خلیجی ممالک میں سیاحت کے حوالے سے عام طور پر آجکل زیادہ تر لوگ ترکیہ، آذربائیجان ،ازبکستان ،جارجیہ ، اور یورپی ممالک میں سیر و تفریح کیلئے جانا پسند کر رہے ہیں. لہٰذا کچھ عرصے سے ہمارا پروگرام بھی کہیں چھٹیاں گزارنے کے حوالے سے بن تو رہا تھا لیکن دیگر مصروفیات کی وجہ سے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا موقع نہیں مل رہا تھا. نومبر 2025 میں کچھ طبیعت کی ناسازی ہوئی اور اپنے بارے میں کچھ سوچنے کا موقع ملا تو خرابئ صحت کی دیگر کچھ وجوہات کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھ میں آیا کہ بھرپور کام کے ساتھ ساتھ وقفہ بھی ضروری ہے، لہذا ایک ٹریول ایجنٹ کے ذریعے میں نے آذربائیجان کا ٹور بمع فیملی بک کروا لیا. ہمیں چھ دن آزربائیجان میں گزارنے کا موقع جو مجموعی طور پر بہترین تجربہ رہا.
آزربائیجان روانگی
ہم 21 دسمبر 2025 کو ائیر عریبہ کے ذریعے دوحہ سے براستہ شارجہ باکو پہنچ گئے جہاں ائیر پورٹ پر ہمارا معاون پہلے سے ہی موجود تھا. ہوٹل جاتے ہوئے اس نے ایک ہی جگہ سے کرنسی ایکسچینج اور مقامی سم حاصل کرنے میں میری مدد کی. مقامی ٹیلی کام کمپنی آذر سیل کے آفس میں سم کارڈ اور ایکسچینج کے کاؤنٹر ساتھ ساتھ موجود تھے. اس موقع پر ایک عجیب واقعہ یوں ہوا کہ دونوں کام ایک ساتھ کرنے کی وجہ سے میں سم کے پیسے دینا بھول گیا اور رستے میں پہنچ کر جب مجھے یاد آیا تو افسوس کے ساتھ گھبراہٹ بھی ہوئی کیونکہ بیرونِ ملک ہمارے ساتھ ہمارے ملک کا نام بھی منسلک ہو کر اور زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے. ازراہِ مزاق میری اہلیہ مجھے کہنے لگیں کہ ” کیسے پاکستانی ہیں آپ کہ لینڈ کرتے ہی مقامی لوگوں کو چونا لگا دیا ہے” اور ہم بے اختیار ہنسنے لگے. بہرحال میں نے وہ پیسے اپنے معاون کے ذریعے ادا کروا دیے تو کچھ سکون آ گیا. پہلے دن اس کے علاوہ ہماری کوئی خاص مصروفیت نہیں تھی.
فلیم ٹاورز اور Deniz Mall
دوسرے دن اندازاً بارہ بجے کے قریب ہم لوگ سٹی ٹور کے لیے سب سے پہلے مشہورِ زمانہ ‘ فلیم ٹاورز’ کی طرف گئے، اسکے قریب ہی میٹرو اسٹیشن بھی موجود ہے اور وہاں ہماری ایک ایکٹیوٹی funiculyar ride بھی پروگرام میں شامل تھی لیکن وہ جگہ اس دن بند تھی. اسکے بعد ہم باکو کے Deniz mall چلے گئے جو اپنے خوبصورت ڈیزائن کی وجہ سے مشہور ہے. دینیز مال جدید طرزِ تعمیر کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ اس کا ڈیزائن کنول کے پھول متاثر کی طرز پر ہے اور اندر کشادہ جگہیں، اونچی چھتیں اور قدرتی روشنی کا عمدہ انتظام موجود ہے۔ خریداری کے ساتھ ساتھ کھانے پینے اور فیملی کے لیے آرام دہ سہولیات اسے ایک خوشگوار جگہ بنا دیتی ہیں۔ ایک قابلِ توجہ بات یہ لگی کہ وہاں سارا اسٹاف مقامی تھا اور لوگ عمومی طور پر انتہائی خوبصورت اور نفیس معلوم ہوئے. Deniz mall سے منسلک سی فرنٹ اور باکو اسکائی لائن کا منتظر دل موہ لینے والا ہے. سی فرنٹ کے ساتھ ساتھ واک وے چل رہا ہے اور ساتھ ہی پارک اور اس میں موجود ریسٹورنٹ اور باکو کا معروف carpet museum بھی موجود ہے. اس سے قریب ہی Baku eye یعنی ایک بڑا دائرہ نما جھولا ہے جو نہایت آہستہ اور محفوظ انداز میں چلتا ہے اور اس میں بیٹھ کر آپ باکو کا خوبصورت نظارہ کر سکتے ہیں. یہ ساری جگہیں تصاویر کے لیے زبردست ہیں.
