرنا تھا لیکن وہ ایک انتہائی بے تکلف انسان ثابت ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اپنی ذاتی زندگی، گلف کے اسوقت کے حالات، اور عالمی صورتحال پر اپنی رائے کی کئی پرتیں کھول ڈالیں. بات چیت سے معلوم یہ ہوا کہ وہ امریکہ پلٹ ہے اور اپنے والد کا بزنس سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے. اسکی بات چیت میں موجود ربط، انگریزی پر گرفت، اور بے باک اظہارِ رائے نے مجھے بہت متاثر کیا
غالباً ‘ایسپائیر پارک’ میں ہی مجھے ایک پڑھے لکھے ماڈرن میمن بھائی ملے جو اپنی فیملی کے ساتھ وہاں آئے ہوئے تھے اور بہت جلدی میں لگ رہے تھے ۔ جب انہیں انٹرویو کی طوالت کا احساس ہوا تو انہوں نے میرے ہاتھ سے ٹیبلٹ لے لی اور جلدی جلدی سروے مکمل کر کے چلتے بنے۔
اسکے بعد میں ‘بروا ویلیج’ گیا جو کہ میرے لیے بہت تکلیف دہ سائٹ ثابت ہوئی، زیادہ تر لوگ جلدی میں تھے اور بہت کم لوگوں نے میری درخواست کو سنجیدگی سے لیا، زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے رہے کہ شاید میں کچھ بیچ رہا ہوں یا کچھ لینے آیا ہوں، لہذا اپنی سی کوشش کے بعد میں وہاں سے چل دیا۔ یہاں پر لوگوں کے رویے سے مجھے اس بات کا بھرپور احساس ہوا کہ کم از کم ایک بار کسی کی بات سننا کتنا ضروری ہے کہ ہر انسان فراڈ یا بے مقصد نہیں ہوتا ہے۔
سات دسمبر کو میں ‘مشریب ڈاؤن ٹاؤن’ گیا جو کہ قطر کے جدید ترین علاقوں میں سے ایک ہے. یہاں پر میں کچھ زیادہ کام نہیں کر سکا اور جلد ہی وہاں کی سیکورٹی نے مجھے روک دیا کہ انکی شرط تھی کہ میرے پاس اس علاقے کا خصوصی سکیورٹی کلیرنس ہونا ضروری ہے۔

اسکے بعد مجھے قطر کی آرٹس اور کلچر کے مرکز ‘کتارا’ جانا تھا جہاں بہت چہل پہل تھی اور ورلڈ کپ کے سلسلے میں آئے ہوئے سیاحوں اور بچوں کیلئے خاص سرگرمیوں کا انتظام کیا گیا تھا. اس زمانے میں بھی فلسطین کے حوالے سے کچھ معاملات چل رہے تھے اور کئی لوگوں نے فلسطین کے حق میں علامتی چیزیں زیب تن کی ہوئی تھیں، اسی حوالے سے ایک بوڑھے عرب جوڑے نے مجھے بھی ایک مفلر پہننے کے لئے دیا اور باقی سروے میں نے وہ مفلر پہن کر ہی کیا. وہاں موجود ایک سیکورٹی اہلکار سے بات ہوئی تو وہ پاکستانی نکلا اور اس نے بتایا کہ وہ ورلڈ کپ کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی ڈیوٹی پر قطر آئے ہوئے ہیں، یہ جان کر بہت خوشی اور فخر کا احساس ہوا. وہاں جب میں نے ایک صاحب سے انٹرویو کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ ہیں، ان کے ساتھ موجود ایک اور صاحب نے تمسخر بھرے لہجے میں ان سے کہا کہ "یار یہ سم بیچ رہے ہوں گے”. مجھے کافی عجیب شرمندگی کا سا احساس ہوا اور میں نے اپنے ڈاکومنٹس وغیرہ دکھا کر ان کی کچھ تسلی کروائی کہ میں سم بیچنے والا نہیں ہوں، غالباً وہ پوری فیملی پاکستانی سیاح کی حیثیت سے ورلڈ کپ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔
