میرا سفرِ حج

میرا سفرِ حج

‘حج 2018 بمطابق 1439 ھجری کی روداد’

اللہ تعالٰی نے مجھے اور میری فیملی کو پچھلے سال حجِ بیت اللہ کی سعادت نصیب فرمائی. میں اس روحانی تجربے کی تفصیلات آپ سب سے شیئر کرنے کیلئے بے چین تھا لیکن بے پناہ مصروفیت اور کچھ سستی کے باعث ایسا نہ ہو سکا. بہر حال اب بھی الحمدللہ اچھا وقت ہے اور اس سال کا حج بھی قریب آ رہا ہے تو امید ہے کہ ہمارے تجربات کسی کے کام آ جائیں۔

جس دن سے مجھے صحیح معنوں میں حج کی سنجیدہ نوعیت اور فرضیت کی سختی کا ادراک ہوا، اسکے بعد ایک ایک دن گزارنا مشکل ہو گیا تھا. خاص کر آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ حدیثِ مبارکہ جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ “جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان ہو اور اس کو سواری میسر ہو جو بیت اللہ تک اس کو پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو ک مرے”۔ (منقول)

سمندر پار پاکستانیوں کیلئے حج ایپلیکیشن کا کوئ واضح نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں اس ضمن میں کافی مسائل کا سامنا رہتا ہے، اس کا تفصیلی ذکر میں اپنے ایک پچھلے بلاگ میں کر چکا ہوں. تفصیل کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کریں :

https://wordpress.com/post/msultanshah.com/284

قصہ مختصر کئی کافی جدوجہد کے بعد رب کی مہربانی سے ہمارا نام سرکاری اسکیم کے تحت قرعہ اندازی میں نکل آیا.

حج سے پہلے!

حج روانگی سے پہلے نظریہ حج اور اسکے پس منظر کو سمجھنے کیلیے اپنے تئیں کافی کوشش کی. یوٹیوب پر مستند عالم دین کے لیکچر وغیرہ سنے. سرچ کے دوران اندازہ ہوا کہ طریقہء حج کے اوپر کافی مواد موجود ہے پر اسکے وسیع تر معنوں پر ٹھوس کام شائع کرنے کی بہت ضرورت ہے. اس سارے عمل کے دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات، ان کی قربانیوں اور ان کے مقام کا پہلے سے زیادہ ادراک ہوا. قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

” بے شک ابراہیمؑ اپنی ذات سے ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سو وہ کبھی مشرک نہ تھا. اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا اللہ نے اس کو منتخب کر لیا اور سیدھا راستہ دکھایا.دنیا میں اس کو بھلائی دی اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہوگا. پھر ہم نے تمہاری طرف یہ وحی بھیجی کہ یک سو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا. “( ترجمہ سورۃ النحل آیات ١٢٠-١٢٤) “

سوچ کے نئے دریچے کھلے اور زیادہ سے زیادہ حج کے معاملات کو کھوجنے کی جستجو پیدا ہوئی . روانگی سے قبل محترم مدثر بھائی نے فلسفہء حج پر ایک پرمغز نشست میں ہماری رہنمائی فرمائی. ان کا کہنا یہ تھا کہ “حج کی بھرپور تیاری کریں اور دورانِ حج مشکلات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ اختیار یعنی اطاعت اور استقامت سے کام لیں.”

جدہ روانگی:

ہمارا گروپ کل 13 افراد پر مشتمل تھا جس میں جناب ضرار بھائی اور ظفر بھائی کی فیملیز، میں، میری اہلیہ اور ہمارے دو بچے بھی شامل تھے جن کی عمریں اسوقت 4.5 اور 2.5 سال تھیں.حج سے صرف چند دن قبل ہم لوگ کراچی ائرپورٹ سے 15 اگست کی فلائٹ سے روانہ ہوئے.

Jeddah-airport

جدہ ائرپورٹ پر آمد سے لے کر سامان کی وصولی بہت آرام سے ہو گئی. سعودی حکام نے نہایت گرمجوشی سے حجاج کا استقبال کیا،ا ہم پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں. بہت سے حاجیوں نے اپنی سہولت کے لیے ایئرپورٹ پر ہی موبائل سم حاصل کر لیں. ہم رات گئے ہم اپنے ہوٹل بتحہ قریش کے علاقے میں پہنچے. وہاں پر پاکستانی معاونین نے نہایت مستعدی سے ہمیں وصول کیا. سامان کی منتقلی اور اپنے اپنے کمروں میں ہونے شفٹ ہونے میں کافی وقت لگ گیا.بالآخر سب اپنے اپنے کمروں تک پہنچ گئے. اب ہمارے لئے یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ ہمارے دونوں بچوں کا کمرہ ماں سے علیحدہ دیا گیا تھا. سامان اور بچوں کو ہینڈل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا.

بہرحال کسی نہ کسی طرح ہم اپنے پہلے عمرے کے لیے روانہ ہوئے. ہمارا خیال یہ تھا کہ بچوں کی آسانی کے لیے وہیل چیئر حرم شریف کے مخصوص سیکشن لے لیں گے لیکن اس وقت ایسا ممکن نہ ہوسکا اور سارا راستہ بچوں کو گود میں لے کر چلنا پڑا. اس معاملے میں گروپ کے ممبران نے بہت تعاون کیا کیا اور باری باری ہمارے بچوں کو اٹھا کر طواف شروع کر دیا گیا. یہ تقریباً ایک ناممکن مرحلہ تھا اور پھر وہ الفاظ میرے ذہن میں کھانا گونجے کہ “ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ یاد رکھنا” اور ذہن میں یہ بات آنے لگی آج کل کی کوئی بھی آزمائش حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش سے بڑی نہیں ہو سکتی. بس یہی سوچ کر پختہ ارادے کے ساتھ طواف جاری رکھا. غالباً تیسرے یا چوتھے چکر میں اللہ تعالی نے کرم کیا اور گروپ میں شامل ہماری ایک بہن کسی فرشتے کی مانند ایک وہیل چیئر کہیں سے لے آئیں اور ہم نے سوتے بچوں کو وہیل چیئر پر ڈال دیا کیا یوں ہمارا عمرہ باآسانی مکمل ہوگیا. اللہ تعالی محترمہ کو اس نیکی کی جزائے خیر عطا فرمائے، آمین. عمرہ سے فارغ ہوکر ہوٹل جا کر آرام کیا.

safa-marwa-1-1024x646

اب تک کے واقعات سے مجھے یہ لگ رہا تھا کہ میں نے بچوں کو ساتھ لاکر زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر لی ہے، آگے کیسے چلنا ہے، یہ سوچنے لگا. پھر وہی ہوا اللہ تعالی کی مدد بر آئی، صورت حال ایسی بدلی کہ مجھے اور میری میری فیملی کو ایک علیحدہ کمرہ بلکہ ایک اپارٹمنٹ ٹائپ بمع ہال، کچن میسر آگیا گیا اور باقی لوگ بھی اپنے اپنے حساب سے بہت اچھے سیٹل ہوگئے.