Photo by Miguel Cuenca: https://www.pexels.com/photo/sea-coast-of-baku-19998483/
اولڈ سٹی اور نظامی اسٹریٹ
اسکے بعد ہم لوگ old city چلے گئے ، وہاں جاتے ہوئے ہمیں جگہ جگہ مختلف مقامی تاریخی شخصیات کے مجسمے نظر آئے. اولڈ سٹی میں عام طور پر سیاح پیدل گھومتے ہوئے نظر آئے. پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے راستے ناہموار ہیں. ہمیں وہاں پر مختلف اشیاء کے ٹھیلے بکثرت نظر آئے جن سے خرید پر تھوڑا بہت بھاؤ تاؤ بھی ہو سکتا ہے. وہاں ایک شہد اور حلوہ جات کی دکان Balli میں جانے کا اتفاق ہوا، غالباً دکان کے ساتھ مالکان کا گھر بھی تھا. ہمیں بہت پر تپاک انداز میں بٹھایا گیا اور انواؤ اقسام کے بقلاوے، حلوہ جات، اور قہوہ پر خلوص انداز میں پیش کیے گیا. وہاں بیٹھ کر ایسا لگ رہا تھا کسی دیرینہ عزیز کے پاس موجود ہوں. مالک دکان نے اپنے جدّی پشتی کاروبار کی تاریخ ، پھیلاؤ ،اور کارگردگی کے حوالے سے ایک چھوٹی سی پریزینٹیشن دی اور بعد ازاں اپنی مختلف اشیاء خاص کر شہد کی کئی اقسام اور ان کے فوائد بتائے. لہٰذا ہم نے بچوں اور اپنی صحت کے حوالے سے تجویز کردہ شہد لے لیے.
بعد ازاں ہم لوگ اولڈ سٹی کی مختلف گلیوں سے ہوتے ہوئے باکو کی مشہور زمانہ ‘نظامی اسٹریٹ’ پہنچ گئے. داخلے سے پہلے درختوں کے سائے میں بینچ پر بیٹھی ایک عمر رسیدہ خاتون نے میری کچھ توجہ حاصل کر لی، مجھے محسوس ہوا کہ ضرورت مند خاتون ہیں لیکن منہ سے کچھ کہہ نہیں رہی ہیں اور مدد کی طلب گار ہیں، ایک آدھ بار نظریں چار ہوئیں تو انہوں نے فوراً ہی جھینپ کر نظریں ہٹا لیں. اسی اثناء میں کچھ عجیب کیفیت لیے ہوئے ہم بچوں کو سنبھالتے ہوئے آگے بڑھ گئے . ‘نظامی اسٹریٹ’ کافی بڑے رقبے پر گلیوں کے نیٹ ورک کی صورت میں تھی. داخلے پر ہی سانتا کلاز کے روپ میں کچھ نوسر باز قسم کے لڑکے مل گئے جو بچوں کو تصویر بنوانے کا جھانسہ دے کر نوٹ بٹورنے کے چکر میں تھے، ہمارے معاون نے ہمیں اس موقع پر ہمیں بچا لیا اور اس دوران اسکی ان سے کچھ نوک جھونک بھی ہو گئی. کھانے کے بعد، جب ہم مزید آگے بڑھے تو اندر کی جانب ایک بہت بڑا کرسمس ٹری کھڑا ہوا تھا، اور وہاں اسی حوالے سے غالباً عارضی نوعیت کے