کتارا میں ہی سائٹ پر دو خوبصورت نوجوانوں سے ملاقات ہوئی، ان میں سے ایک ترک طلاق شدہ تھا اور دوسرا عرب نوجوان اپنے معاشی حالات سے پریشان سگریٹ کے کش لگائے جا رہا تھا. ایک طرف انکی خوبصورتی اور دوسری طرف ان کے حالات، یہ دو کردار بھی میرے ذہن کی اسکرین پر نقش ہو گئے. ایک بھارتی شخص جو اپنی فیملی کے ساتھ آیا ہوا تھا، اس نے باقاعدہ فیملی سے بریک لے کر مجھے انٹرویو دیا اور مجھے خصوصی طور پر یہ بتایا کہ وہ اس قسم کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے. ایک اور بھارتی شخص جو کہ وہاں کے انتظامی امور میں شامل تھا، اس نے انٹرویو کے ساتھ ساتھ مجھے بتایا کہ یہاں ‘بل گیٹس’ کی آمد ہونی ہے اور اگر میں اس ایونٹ میں شرکت کرنا چاہوں تو اس نے مجھے متعلقہ دن اور وقت سے بھی آگاہ کیا۔
میری اگلی منزل ‘الغرافہ پارک’ تھی، مجھے یاد ہے کہ اس دن موسم کچھ زیادہ ہی سرد اور اداس محسوس ہو رہا تھا، غالباً کھلی جگہ اور اکیلے پن کی وجہ سے! وہاں کی قابلِ ذکر بات ایک ملائشیین نوجوان سے انٹرویو تھا جس نے بہت حوصلہ افزا انداز میں انٹرویو دیا. وہاں سے واپسی پر ایک استاد سے بات ہوئی جس نے میری مدد کیلئے کچھ نمبرز دیے جن پر رابطہ کر کے سروے کو مزید کامیاب بنایا جا سکتا تھا۔.
”الطوار مال’ میں گنتی کے کچھ لوگ موجود تھے, یہاں پر ایک قطری نوجوان بہت گرم جوشی سے پیش آیا، ہم نے اسٹڈی کے حوالے سے موبائل نمبروں کا تبادلہ بھی کیا۔
فیفا ورلڈ کپ قطر 2022 اسٹڈی سروے میں میری اگلی لوکیشن ‘گرینڈ مال’ تھی جہاں پر زیادہ تر لیبر طبقہ موجود تھا، ہاں یہاں پر بھی ورلڈ کپ کے حوالے سے کچھ سرگرمیاں چل رہی تھیں. ہمارے سروے کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ہم قطر میں مقیم لوگوں کا ورلڈ کپ سے پہلے اور ورلڈ کپ کر دوران سفری رجحان پوچھ رہے تھے، ورلڈ میں عائڈد ٹرانسپورٹ سسٹم میں تبدیلیوں اور بے بہا سرگرمیوں اور ایونٹس کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کا سفری رجحان تبدیل ہوا تھا. گرینڈ مارٹ پر ایک بھولا بھالا پنجاب سے تعلق رکھنے والا پاکستانی ایسا بھی ملا جس کا ہر جواب تھا کہ اسکے سفری رجحان میں اور سرگرمیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس سے بات کر کے مجھے یوں لگا کہ وہ نہایت سخت ملازمت کے حالات کا شکار ہے اور باہر کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے، اسے کچھ نہیں معلوم. اسکے چہرے پر بناوٹی مسکراہٹ تھی، لیکن آنکھیں خالی خالی سی تھیں اور یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہو. اس کی سادگی اور بھول پن سے معمور چہرہ میرے ذہن چپک کر رہ گیا
گرینڈ مال پر ہی ایک کافی سمجھدار اور ہوشیار پاکستانی انجینئر سے بھی ملاقات ہوئی جنہوں پہلے پہل تو یہ فرمایا کہ "بھائی قدرتی طور پر اگر اس طرح کے انٹرویو کیلئے کوئی خاتون روکے تو سب بڑے آرام سے رک جاتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ یہ فیاضی مردوں کے ساتھ بھی دکھائیں تا کہ کسی کی مدد ہو سکے”، اسکے علاوہ انہوں نے اور ڈیٹا کولیکشن میں مدد کا ارادہ ظاہر کیا جس پر میں ان کا مشکور ہوں. گرینڈ مال پر اپنا آخری انٹرویو ایک ایسے پاکستانی سے کیا جو اس رات قطر سے ہمیشہ کیلئے پاکستان جانے والا تھا. اس نے مجھے بتایا کے اس نے انتہائی محنت کے ساتھ پیسے بچا بچا کر اپنی بہنوں کی شادیاں کیں، اپنا گھر بنایا، اور اب وہ بقایا بچت کے ساتھ پاکستان میں اپنا کام شروع کرے گا. اس نے بتایا کہ میں اپنے اہداف لے کر آیا تھا اور اب ان کی تکمیل کے ساتھ ہی واپس جا رہا ہے. اس نے بتایا کہ اس نے اتنی بچت کی کہ اگر اس سے ملنے بھی کوئی آتا تھا اس نے کبھی تو دو ریال کی کولڈ ڈرنک بھی کسی کو نہیں پلائی تھی. وہ یہ سب کچھ بڑے فخرکے ساتھ مجھے بتا رہا تھا اور میں حیرانی سے اس کا منہ تک رہا تھا، ایسا سخت اور پابند انسان پہلی دفعہ دیکھا تھا