حج انتظامات:

ہوٹل کی رہائش گاہ انتہائی آرام دہ اور شاندار تھی جس میں ہر چیز موجود تھی. پاکستانی معاونین اور دیگر اسٹاف نے بہت جانفشانی کے ساتھ حاجیوں کو ہینڈل کیا اور انتہائی حد تک جاکر ہماری مدد کرتے رہے. کھانے کا انتظام بہت زبردست اور قابلِ تعریف تھا. مزیدار کھانے اپنے شیڈیول پر پیش کیے جاتے رہے. اس موقع پر ہمارے بچوں نے خوب رونق لگائے رکھی اور کھانے کے دوران ہال اور کچن کے درمیان دوڑتے بھاگتے رہے. کچن اسٹاف بھی ان سے مانوس ہوگیا اور ہر طرح ہماری ضرورت کا خیال رکھا.

car6

مسجد الحرام آنے اور جانے کے لیے ہوٹل کے باہر جدید ترین ماڈل کی بسیں ہروقت تیار کھڑی رہتی تھی. بس حاجیوں کو لے کر کدئ کے اسٹیشن پر چھوڑتی تھی اور وہاں سے شٹل سروس کے ذریعے حرم شریف جایا کرتے تھے. مسجد الحرام کے علاوہ اپنی سہولت کے مطابق نماز قریبی مسجد میں پڑھتے تھے. مسجد میں حاجیوں کی خدمت کے لئے ٹھنڈا پانی اور کھجوریں ہر وقت دستیاب تھیں. اس مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے مجھ پر جو روحانی کیفیت طاری ہوئی اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے :

“ یا اللہ تیری کتنی بڑی کرم نوازی ہے. ہے مجھ جیسی نا چیز ایک عام سے بندے کو اتنی بڑی سعادت عطا فرما دی. میں تیرا شکر کیسے ادا کروں”

اپنی کج فہمیوں اور نادانیوں کا احساس، زہن کی سکرین پر ابھرتے زندگی بھر کے مختلف واقعات, سب عزیزوں کے لئے دعائیں اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جاری و ساری لڑیاں…. ‘وہ وقت ساری زندگی کا سرمایہ بن گیا ہے’ .

حج سے پہلے:

حج کا وقت قریب آچکا تھا اس لئے سب لوگ حج کی تیاریاں کرنے میں مصروف ہوگئے. اس دوران میں نے یہ محسوس کیا کیا کہ وہاں ہر حاجی کو کسی نہ کسی چیلنج کا سامنا تھا. کسی کو لفٹ استعمال کرنا نہیں آرہی تھی، کسی سے سعودی سم ایکٹو نہیں ہو پا رہی تھی. کوئی اپنا انٹرنیٹ کنکشن نہیں کر پا رہا تھا اور کوئی اپنے گروپ میں ‘اسپیشل کیس’ ہینڈل کرنے میں لگا ہوا تھا. غرض یہ کہ تقریبا آئیڈیل انتظامات کے باوجود ایک نان آئیڈیل صورتحال درپیش تھی.ہم نےاپنے آپ کو آنے والے حج کے دورانیے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا شروع کردیا. میں نے ہوٹل لابی میں لگے تمام لئے نوٹس پڑھ ڈالے اور بچوں کی حفاظت کے لئے مختلف پلان بناتا رہا. ہمارے روم کے برابر میں پاکستان حج مشن کے ایریا فوڈ انچارج جناب فاروق صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ مقیم تھے تھے. وہ لوگ اپنے اپنے مقررہ وقت میں کام سرانجام دینے کے بعد کمرے میں آرام کیلئے تشریف لاتے تھے. فاروق صاحب بہت محبت سے پیش آئے اور حج کے حوالے سے بہت اچھی ٹپس دیں.

حج کے دن:

Mina-tents

8 ذوالحج علی الصبح ہوٹل سے بسیں حاجیوں کو لے کر منی١ روانہ ہوگئیں. سعودی عرب نے دنیا بھر کے حاجیوں کے لیے اپنے بازو کھول دیے۔ دل دھڑکتے دلوں کے ساتھ لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے ہم منی١ میں اپنے خیموں تک جا پہنچے۔ ہمارا مکتب نمبر نمبر 87 تھا اور اسی کے خیموں میں جاکر ہم مقیم ہوگئے اور ناشتہ کیا۔ منی١ جانے سے پہلے پاکستانی انتظامیہ نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ حج کے پانچ دنوں میں ہم سب متعلقہ مکتب اور معلم کی ذمہ داری پر ہوں گے. ”اس بات کا مطلب آنے والے دنوں میں ہمیں اچھی طرح سمجھ میں آگیا”۔

خیموں میں شدید ترین بدنظمی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ معلم کا کوئی نمائندہ اپنے آفس میں موجود نہ تھا۔کچن سے جیسے تیسے کھانے کی سپلائی جاری تھی۔ ہماری اطلاعات کے مطابق کچھ مقامی پاکستانیوں نے بھی مفت میں خیموں کا رخ کیا اور بعض نے تو کچن پر حملہ بھی کر دیا اور کھانے کو لوٹا۔اسی وجہ سے کئی مواقع پر حاجیوں کو کھانا مل نہ سکا۔ خیمے میں چند جانے پہچانے چہرے بھی نظر آئے، یہ دراصل ہماری بلڈنگ کے اندر سروس دینے والے لوگ تھے جو کہ احرام باندھ کر ہمارے ساتھ ہی خیمہ زن ہو گئے تھے ۔ اب ظاہر ہے کہ انتظام تو صرف پاکستان سے آئے حاجیوں کیلئے تھا لیکن باہر کے لوگوں کے آنے سے انتظام خراب ہو گیا. اسی وجہ سے چند معصوم حاجیوں کو رستوں میں یا پھر گھس گھسا کر بہت تکلیف میں گزارا کرنا پڑا۔