بہت سے اسٹال لگے ہوئے تھے اور میلے کا سماں تھا. لوگ جوق در جوق مختلف اطراف سے آ رہے تھے. ہم وہاں کافی دیر تک گھومتے سرد موسم ، نئی جگہ، نئے ماحول اورسڑکوں پر کئے گئے چراغاں کو انجوائے کرتے رہے. یونہی لگ رہا تھا کہ گویا یورپ کے کسی غیر مسلم ملک میں گھوم رہے ہوں. نظامی اسٹریٹ پر مختلف ریسٹورنٹس کے نمائندے لوگوں کو متوجہ کر رہے تھے، ایسے ہی ایک پاکستانی بھائی کے ساتھ ہم بھی دیسی چائے کی چاہ میں چل دیے. اس کا ریسٹورنٹ تین چار منٹ کی واک پر تھا. وہ ایک چھوٹا سا پاکستانی ریسٹورنٹ تھا جس کے اندر جا کر لگ رہا تھا کہ گویا پاکستان آ گئے ہوں. اندر اسٹاف میں ایک لوکل باپردہ خاتون بھی موجود تھیں. یہ ایک ابتدائی لیول کا ریسٹورنٹ تھا سب ہی مل کر کام کر رہے تھے، مالک اور ملازم کا کوئی فرق نہیں نظر آتا تھا. ہمارے علاوہ اور بھی کچھ پاکستانی گاہگ وہاں ملے اور ایک عرب فیملی بھی موجود تھی. چائے پی کر ہم واپس چل دیئے اور یوں یہ دن اختتام کو پہنچا. اب تک کے مشاہدے سے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ لوگ کچھ اداس سے ہیں۔ اب یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ تاثر اُس وقت کے سرد موسم کی وجہ سے تھا، یا واقعی میرا مشاہدہ درست تھا۔
باکو سے گبالا
تئیس دسمبر کو ہم باکو سے گبالا کے لیے روانہ ہوئے۔ تقریباً آدھے راستے میں ’الپاکا فارم‘ میں ہمارا وزٹ شیڈول میں شامل تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو اس فارم میں موجود جانوروں کو ہم پہلے پہل ’لاما‘ سمجھے، لیکن وہاں کے اسٹاف نے بتایا کہ وہ لاما نہیں بلکہ مقامی جانور ’الپاکا‘ ہیں۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ گلے ملتے ہوئے تصاویر صرف نر الپاکا کے ساتھ ہی بنوائی جا سکتی ہیں، مادہ کے ساتھ نہیں۔ وہاں نر اور مادہ الپاکا کے لیے باقاعدہ علیحدہ سیکشن بنے ہوئے تھے، اور تصاویر بنواتے ہوئے ہمیں ان کے نام بھی بتائے گئے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے جانوروں کے ایک پورے خاندان کا تعارف کروایا جا رہا ہو۔ ہم نے اس جگہ پر ڈھیر ساری تصاویر بنوائیں اور اسٹاف کی محبت سمیٹتے ہوئے نوہر لیک کی جانب نکل پڑے.