اپنے سروے کے آخری مراحل میں، میں ‘ولاجیو مال’ گیا، ولاجیو مال قطر کے چند ابتدائی مشہور و معروف مالز میں سے ایک ہے. اسکی خاص بات اسکا انٹیریر ڈیزائن ہے، اسکی چھت کا رنگ آسمان اور بادلوں کی طرز پر ہے اور اندر جا کر ایک کھلے پن کا احساس ہوتا ہے. اسکے علاوہ مصنوعی جھیل بھی ہے جس میں لکڑی کی کشتی چلتی ہے اور لوگ سواری بھی کرتے ہیں. اسکے ساتھ ساتھ بچوں کیلئے ٹرین بھی چل رہی ہوتی ہے. اس مال کا قابلِ ذکر انٹرویو ایک پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے صاحب کے ساتھ تھا جنہوں نے انٹرویو کے ساتھ ساتھ کچھ اپنی باتیں بھی شئیر کیں، انہوں نے بتایا کہ پہلے پہل وہ بہت جذباتی ہوا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیکھا کہ بے وجہ کسی معاملے پر اصرار کرنا اور غصہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ہمارے ساتھ بہت سے دوسرے لوگوں کی امیدیں بھی جڑی ہوئی ہیں لہذا اب ہم کوشش کرتے ہیں کہ اختلافات نرمی سے ہی حل کر لیا جائے. اگر مجھے درست یاد ہے تو اس سائٹ پر میں نے آخری انٹرویو ایک پڑھے لکھے پشتون بھائی سے کیا، دیکھنے میں وہ کوئی انگریز معلوم ہو رہے تھے، میں نے جب اپنے اغراض و مقاصد بیان کئے تو کہنے لگے کہ "میں تو انٹرویو سے زیادہ آپ کے بارے میں جاننا چاہوں گا کیونکہ مجھے آپکی ڈگری اور سبجیکٹ میچ ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں” ، خیر میں نے اپنے تئیں انکو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی اور پھر ان سے معلوم ہوا کہ وہ قطر میں واقع پاکستانی سفارت خانے میں ایک اہم عہدے پر تعینات ہیں. بہر کیف انہوں نے خوشدلی سے انٹرویو دیا اور اپنا وزٹنگ کارڈ بھی مجھے دیا اور یوں یہ ایک یادگار ملاقات بن گئی۔
قطر میں ہونے والا فیفا ورلڈ کپ ٢٠٢٢ انتہائی کامیاب رہا اور قابلِ ذکر اور قابلِ فخر بات اس میں پاکستان کا سیکیورٹی تعاون تھا، ہم ورلڈ کپ کے کئی میچز بھی دیکھنے گئے اور وہاں سیکیورٹی پر معمور پاکستانی حکام کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور وہ بھی ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے رہے. اتفاق سے میرا ماسٹر تھیسس بھی ورلڈ کپ کے ٹرانسپورٹ اور سفری رجحانات کے حوالے سے بن گیا اور اس فیفا اسٹڈی سروے کے دوران مجھے قطر میں جاری اس میگا ایونٹ کی رونق اور چہل پہل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ چند لوگوں سے انفرادی طور پر بات چیت بھی ہوئی جن میں قطر میں موجود پاکستانی محنت کش اور دیگر شعبوں کے افراد بھی شامل تھے، جو میرے لیے ایک لائف ٹائم تجربہ بن گیا ہے. اس زمانے میں، میں کئی ایک محازوں پر جدوجہد کر رہا تھا لیکن جب میں نے اس سروے کے دوران لوگوں کے حالات کے بارے میں سنا تو میں کافی حد تک اپنی تکالیف بھول گیا بلکہ اس حوالے دوسروں کو بھی مثبت رہنے کی ترغیب دینے لگا. امید ہے یہ تحریر پڑھنے والوں کیلئے بھی کئی مثبت اور حوصلہ افزا سامان پیدا کرے گی۔