8 ذوالحج کا دن بہت گرم رہا اور شام کو اچانک تیز ہوائیں چلنا شروع ہوگئی اور خیمہ ہلنا شروع ہوگیا. یہ شاید قدرت کا پہلا امتحان تھا ،بہرکیف یہ طوفان بھی گزر گیا۔

اگلی صبح نو ذوالحج یومِ عرفات کے دن منی١ سے عرفات جانا بھی کافی مشکل ثابت ہوا۔ آس پاس دوسرے ممالک کے خیمے تھے ان کی بسیں آتی جا رہی تھی اور اپنے حاجی لے کر جا تی جا رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اگر کوئی بس نہیں آرہی تو وہ مکتب 87 کی بس تھی۔ مکتب 84 والوں کا حال بھی لگ بھگ ہمارے جیسا ہی تھا۔ بڑی مشکل سے تقریبا ساڑھے دس بجے کے بعد ہماری بسیں آنا شروع ہوئیں ۔ اس موقع پر عجیب نفسانفسی کا عالم دیکھنے کو ملا۔ میرے ساتھ اس وقت میری اہلیہ، میرے دو بچے طلحہ بھائی اور گروپ کی دیگر دو بہنیں موجود تھے۔ طلحہ بھائی ان دنوں زخمی حالت میں فریکچر بازو کے ساتھ ہے۔ اس کمزور گروپ کے ساتھ بس پر سوار ہونا شدید رش میں تقریباً ناممکن دکھائی دے رہا تھا کیونکہ ایک تو بسیں بہت کم تھیں اور اگر آ بھی رہی تھیں تو ان پر لوگ دھاوا بول کر سوار ہو رہے تھے۔ غرض یہ کہ تپتی دھوپ میں ہم لوگ اِدھر سے اُدھر کوشش کرتے کرتے اپنے خیمے کے عقب میں موجود ایک بڑے سے پل کے نیچے جا پہنچے۔ ایک پیارا کسرتی جسم والا بھائی جو ہمیں نوٹ کر رہا تھا وہ میرے پاس آیا اور بولا: “بھائی آپ فکر نہ کریں، میں اور میرے ساتھی آپ لوگوں کو سوار کرواتے ہیں۔ میں بس کا مرکزی دروازہ سنبھالوں گا اور آپ لوگ چڑھ جائیے گا”۔ اس بھائی اور اسکے ساتھیوں کے لیے بھی ڈھیروں دعائیں جس نے ہماری مدد کرنے کی بہت کوشش کی، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ بسیں آنا بند ہوگئیں، تقریبا ساڑھے گیارہ بجے کے قریب۔ میں نے جب ذرا غور کیا تو باقی رہ جانے والوں میں سب کمزور لوگ تھے، بہت درد ناک اور معاشرتی صورتحال کی عکاسی کرتا منظر تھا۔ وہیل چیئرز پر بیٹھے ہوئے بزرگ افراد ایسی فیملیز جن میں خواتین زیادہ تھیں جو سوار نہ ہو سکیں اور باقی ایسے ہی کچھ اور چہرے۔ اسی اثناء میں مجھے پانی لینے کے لیے خیمے کے اندر جانے کا اتفاق ہوا، وہاں وہیل چیئر پر بیٹھے چند بزرگ حضرات اور ان کے ساتھ چند نوجوانوں کو دیکھا جو انتہائی پرسکون انداز میں بہت باوقار طریقے سے عرفات جانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ اُنہیں دیکھ کر رشک بھی آیا اور ہمت بھی بندھی۔ سعودی انتظامیہ بقیہ لوگوں کو نکالنے کیلئے سر توڑ کوشش کر رہی تھی، فضا می ہیلی کاپٹر صورتحال کا جائزہ لے رہے تھے. آخر کار چند آخری سرکاری بسوں میں سے ایک بس میں ہم بھی سوال ہو ہی گئے. اس بس میں زیادہ تر بھائیوں کا تعلق بنگلہ دیش تھا، ان کا جوش اور ولولہ کا قابلِ دید تھا۔ منی١ سے عرفات کے جس سفر کے بارے میں ہم نے سنا تھا کہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے وہ سفر فراٹے لیتی ہماری بس نے بمشکل بیس منٹ میں طے کر لیا اور ہمیں میدانِ عرفات کے ایک مقام پر لے جا کر چھوڑ دیا۔ وہاں ہم ایک مسجد کے باہر جا کر بیٹھ گئے اور اللہ تعالی کے خصوصی فضل و کرم سے نہایت آرام کے ساتھ کے نشر ہوتا ہوا ‘خطبہء حج’ سنا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جو لوگ ہم سے بہت پہلے نکل گئے تھے، وہ راستے میں رش میں پھسنے کی وجہ سے خطبہ نہ سن سکے۔ ہم جہاں بیٹھے تھے وہاں آس پاس میں کھانے پینے کی اشیاء کے بہت سے کنٹینر کھڑے ہوئے تھے تھے. ہمیں وہاں بیٹھے بٹھائے انواع و اقسام کے کھانے کھلائے گئے، خصوصاً ایک سعودی فیملی نے تو مہمان نوازی کی انتہا کردی۔ اس دن جہاں حاجی گرمی اور انجان جگہ میں حالات کی وجہ سے پریشان تھے وہاں پر سعودیوں اور دیگر میزبانوں نے ایثار کی انتہا کردی۔ اس دن گرمی اتنی زیادہ تھی میں نے پانی کی تقریباً 25- 20 بوتلیں پی لی ہوںگی۔ یومِ عرفات جیسا جاہ و جلال والا دن میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔

1412331039340_wps_60_Muslim_pilgrims_gather_at

کچھ دیر بعد ہم اپنے بچوں کو لے کر عرفات میں قائم پاکستانی کیمپ کی طرف روانہ ہوئے. دوپہر سے لے کر مغرب تک دعاؤں کی قبولیت کا مخصوص وقت ہوتا ہے اور اس وقت میں ہم فاصلہ طے کر رہے تھے۔ ایک خیال یہ آیا جس وقت کا ساری زندگی انتظار کرتے رہے وہ آیا ہے تو ہم دعا بھی ٹھیک سے نہیں مانگ پا رہے ہیں ۔ان ہی خیالات کے ساتھ بالآخر پاکستانی کیمپ میں اپنے گروپ سے جا ملے۔

ہمیشہ کی طرح اللہ تعالیٰ نے پھر کرم فرمایا اور ہمارے بچے گہری نیند سو گئے. ہم سب نے نے کھڑے ہو کر دعائیں مانگنا شروع کر دی. اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ وقت تھم سا گیا ہو. جتنی دعائیں یاد تھیں سب دو دو دفعہ مانگنے کے بعد بھی وقت باقی تھا جیسے سوہنا رب اپنے غلاموں سے سے کہہ رہا ہوں” مانگو جو مانگنا ہے”. وقت میں ایسی حیران کن برکت کبھی محسوس نہیں ہوئی. اس دوران اردگرد ایسا روح پرور ماحول بن گیا جس میں سب حاجی آنسوؤں کے ساتھ اپنی اپنی عرضیاں لیے اپنے مالک کے سامنے کھڑے تھے. اس منظر کو دیکھتے ہوئے منہ سے بے اختیار نکلا ” یا اللہ اِن سب کا حج قبول فرما ہم سب کی حاضری قبول فرما”.