نوہر لیک
نوہر لیک کی طرف جانے والا راستہ بھی بے حد خوبصورت تھا، راستے کے دونوں جانب پت جھڑ کے موسم کی رسم نبھاتے ہوئے پتوں سے عاری باوقار انداز میں کھڑے ہوئے دراز قد درخت کھڑے تھے جو یقیناً بہار کے موسم میں اور بھی زیادہ خوبصورت نظر آتے ہوں گے۔
اس دن گبالا کے سرد موسم کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم نے موٹے تھرمل گارمنٹس بھی پہن رکھے تھے. اسکے ساتھ ساتھ پاکستانی قسم کی چائے نہ ملنے کی وجہ سے جب ہم نوہر لیک پہنچے تو سر میں شدید درد ہو رہا تھا اور ہم ٹھیک سے انجوائے نہیں کر پا رہے تھے۔ نوہر لیک کے آس پاس کئی ریستوران بنے ہوئے تھے، اور کچھ ریستورانوں کے ساتھ پانی میں چلنے والی بوٹس کا بھی انتظام موجود تھا، ان بوٹس کو پاؤں کے ذریعے سائیکل کے انداز میں چلایا جاتا ہے۔ ہم نے بھی ایک ریسٹورنٹ سے 25 منات میں بیس منٹ کے لیے ایک بوٹ حاصل کی اور پوری فیملی کے ساتھ اس میں سوار ہو گئے۔ تاہم بچوں کی جلد بازی کی وجہ سے ہماری بوٹ جلد ہی کم گہرائی والی جگہ پر پھنس گئی۔ اس موقع پر لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک پاکستانی فیملی نے ہماری بہت مدد کی، اللہ انہیں خوش رکھے۔ شدید سر درد کی وجہ سے ہم صرف ایک چھوٹا سا چکر لگا کر واپس آ گئے، لیکن انتظامیہ کے نوجوان نے کمال ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ ابھی آپ کے پاس تقریباً پندرہ منٹ باقی ہیں اور آپ اپنا وقت پورا کر سکتے ہیں, اس بات نے ہمیں بہت متاثر کیا۔ نوہر لیک کی سیر کے بعد ہم نے وہیں بیٹھ کر کھانا کھایا جو کہ قدرے مہنگا لگا، اور پھر گبالا کی جانب روانہ ہو گئے۔
چئیر لفٹ کی سیر
ہمارا معاون ہمیں ہوٹل لے جانے سے پہلے گبالا چیئر لفٹ کی جگہ پر لے گیا جو کہ کافی اونچائی پر واقع تھی اور جب ہم وہاں پہنچے تو ہمیں بتایا کہ وقت کی مناسبت کے ساتھ کل چار اسٹیشن میں سے دوسرے سٹیشن تک ہی جایا جا سکتا ہے. ہم ہدایات سمجھ کر لفٹ میں سوار ہو گئے جو کہ انتہائی جدید اور آرام دہ تھی اور مناظر بھی ہماری توقعات سے زیادہ خوبصورت اور بلندی بھی ہماری توقع سے بہت زیادہ تھی. بہرحال جب ہم پہلے اسٹیشن پر پہنچے تو وہاں پر برف باری پہلے ہی ہو چکی تھی اور ہم نے اپنی زندگی میں پہلی بار یوں برف کو دیکھا اور وہاں تھوڑا دیر انجوائے کرنے کے بعد ہم دوسرے اسٹیشن کی طرف بڑھ گئے. دوسرے اسٹیشن پر کچھ ریستوران تھے اور وہاں پہ کچھ سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا تھا اور ایک ایکٹیوٹی سینٹر بھی موجود تھا. وقت چونکہ کم تھا اس لیے وہاں پہ ہم تھوڑی ہی دیر نکلنے کے بعد ہمیں واپس واپسی کے لیے نکلنا تھا. وہاں پر اتفاق سے میری توجہ ایک پاکستانی جوڑے کی طرف مبذول ہوئی جس میں خاوند اپنی بیوی کو وقت کی کمی کی وجہ سے اگلے اسٹیشن پر نہ جانے کی مجبوری سمجھا رہا تھا ،وہ شخص مجھے کچھ دیکھا بھالا معلوم ہوا اور میں نے اپنے ذہن پر زور ڈالنے کی کوشش کی تاکہ یاد کر سکوں کہ کون ہے لیکن اس وقت تو مجھے یاد نہیں آیا کیونکہ وقت بہت کم تھا لیکن بعد میں ہوٹل پہنچ کر یاد آیا کہ وہ ہمارا انجینئرنگ کے زمانے کا ایک سینیئر تھا. جس طرح دو اسٹیشن عبور کرتے ہو آئے تھے، اسی طریقے سے دونوں اسٹیشن سے ہوتے ہوئے ہم واپس اپنے ابتدائی نقطے پر پہنچ گئے. وہاں پر ہم کچھ دیر کے لیے رکے، اسوقت اس جگہ کا منظر مسحور کن اور جادوئی قسم کا تھا. شام کا وقت اور موسم ابر آلود تھا، چیئر لفٹ اسٹیشن کے آس پاس کئی قسم کے درخت جن میں کچھ ہرے بھرے اور کچھ پتوں کے بغیرے، اور ان کے پیچھے آس پاس دراز قد پہاڑ کھڑے ہوئے تھے، یوں لگتا تھا جیسے وقت کچھ رک سا گیا ہو. وہاں ہم نے کچھ تصویریں فیملی کے ساتھ بنائیں. وہ منظر اتنا دلفریب تھا کہ میں وہاں کچھ اور رکنا چاہتا تھا لیکن مجبوراً چند ہی منٹ وہاں رک سکے اور اس کے بعد گبالا کے ہوٹل کی جانب روانہ ہو گئے.