شام ڈھلے ہم اپنے گروپ کے ساتھ پرائیویٹ بس میں سوار ہو کر اپنی اگلی منزل یعنی مزدلفہ کی جانب روانہ ہوئے. وہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کیں. فاصلہ طے کرتے ہوئے منی١ سے کچھ پہلے فٹ پاتھ پر پڑاؤ ڈالا اور اپنی اپنی چٹائیوں پر سو گئے. عجب عالم تھا وہ بھی، نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز. کیا بڑا کیا چھوٹا سب کھلے آسمان تلے بغیر کسی جھجک کے آرام سے سو رہے تھے.

optimized-rituals-of-hajj-muzdalifa

اگلے دن یعنی 10 ذوالحج علاصبح ہم مزدلفہ سے پیدل واپس منی١ اپنے خیمے پہنچے. کچھ دیر آرام کے بعد جمرات جا کر شیطان کو کنکریاں ماریں. اس کے بعد شام کو قربانی کے بعد سر منڈوا کر احرام کھول دیا. اگلی صبح طواف زیارہ فجر کے بعد شروع کرنے کی کوشش میں لگے اور ظہر کے بعد کہیں جا کر مکمل کرلیا. وہاں سے پھر منی١ اور رمی جمرات. اگلے دن آخی رمی کے بعد اپنے ہوٹل جا پہنچے.

اس دورانیے میں سعودی حکومت کے شاندار انتظامات کا مشاہدہ کیا خاص کر سیکورٹی والوں کا ذمہ دارانہ رویہ قابلِ تعریف ہے. گرم موسم میں حاجیوں پر ٹھنڈے پانی کا اسپرے کیا جا رہا تھا. راستوں میں تقریباً پرفیکٹ انتظامات جس میں کھانے پینے کے ریسٹورنٹ, موبائل ریچارج کی سہولیات اور قربانی کے بوتھ قابلِ ذکر ہیں.

قیام منی١ اور دورانِ حج کے مشاہدات :

منی١ کیمپ میں کچھ حاجیوں کی جانب سے بھی لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ دیکھنے کو ملا. وضو خانے پر رش ہوتا تھا تو کولر پر بیٹھ کر پینے کے ٹھنڈے پانی ی سے ہی وضو شروع کر دیتے تھے. باہر کے لوگوں اور کھانے کی چھینا جھپٹی کا تذکرہ تو پہلے ہی ہوچکا ہے.

مکتب کے لیول پر بہت مایوس کن صورتحال تھی. معلم کا کا نمائندہ صرف ایک ہی بار نظر آیا اور حاجیوں نے جیسے تیسے گزارا کیا. پاکستانی معاونین بھی خال خال نظر آئے، حج کے دن تو کوئی بھی نہیں نظر آیا کیونکہ سب اپنا حج کرنے لگ گئے تھے . بعد میں پتہ چلا کہ پاکستانی حج مشن پر تعینات ہوئے تقریباً سب لوگوں نے اپنا حج بھی کیا ہے. پاکستانی حاجی دربدر خوار ہوتے رہے. ٹیکسی والے منہ مانگی قیمتیں وصول کرتے رہے. عام دنوں میں جو کرایہ 20-15 ریال ہوتا تھا وہ 75-150 ریال لیا گیا کچھ مواقع پر لوگوں کو دو سو ریال میں سفر کرنا پڑا. جن لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے انہوں نے لمبے لمبے سفر پیدل طے کیے اور بعد ازاں کچھ بزرگ افراد زخموں پر پٹی کے ساتھ خیموں میں نظر آئے. ہمارے لئے یہ زندگی کا عظیم ترین سفر تھا لیکن کاروباری مقاصد کے لیے یہ ایک سیزن اور بزنس اپارچونٹی تھی،جنہوں نے حاجیوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا. مقامی لڑکوں نے حرم کے اندر مجبور حاجیوں کے ساتھ عجب کھیل کھیلا. وقفاالحرم وہیل چئیرز جو حرم میں حاجیوں کے لیے مفت میں مختص تھیں انہیں ہتھیاکر 500 ریال تک مانگتے رہے.ہم نے خود دو بار 200 ریال دے کر ویل چیئر بچوں کے لئے حاصل کی. جیسے جیسے جیب ہلکی ہوتی گئی، حاجیوں کی پریشانی بھی بڑھتی گئی .پاکستان سے جانے والوں کو گھر سے کچھ پیسے اندازہ سے بھی زیادہ لے کر جانے چاہئیں. حرم میں صفا مروہ کے پیچھے وہیل چئیر کے لئے ایک مخصوص آفس ہے، ابو جہل کا جہاں گھر تھا اور آج بیت الخلا موجود ہیں. وہاں سے وہیل چیئر مفت لے سکتے ہیں، موقع پرست لٹیروں سے بچیں جو حرم کے اندر دو نمبری کرتے ہیں. یہی موقع ہے آپ مجبوروں کی مدد کریں، طاقتور افراد کمزوروں کا ساتھ دیں تو ہر کسی کی مشکلات کم ہو سکتی ہیں.

حج کے بعد اپنے سفری معاملات کے سلسلے پاکستان حج مشن آفس العزیزیہ جانے کا موقع ملا, وہاں جا کر بہت تکلیف دہ مناظر دیکھلنے کو ملے. لے. وہی پیارے بھائی جنہوں نے حاجیوں کے لیے دن رات ایک کر دئیے تھے, وہی بھائی سر منڈائے، سر پر ٹوپی پہنے، شرمندہ شرمندہ نظریں جھکائے لوگوں کی کھری کھری باتیں سن رہے تھے اور اپنی تاویلیں پیش کر رہے تھے. بھئی اس مسئلہ کو حل کریں، پاکستانی معاونین کام چھوڑ کر اپنا حج شروع کردیں گے تو حاجیوں کی مدد کون کرے گا؟ بہانہ یہ بنایا جاتا ہے کہ حج کے دنوں میں ذمہ داری معلم کی ہے. ہمیں کیا پتہ سعودی کمپنی یا معلم کا، ہم تو آپ کو جانتے ہیں. بہت ہیں ہی آسان سی بات ہے، معاونین حج کی سب سے زیادہ ضرورت دورانِ حج ہوتی ہے اور اگر آپ اسی اس دوران ہی موجود نہیں ہوں گے تو آپ کے وہاں جانے کا کیا فائدہ؟ معلم کے ساتھ آپکو رابطہ میں رہنا چاہیے اور ہمہ وقت خیموں میں اور دیگر جگہوں پر موجود ہونا چاہیے تاکہ اپنے حاجیوں کی مدد کر سکیں اور ان کے مسائل حل کر سکیں. نہایت افسوس کے ساتھ ہم نے اس چیز کا مشاہدہ کیا ہے کہ آپ نے اپنی ساری محنت پر ایک بنیادی غلطی کرکے خود ہی پانی پھیر دیا یا اور ثواب کی جگہ گناہ کے امکانات پیدا کر لئے. حاجی جن پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہوئے ان کی تفصیلات اکٹھا کرنا بھی ممکن نہیں ہے . پاکستانی معاونینِ حج بشمول اعلی حکام اور سپورٹ اسٹاف سب اپنا اپنا حج کر رہے تھے. جس کی وجہ سے بہت بڑا خلا پیدا ہوا اور حاجی دربدر خوار ہوتے رہے. حج صرف صاحبِ حیثیت پر فرض ہے. آپ وہاں حج سپورٹ کی حیثیت سے گئے ہیں نہ کہ حج ادا کرنے. مندرجہ بالا کام کر کے نہ صرف آپ نے اپنی ذمہ داریوں سے ناانصافی کی بلکہ مستحق حاجیوں کیلئے باعثِ تکلیف بنے ورنہ شرمندگی کی کوئی وجہ نہیں بنتی. میں نے بعد میں اس موضوع پر کافی اسٹاف لوگوں سے بات کی لیکن سب آئیں بائیں شائیں گول مول جواب دیتے رہے، کسی نے صاف اور سیدھی بات نہ کی. پاکستانی حج منسٹری کو اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے. افسوس ہماری قوم میں ابھی اتنی اخلاقی پختگی نہیں ہے کہ وہ خود احتسابی کرتے ہوئے ایسے کام ہی نہ کرے.

حج کے بعد کے ایام :

لوگوں کا غصہ آہستہ آہستہ کچھ ٹھنڈا ہوا تو نارمل روٹین دوبارہ شروع ہوگیا اور بہترین انتظامات دوبارہ بحال ہو گئے. حرم شریف حاضری اور زیارتیں وغیرہ. ہمیں مکہ میوزیم دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا.

ہمارے گروپ کے زیادہ تر لوگ پہلے ہی مدینہ اور پھر فائنل منزلوں پر نکل گئے. مدینہ روانگی سے قبل ہم نے یکم ستمبر کو کافی وقت معلم کے دفتر میں گزارا. معلم کے دفترکا انچارج کافی مناسب ذمہ دار آدمی معلوم ہو رہا تھا. کئی راتوں سے ٹینشن کی وجہ سے سو نہ سکا تھا. ہمارے بچوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہمارا بہت خیال رکھا ہے. اس دوران مجھے محسوس ہوا کہ پاکستانی مشن اور معلم کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے. میری سب سے گزارش ہے کہ آپ نے اپنی اپنی ذمہ داری نبھائیں، ایک دوسرے سے تعاون کریں اور اس چیز میں سیاست نہ کریں.

مدینہ منورہ میں قیام :

4b58af4e8c571319759ce054d9f3acee

وہاں سے ہم شہرِ مدینہ منورہ پہنچ گئے. سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضری دی اور بچوں کو بھی پیش کیا، سب عزیزوں کا سلام عرض کیا، کچھ کا خصوصی پیغام نام لے کر پہنچایا اور کچھ راز و نیاز بھی… .ایک موقع پر جب میں روزہء رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کچھ دور کھڑے ہو کر منظر دیکھ رہا تھا اور کیفیات کو محسوس کرنے کی کوشش کر رہا تھا. میں نے دیکھا کہ لوگ کیسے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پیش کرنے کے لئے سرشاری کے عالم میں ایک دوسرے پر گر رہے تھے. یقیناً ان میں دنیاوی مالدار بھی ہوں گے لیکن اس دربار میں ہر کوئی آگے بڑھنا چاہتا تھا. اس قابل رشک منظر اور دل کی کیفیت کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے.

مدینہ میں قیام کے دوران ہمارا چھوٹا بیٹا سائڈ ٹیبل سے ٹکرا کر زخمی ہوگیا. ہم اسے لے کر فوراً باہر نکلے تو نیچے پاکستانی حکام کا اپنی گاڑی میں کہیں جانے کے لیے تیار تھے، ہمارا مسئلہ دیکھ کر فوراً پاکستانی ہسپتال میں پہنچا دیا جہاں پر بچے کو ڈاکٹر نے ٹانکا لگایا. ان سب کی مدد کے بے حد شکر گزار ہیں.

زیارات کرنے اور کھجوریں لینے کے بعد اپنے سپریم لیڈر سرورِ کونین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو الوداع کہتے ہوئے ہم واپس اپنی منزل یعنی دوحہ – قطر واپس لوٹ آئے.

پاکستانی تارکینِ وطن کی حالت زار :

umrah-taxi-5

مکہ کے قیام دوران وہاں مقیم پاکستانیوں کے حالات دیکھنے کا موقع ملا. بدلتی ہوئی سعودی پالیسیوں اور دگرگوں معاشی حالات کی وجہ سے لوگ بہت پریشان تھے. بالخصوص ٹیکسی ڈرائیور بمشکل گزارا کر رہے تھے اور ایک ایک ریال گن کر کما رہے تھے. کم وبیش یہی حال چھوٹے دکان داروں کا بھی تھا. وہاں پر گئے ہوئے پاکستانی سپورٹ اسٹاف سے بھی اس موضوع پر بات چیت ہوئی اور وہ لوگ بھی یہ وقت گزار کر جلد از جلد پاکستان واپس جانا چاہتے تھے. یہ سب اتنا واضح تھا کہ اس بات کو میں یہاں بیان کئے بغیر نہ رہ سکا. اللہ تعالی سب کی مشکلیں آسان فرمائے، آمین. تارکینِ وطن کے عزیزوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے پردیسی بھائیوں کے حالات کا احساس کریں…