گبالا شوٹنگ کلب
اگلے دن ہماری پہلی منزل گبالا شوٹنگ کلب تھی. اولاً تو ہم یہ سمجھے کہ یہ کوئی خاص ایکٹیوٹی نہیں ہوگی لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو خاصے بڑے رقبے پر ایک جدید شوٹنگ کلب موجود تھا اور اس میں ہر عمر کے افراد کے لیے سرگرمیاں موجود تھیں. ہم نے اپنے اور اپنی بچوں کے لیے بنیادی قسم کی شوٹنگ کے ٹوکن حاصل کیے. بچوں کے بعد جب ہم ہماری باری آئی تو پتہ چلا کہ ہم نے غیر ارادی طور پر اے کے 47 رائفل یعنی کلاشنکوف کی شوٹنگ کے ٹوکن حاصل کر لیے ہیں. یہ ایک انتہائی مختلف اور منفرد تجربہ تھا جہاں میں نے اور میری اہلیہ نے پہلی بار اس قسم کے گن فائر کا تجربہ حاصل کیا. میرا آزربائیجان جانے والوں کو یہ مشورہ ہے کہ وہ گبالا شوٹنگ کلب ضرور جائیں اور اس منفرد تجربے کو جی بھر کر حاصل کریں.
خال خال آبشار
ہماری اگلی منزل ایک خوبصورت آبشار، خال خال تھی۔ جب ہم اس کی جانب روانہ ہوئے تو راستے کے مناظر نہایت دلکش تھے۔ دونوں جانب بغیر پتوں کے درخت اپنی باوقار شان کے ساتھ کسی محافظ کی طرح سڑک کے کنارے جھکے ہوئے کھڑے تھے، اور درمیان میں کہیں کہیں کچھ جانور بھی چرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ یہ سفر آذربائیجان کے دیہی علاقوں سے گزرتا ہوا تھا، جہاں گاؤں کی سادہ زندگی کی واضح جھلک محسوس ہو رہی تھی۔
یہ آبشار گاؤں کے اندرونی حصّے کی جانب خاصی دور واقع تھی۔ راستے میں ہمیں جگہ جگہ بچے اپنے اسکول سے واپسی کے سفر میں گروپ کی صورت میں چلتے ہوئے نظر آئے۔اس کے علاوہ کچھ قبرستان بھی نظر آئے جن میں مرحومین کی تصاویر بھی لگی ہوئی تھیں. بالآخر جب ہم آبشار پر پہنچے تو ہمارے علاوہ چند اور سیاح بھی موجود تھے، جو تصاویر بنانے میں مصروف تھے۔
وہاں پہنچ کر مجھے احساس ہوا کہ اس جگہ پر لوگوں کی آمد و رفت نسبتاً کم ہے۔ آس پاس موجود چھوٹے موٹے کاروباری سیٹ اَپس کی حالت بھی کچھ اچھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ کاروبار کی کمی کی وجہ سے لوگ کسی قدر پریشانی کا شکار ہیں۔
آبشار سے واپسی پر ہمارے معاون نے ہمیں سفاری کا تجربہ دلوایا جس میں وہ گاڑی کافی اونچائی کی طرف لے کر گیا جہاں پر ہمیں برف باری نظر آئی اور انتہائی اونچائی سے گبالا کے پہاڑوں کے مناظر بہت ہی خوبصورت اور دلفریب لگ رہے تھے. اس کے بعد وہ ہمیں ایک مقام پر لے گیا جہاں بہت ہی خوبصورت انداز میں کچھ کھانے پینے کے ریستوران موجود تھے اور بیٹھنے کا انتہائی عمدہ اہتمام کیا گیا تھا، بچوں کے کھیلنے کے جھولے بھی لگے ہوئے تھے. وہاں کھانا ناصرف مناسب قیمت بلکہ معیاری بلکہ لذیذ بھی تھا اور انتہائی مناسب سروس مہیا کی گئی تھی، یہ ایک لائف ٹائم تجربہ تھا.