حج پر جانے والوں کے لئےچند مشورے :

150418149759a7fcf97768d

سامان کم سے کم لے کر جائیں. صرف ضروری اور مخصوص دوائیاں لے کر جائیں. غیر ضروری چیزیں لے جا کر آپ خود پریشان ہوں گے. پاکستان کے حاجی کیمپ کی مارکیٹ میں ملنے والا سامان سفر کیلئے کافی رہتا ہے. وہیل چئیر اگر انتہائی ضروری ہو تو پاکستان سے ہی ساتھ لے کر جائے ورنہ جیسا اوپر بتایا گیا حرم کے مخصوص آفس سے مفت لے سکتے ہیں یا پھر ادھر ادھر پڑی ہوئی ایسی وہیل چیئر جس پر وقفالحرم لکھا ہو وہ آپ بلا جھجھک استعمال کر سکتے ہیں . کچھ پیسے زیادہ رکھ کر لے کے جائیں. کمزور افراد کی مدد کریں کریں اور ان کا حج آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں. منی١ میں قیام کے دوران فضول باتوں سے بچیں اور عبادت پر دیہان دیں. بسوں میں سوار ہوتے ہوئے دھکے نہ دیں، دیر سے پہنچنا کسی کو ایذا دے کر پہنچنے سے بہتر ہے. اسی طرح حجرِ اسود کا بوسہ لینے کیلئے بھی دھکم پیل نہ کریں اور اپنی عبادت ضائع ہونے سے بچائیں. غیر معمولی حالات کے لئے تیار رہیں اور ایک دوسرے سے ہمیشہ شائستگی سے پیش آئیں. سیلفیز اور ویڈیوز بنانے میں قیمتی وقت برباد نہ کریں. پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے باوقار انداز اپنائیں اور اپنے ملک کی نیک نامی کا باعث بنیں.

حرفِ آخر:

ہمارے والدین اور وہ تمام لوگ جن کی مدد اور کی دعائیں ہر پل ہمارے ساتھ تھیں اور وہ اصحاب جنہوں نے اس سفر میں ہماری بھرپور مدد کی خصوصاً ضرار بھائی اور ظفر بھائی بمع اہل وعیال، محترم عابد زرین صاحب اور فرخ شاہ بمع فیملی وغیرہ. اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ خوش اور آباد رکھے.

ہر صاحب حیثیت شخص جس نے حج نہیں کیا وہ آج ہی پروگرام بنا لے. اس سال کے خوش نصیبوں کو پیشگی مبارکباد اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے اور آپکی حاضری قبول فرمائے، آمین. اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمائے اور ہم سب کو بار بار اپنے دربار میں حاضری کی سعادت نصیب فرمائے آمین ثم آمین.

Article No.

Note: This Article has also been published at following:

میرا سفر حج

 

Advertisements
“Conventional society and free Social Media”

“Conventional society and free Social Media”

Neither everything is meant to be shared nor everyone deserve to know everything about you…Specially your personal life!!!

We human beings live among various social circles. The closest blood relationships with parents, our siblings then relatives, neighbors and acquaintances, class fellows and work fellows as well. As a matter of fact, our behavior/attitude within each of our social circle is different; the level of closeness, esteem and frankness varies from one group to the other. Not everything could be commonly shared between these social circles. Our maturity level and treatment to various people also gets advanced with age. Whereas Social media keeps everyone at the same level giving the equal opportunities to all without the distinctions just explained, everyone is a ‘friend’ on social media. In my humble opinion, there can never be such a separation of our relationships levels on social media due to its domain, which is an un-natural thing.

Social media has revolutionized the process of human interaction and wonders can happen with a touch of finger. In our daily lives today, we often give references of events encountered on the social media posts and discussions undergone on various topics. Whole world can look into what you have shared and what are your views. However, most of us are not very good in setting up our privacy up to reasonable extent thus live vulnerable online life. Therefore, the amount of damage is immeasurable due to unintended mistakes. Even if you setup privacy, you can never be sure of how far your activities may reach!

Today, we share our social gatherings with friends and families. We cannot travel without sharing updated status, we have to tell the whole world what food we are eating, where and with whom to digest it properly. All of this is meaningless to many others but they have access to all our personal activities. What is the need of showing your new house or expansive car to the whole world? What about those who cannot afford to travel, or eat such expansive food. Why post fake smiles, who are we making fool?

Most crucial part comes in when people share their family lives. Is there really a need of sharing wedding pictures of you and your extended family with everyone? Sharing honeymoon travel and pictures, is it obligatory? Personal relationships between Husband and wife are an extremely private thing; today why people forget this and share private pictures and emotions openly. Above all, facing various questions even from irrelevant persons about your personal life, which could be avoided if you had use the sharing buttons wisely. Are likes that much important to us? I am unable to understand why people expose their life partners to the whole world. One of the issues of sharing too much can be that you are providing people with chances to comment on your personal lives. When you are sharing your happy lives openly, bear in mind that the factor of “Nazr-e-Badd”/ jealousy also comes into play as a bitter reality.

One related thing that comes into mind is that free-mixing was never that easy before which now has new dimensions. Even stranger Male and Females can add each other, talk freely; you can see anyone personal pictures and videos as they upload their stories. Often same people in real life claim to be preserving to strangers and obeying veil while on street; they should think for a second that their pictures and videos can also damage their modesty and could go in hands the exploiters. Up to 1990’s it was considered an out of world thing to get a picture or number of girls but now both things are available on fingertips. Have the moral values of society changed altogether?

That reticence/parda between our various social circles is very important and should be kept in mind while doing anything on social media. I know many of wise people who are very selective in what they share and some do not share even a single-family picture on social media channels. Some people have even left this online world to live a content life with their family. Technology has given us chances to keep our things more private such as sharing the personal items within relevant groups through WhatsApp messenger, which is far better than sharing it openly and loudly on Facebook, Instagram or Twitter.

My sincere suggestion to all is that please think many times before you share. Do not expose yourself too much because you never know real intentions of others; please do not become a joke. Although Facebook has introduced blocking options but I have experience that this is not helpful all the time because all of your contacts would not have applied same filters. The media entices you to share your feelings and you can become a prey anytime to share un-necessary items. It easy to share but it’s almost difficult to wipe out our your web footprint. Preserving our cultural values should be an integral part of our efforts for a safe future.

Note:

This article has been published at the following links:

Conventional Society And Free Social Media

Article No.61

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

QASUR CHILD ABUSE CASE: HIGH TIME TO CHANNELIZE A FRUSTRATED SOICETY

QASUR CHILD ABUSE CASE: HIGH TIME TO CHANNELIZE A FRUSTRATED SOICETY

Sexual crimes of different nature have been a factor of Pakistani society which leaves us in a state of shock from time to time. Latest event been rape and murder of Qasur’s innocent Zainab. Lot has been said on this issue and as I write these lines, her murderer is still unknown. This will soon become a story of past, people will again get busy in their own lives until another such event takes place (Allah forbid). It is a fact that only those effected can feel the real pain and all others are mere commentators.

However, if we think sensibly it is an issue for all of us. Moral decline and frustration is on the rise. Every now and then, we hear events of Sexual Harassment, rape of innocent women and in worst cases our little angels are effected. There have even some cases of men abused by some ambitious women. Adultery (of all forms) being considered a smaller crime compared to former ones. If a diagnosis is carried out, we will find out that roots of all such acts are same. If we really want to solve these issues, then we need to really analyze this and implement solutions to root out such awful acts. Human being carry 3 fundamental urges 1) Urge to Live, 2) Urge to Pleasure and 3) Urge to Power. Here the issue is with elements of ‘Urge to Pleasure’, which has not been dealt appropriately in our society.

Talking on this issue is a Taboo, which needs to be broken at this point of time if not at a later stage. Damage control needs to be done.

Lack of correct information

In my opinion, people are not been fed with knowledge about this desire/urge and how to fulfil it. Adding to that, the overall atmosphere of society is also not monitored which adds to confusion and frustration of people leading to such events.

Children are not made aware of probable issues that they might face in this regard. However as the child grows up, his/her body is developed with related emotions. Adding to lack of correct information, he finds bold scenes in the movies and dramas. His/her desires gets a peak with the passage of time. He/she receive information from his/her colleagues or available information from other sources such as internet. Due to lack of formal guidance, many people consider themselves as severely infected and fight undue psychological pressures. Proper knowledge is never conveyed to them.

Sexual Harassment as topic was covered by one of our valiant University teacher which was largely skipped by female students. We also attended with a sense of shyness but it was worthy sessions, which opened our eyes to many issues along with their solutions. There was no indecency involved within those lectures in fact we were given real life examples for sexual harassment. That was first and last formal information that I received in life.

Vulgarity in media

Women is used as a show piece to attract customers. Bold advertisements, dressing of women and the content topics are irresponsibly handled. Such dreamy situations is contrary to situation on ground and takes a person to a different world in which controlling their thoughts and emotions become even a bigger test. Mini cinemas and internet are easily accessible to the young boys where their minds are infiltrated with such dirty things. Within many of the Investigation programs, the topics of sexual harassment and male-female affairs are telecasted irresponsibly giving them a wrong lesson at large.

Nikah (Marriage)

Today, getting married has become very difficult, as people have lifted their demands to sky limits. Useless norms and traditions like Mehndi, Dholki and Dowery etc have made it difficult for a normal person to get married. I know a person who was not initiating his life partner search as he was first targeting to gather Rs.10 lacs and it took another about 1.5 years when he achieved 10 lacs; this is so unfair due to peer pressures. Multiple marriage is considered as a crime. These difficulties often end up in opening doors of adultery/sex crimes within people.

Involvement of Powerful People

During Qasur’s child abuse case, a couple of years back, involvement of some really powerful people was found as reported by media. That story got refreshed this time but it’s yet to reach its logical conclusion.

Some people shamelessly try to forces working ladies in doing questionable acts as part of blackmailing using their seat and influence. Lately, news channels have revealed such mean people.

TO DO’S

Islamic Teachings

We need to be very clear in our approach. At one place we claim to be Muslims and nationals of an Islamic state but at the other place shy away when anybody talks about obeying Islam and implementing Islamic Laws. Fahashi (Vulgarity) is one of main topics of Quran. Allah (S.W.T.) sets clear principles of Parda (veil) and other measures to avoid ultimate incident of Zina (Infidelity).

“Tell the believing men to lower their gaze (from looking at forbidden things), and protect their private parts (from illegal sexual acts). That is purer for them. Verily, Allah is All-Aware of what they do. “ ( An-Noor, Chapter #24, Verse #30) (Ref #1)

We take reference from Hadith regarding fundamental teachings of Islam to avoid Zina (Adultery)

Narrated Ibn `Abbas:

I did not see anything so resembling minor sins as what Abu Huraira said from the Prophet, who said, “Allah has written for the son of Adam his inevitable share of adultery whether he is aware of it or not: The adultery of the eye is the looking (at something which is sinful to look at), and the adultery of the tongue is to utter (what it is unlawful to utter), and the innerself wishes and longs for (adultery) and the private parts turn that into reality or refrain from submitting to the temptation.”

Reference: Sahih al-Bukhari 6612

In-book reference: Book 82, Hadith 18

USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 77, Hadith 609

(Deprecated numbering scheme)

(Ref #2)

Strict Islamic Laws must placed in the society. Making an example out of such people will serve the cause by inducing fear.

Ulema (Islamic Scholors) should address the causes and effects of such issues. In Zainab’s case as well; I was wondering where all of those big names hiding out and not giving any guidance statement to millions of their followers. Most of us are not aware about the composition of human body (material and spiritual aspects) and how to stream lines requirements associated with our being as per teachings of Islam. Everyone should make effort to get used to of Islamic practices in this regard.

Our Nation needs a Sex Vaccination

Like vaccines are provided for various diseases ,like the war strategy is made , like controlling the law and order ; sexual issues must be taken up as well. Some suggestions listed are listed below:

  • Indulgence of proper knowledge among growing children and awareness of how to react in case any such enticement is there by an offender. Basic information regarding human body, Male-Female couple relationship to be clearly conveyed to avoid un-necessary curiosity/uncertainty in young generation’s mind. Father can tell his son and mother can tell her daughter regarding this. Furthermore, separate Boys-Girls class sessions can be designed in which message appropriate to a certain age group can be conveyed wisely.
  • Easy weddings to be promoted and useless practices like Mehndi, Dholki and other non-Islamic functions to be curtailed which will reduce the load on masses especially low income class. Encouraging unmarried people to get married via collective marriages.
  • Multiple marriage for men is considered a sin in our society; we are in a state of denial on this issue which can become a tool to give support to thousands of unmarried women.
  • Media must be responsible as regards to content they air. Ladies specially must be cautious regarding their get up.
  • Reaching out the explicit content to be made as difficult as possible with technology and severe punishments.
  • Doctors and psychologists need to come forward with articles and short videos to provide basic sex education to masses.
  • Why child abuse cases are hitting Qasur so hard? this should be seriously researched out. Also to other notorious parts of country infected by such ailments needs to be addressed.