فائیر ٹیمپل اور فائیر ماؤنٹین
اس سے اگلے دن سب سے پہلے ہم فائر ٹیمپل کی جانب گئے جو کہ قدیم قلعے کی مانند تھا اور اس کو محکمہ آثارِ قدیمہ کی جانب سے بحال کر کے عوام کیلئے کھولا گیا ہے.یہ عمارت چکور شکل میں ہے اور متعدد کمروں پر مشتمل ہے جو ایک ترتیب کے ساتھ بنے ہوئے ہیں. اس ٹیمپل کے درمیان ایک میدان ہے جس کے بیچوں بیچ ایک آگ جلانے کا چبوترہ ہے جس میں الاؤ موجود ہے جہاں اس وقت وہ آگ تو نہیں لگی ہوئی تھی لیکن کچھ لوگ اپنے ہاتھ قریب لے جا کر بجھے ہوئے انگاروں کی تپش محسوس کرنے کی کوشش کر رہے تھے. وہاں ہم نے عقیدت مندوں کی جانب سے پھینکے گئے کچھ سکے بھی دیکھے. ہم باری باری تمام کمروں میں گئے جہاں نہ صرف دورِ قدیم کے زمانے کے مختلف مذاہب اور طرزِ فکر کے لوگوں کے استعمال میں رہنے والے چیزیں رکھی ہوئی بلکہ ان کی روز مرہ زندگی کے معمولات کو بھی مجسموں اور ماڈلز کے ذریعے دکھایا گیا تھا. اس دن اور اس وقت موسم بہت مسحور کن تھا، ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی اور یوں ہم نے فائر ٹیمپل کا دورہ مکمل کیا.
فائر ٹیمپل کے بعد ہمارا معاون ہمیں لے کر فائر ماؤنٹینز Yanardag(ینارڈاغ) لے گیا، جو اپنی قدیم تاریخ اور زمین سے نکلتی قدرتی گیس کی وجہ سے صدیوں سے روشن ہے۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کے زیرِ انتظام یہ مقام ایک بڑی ٹورسٹ اٹریکشن ہے جہاں ہم نے ان کبھی نہ بجھنے والے شعلوں کے قریب تصاویر بنوائیں. یہاں بھی لوگوں کے پھینکے ہوئے منتی سکے آگ کے آس پاس پڑے ہوئے تھے۔
گوبستان راک آرٹ میوزیم اور مڈ والکینوز
اس کے بعد شیڈول کے مطابق ہم لوگ گوبستان راک آرٹ میوزیم پہنچے۔اس وقت موسم خاصا سرد تھا اور تیز ہوا چل رہی تھی. یہ ایک جدید میوزیم ہے اور اس علاقے کے قدیم لوگوں کی تاریخ اور طرزِ زندگی کو دلچسپ انداز میں پیش کرتا ہے، جہاں مختلف ماڈلز اور گرافکس کے ذریعے ماضی کی ایک واضح جھلک دکھائی گئی ہے۔ ساتھ ہی قدیم زمانے سے تعلق رکھنے والی اصل اشیاء مثلاً پرانے دور کے برتن، سکے، اور جیولری وغیرہ بھی وہاں محفوظ کی گئی ہیں۔ وقت کی کمی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم نے میوزیم کا صرف سرسری جائزہ لیا اور آگے روانہ ہو گئے۔
اس دن کا ہمارا آخری اسٹیشن گوبستان مڈ والکینوز تھے، جو پورے سفر کے تناظر میں ایک نہایت منفرد اور لائف ٹائم تجربہ ثابت ہوئے۔ اس مقام کی جانب بڑھتے ہوئے ایک مخصوص جگہ پر پہنچ کر ہمیں فور ویل گاڑی میں منتقل کیا گیا، جو تقریباً دس سے پندرہ منٹ تک انتہائی ناہموار اور کچے راستے پر سفر کرتے ہوئے ہمیں مڈ والکینوز تک لے گئی۔
مڈ والکینوز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ عموماً اُن علاقوں میں پائے جاتے ہیں جہاں زمین کے اندر میتھین گیس یا تیل کے ذخائر موجود ہوتے ہیں۔ نام کے مطابق، یہ پانی اور کیچڑ کے امتزاج سے ایک آتش فشانی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو دیکھنے میں خاصی دلچسپ اور غیر معمولی محسوس ہوتی ہے۔ وہاں پہنچ کر ہمارے گائیڈ نے آگ جلا کر بھی دکھائی. اگرچہ یہ بات دیکھنے اور سننے میں خطرناک محسوس ہوتا ہے، لیکن وہ اس عمل پر مصر تھا اور خاصا پُراعتماد نظر آیا۔
اس وقت درجۂ حرارت تقریباً منفی ایک یا دو ڈگری تھا۔ وہاں ایک بھارتی فیملی بھی موجود تھی، جو ہمیں پر شیر خوار بچی کے ساتھ دیکھ کر خاصی حیران ہوئے۔ بعد ازاں ہم اسی اونچے نیچے، رولر کوسٹر جیسے راستے سے واپس ابتدائی مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔
مجموعی طور پر یہ دن نہایت یادگار اور شاندار رہا، جس میں ہمیں گوبستان، آذربائیجان کے آگ سے متعلق قدرتی اور تاریخی مقامات کو قریب سے دیکھنے اور محسوس کرنے کا موقع ملا۔
میوزیم آف منی ایچر بکس
ہماری واپسی جمعہ 27 دسمبر کو شیڈول تھی. جمعہ کی مناسبت سے میری خواہش کے مطابق ہمارا معاون مجھے وہاں کی ایک بڑی مسجد لے گیا. وہاں سیکورٹی کا خاص انتظام تھا اور لوگ آہستہ آہستہ جمعہ کیلئے جمع ہو رہے تھے.ویاں یہ معلوم ہوا کہ ابھی جمعہ میں کافی وقت ہے لہٰذا ہوٹل چیک آؤٹ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم بادل نخواستہ وہاں سے نکل گئے.
ہوٹل چیک آؤٹ کیا اور میری اہلیہ کی خواہش پر Museum of miniature books, Baku چلے گئے. یہ میوزیم انتہائی چھوٹی کتابوں کے سب سے بڑے ذخیرے کے لیے گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ سرٹیفیکیٹ بھی حاصل کر چکا ہے. ہم نے بچوں کے ساتھ جلدی جلدی اسکو دیکھا، اس میں چند ایک ایسی کتابیں بھی تھی جنھیں دیکھنے کیلئے بھی عدسے کی ضرورت پڑتی تھی. وہاں پر مختلف رہنماؤں کے اس میوزیم کے دوروں کی یادگار تصاویر بھی موجود تھیں. ان تصاویر میں اس میوزیم کی انچارج صاحبہ بھی نمایاں تھیں. لیکن اسوقت وہ اپنی کرسی پر ناک بھوں چڑھائے بیٹھیں تھیں ، یوں لگتا تھا کہ اسوقت وہاں موجود افراد انہیں ناگوار لگ رہے ہوں. لیکن تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک گروپ کے ساتھ مسکراتی اور تبادلہ خیال کرتی ہوئی نظر آئیں، وہ نسبتاً بڑا گروپ ایک گائیڈ کی راہنمائی میں وہاں آ گیا تھا. خیر ہم یہ منفرد تجربہ لے کر ایئرپورٹ چلے گئے.
قطر واپسی
ائیر پورٹ پر ہم نے اپنے انتہائی گرم جوش معاون اور ان کی کمپنی کیلئے ایک اپنے تجربات اور تاثرات بر مبنی ایک ویڈیو بنوائی اور اس کو تشکر کے ساتھ خیر باد کہہ دیا. حیدر علی ائیر پورٹ پر چیک ان کی جگہ بہت تنگ تھی اور ائیر پورٹ پر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کسی قدر پریشانی کا باعث محسوس ہوئے. امیگریشن پر ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جس میں کاؤنٹر پر موجود آفیسر بغیر کسی خاص وجہ کے میرے ساتھ انتہائی بدتمیزی سے پیش آیا، ایسے میں محترم قاسم علی شاہ صاحب کی ایک ویڈیو میں سنے الفاظ میرے ذہن فوراً آگئے جو کہ کچھ یوں تھے "سمجھدار انسان بری صورتحال سے بھی تحمل کے ساتھ نکل جاتا ہے جبکہ بے وقوف شخص کسی اچھے موقع پر بھی بد مزگی پیدا کر دیتا ہے”. لہٰذا ہم اس سے الجھنے کی بجائے صبر اور برداشت کر کے وہاں سے نکل آئے، ہاں یہ ضرور ہے کہ میں نے بعد ازاں اس واقعے کی شکایتی ای میل متعلقہ محکموں کو بھیج دی. اس قسم کی جگہوں پر اچھے اور خوش اخلاق افسران کی تعیناتی بہت ضروری ہے کہ سیاحوں کو پریشانی نہ ہو.
چند تجربات اور مشاہدات
آزربائیجان میں گھومتے ہوئے آپکو اکثر پرانی رویسی ساختہ ‘لاڈا’ گاڑیاں نظر آتی ہیں جو روسی دور کی یاد تازہ کرتی ہیں. اس ملک میں جگہ جگہ شراب بکثرت نظر آئی جو ہمارے لیے انتہائی باعث حیرت تھی.
اگر آپ اپنے اہل خانہ بشمول چھوٹے بچوں کے ساتھ جا رہے ہیں تو ایسا پیکیج لیں جس میں کم از کم مقامی ڈرائیور سمیت گاڑی مل جائے، اس سے وہاں گھومنے میں بہت سہولت ہو جاتی ہے. مقامی چائے کا ذائقہ ہماری چائے سے بہت مختلف ہے اور caffeine کی کمی سر درد کی صورت میں ضرور ظاہر ہو جاتی ہے لہذا اگر آپ چائے کے شوقین ہیں تو اپنے ساتھ چائے کے ٹی بیگ اور دودھ وغیرہ ضرور لے کر جائیں. جانے سے پہلے متوقع موسم کے بارے میں ضرور معلومات حاصل کر لیں اور سرد موسم میں تھرمل کپڑے لے جائیں اور اگر برف باری انجوائے کرنا چاہتے ہیں تو واٹر پروف گلوز اور مناسب جوتے لے کر جائیے. چئیر لفٹ اور دیگر تفریح کی جگہوں پر وقت سے پہنچ جائیں تاکہ ان سہولیات سے بھرپور لطف اٹھا سکیں.
ہم دنیا میں جہاں بھی جائیں، ہمارے ذہن میں یہ بات ضرور موجود ہونی چاہیے کہ ہم وہاں پاکستان کے ایک چھوٹے سے سفیر کی حیثیت رکھیں گے اور ہمارا کوئی اچھا عمل یقیناً ہمارے ملک کی نیک نامی کا باعث بنے گا. آزربائیجان اور پاکستان کے تعلقات اسوقت بہت خوشگوار ہیں اور یہ بات مجھے وہاں گھومتے ہوئے اچھی طرح محسوس ہوئی. مجموعی طور پر ہمارا آزربائیجان کا دورہ بہت اچھا اور یادگار رہا، لوگوں کو اس خوبصورت ملک کی سیر کیلئے ضرور جانا چاہیے.