Current system and government is most likely not to take this up seriously. Severity of such issues calls for an immediate action adopting solutions like above in our daily lives. We need to be proactive & aggressive to deal with problems as regards to sexual needs like we carry out arrangements for our living (food, clothes and shelter). This will surely bring a huge drop in the sexual crimes and making our society a better place.

References:

Ref#1    : https://www.searchtruth.com/chapter_display.php?chapter=24&translator=5#30

Ref#2    : https://sunnah.com/bukhari/82

Note:

Article No:60

This Blog has also been published at following links:

It Is Time To Get Rid of Child Abuse

Implementing Islamic laws can curb the rampant sexual abuse

Pakistan Visit, 2017 

Pakistan Visit, 2017 

                                                          From diaries of an expat

After living about Nine years abroad, I recently finished yet another annual visit to Pakistan and as usual it left many impressions.

Meeting a Stranger, route to Karachi
I landed in Lahore from Doha and right away my next destination was Sargodha. In Daewoo Bus, a man sitting next to me gave me his British visa rejection letter (written in English) to tell him translation. The main highlights of that letter were:

• The man was declared a Lawyer with a certain monthly income in his visa application but his bank account transactions record was a bit suspicious for British embassy.
• British embassy was doubtful about how he would mange his living during his stay and showed their concern that he would slip inside UK as illegal immigrant.
• Any future visa application with similar application was most likely to be rejected.

I explained him about the idea of letter and he nodded his head in reply. He was termed Lawyer in the letter, so l was thinking why a qualified person would ask anyone for translation of a letter. Soon I found out that the document processor only showed him as lawyer which he was not in reality. By conversation I found out that, he was Desperate to get out of country by hook or by crook. He gave examples of his brother and other acquaintances who made impressive progress after getting abroad. I said “ What wonders a person would do abroad if he could not anything here in Pakistan”. He replied “A man would do anything abroad, we all have dreams for our children”. He was repeating that “There must be some wisdom from Allah(S.W.T) and I will find my way outside as I am trying my best” but the amazing aspect was that he was not concerned about the deception/fudging in papers at all. To avoid guilt afterwards, I conveyed the importance of avoiding foul play but with very less use. Fraud and Tawakkul side by side, Ahhh. He went on his own way and me on my own at the Bus station…

From Sargodha, I went to Faisalabad for a 1 day brief stay. I found unusual support for the ex-prime minister Nawaz Sharif who was on roads during that time. I was so surprised to see a complete difference in opinion where all issues related to him & his rally were somehow given favored shape by his supporters.

I had booked my tickets via Pakistan railways mobile application few weeks back, a good facility for train travelers. Journey from Faisalabad to Karachi through Karakoram Express was as smooth as a whistle. Hat’s off to railways management, keep doing good work.

Winning a Lucky Draw
Only after few days of stay in Karachi I received a phone call in which a person verified me my full name with NIC and mobile number and gave me good news of winning a Toyota 2017 GLi model. This was due to purchase of Sundar foods item during last year and filling a lucky draw form, back of the mind I was thinking I never filled such form. Anyhow, he further explained their presence in Pakistan forwarded me an sms asking to contact their manager within 3 days to claim my car. I never contacted them and they never came back thereafter. Why an Organization giving away such an expansive prize was unable to deliver it at my doorstep, a definite scam attempt spot-on exactly during my Pakistan visit.

Karachi, city of Garbage

garbage

City of lights is now city of Garbage. I was most of time roaming around in Landhi-Korangi area. Most roads and streets were flooded with Sewage water, which become worst during raintimes; everywhere on the outskirts, garbage was present.  The shortest journey of 1.5 kms from my home to Babaer market was occupied with two dangerous ditches filled with sewerage water, vehicles had to slow down and proceed through the notched area and Motorcyclists were almost sure to get some dirt on their clothes.

Me and my wife somehow managed to survive and  passed through reasonable health condition but Kids were severely effected due to all the filth around. I had to make at least 10 visits to nearby Awadh Hospital. Awadh’s staff was also amazed at our situation and frequent visits/issues.

System is not working I Karachi. Governments sweepers and Garbage is scarce. Most areas are having privately managed garbage pickers. Even they get absent very often stopped by Party walay. What would Kachra Politics give to smart politicians?? ”Party Walay and Establishment” are two strange terms I am unable to fully understand since my childhood.

Heavy Rainfalls

rainfall

I saw perhaps the biggest Lightening and Thunderstorm during this visit. It was a contrast situation when it was raining. The residents of new houses were enjoying inside their cozy setups while the inmates of low levels houses were throwing water out with the help of buckets. There was no issues inside my new house but this difference of situation hit me quite deep down as I recalled my school days when me and my family had to do the same to throw water out of our home to save out appliances and other households. Above all cruel realities, innocent children were running from here to there in the street making a lot of fun and enjoying the rain time.

A night before EID when it was last heaviest rainfall of the stretch, I was in the Babar market for monthly shopping with family. It started raining when we were in the middle of the market. As we made our way out, water was flowing like a river. No Rickshaw or Taxi was ready to drop us, there were dozens people sorting out how to escape this situation. At last, I decided to move on my bike. I was quite confident on my Super Power 70 CC bike which once saved my in a similar situation from Defence to Landhi; but that time I was alone…I managed to start my bike but biggest problem was ponded water on road under which the uneven road and open manholes were hidden and you never knew what’s going to happened next. I switched ON all of my senses and followed the wheel path of vehicles ahead of me. Occasional thunder , heavy rain, haphazard traffic, wife and 2 kids doing their own things and above all all unseen and unexpected hazards ahead; it was one of scariest ride. At last we reached our home crossing all dangerous waters and/or rain mixed with sewage water with a fear factor of some broken live electricity wire…

K-Electric
In our area, scheduled load shedding is being practiced but during my visit K-electric showed all its hidden talent to us. Some days were normal load shedding, some days unexpected breakdown. A day was amazingly free of load shedding. There were shocks of 2-3 brief switch-offs on Eid’s 2nd day. Our old house which is vacant these days was labeled as “ Kunda Use along meter” on the Bill and I cannot explain amount of pain felt due to this thing as we have never done such a thing. Whose problem is to make fully recovery and avoid losses? What about those honest users who never steal electricity but face load shedding due to losses in their area? Such discriminant behavior must end soon!

Qurbani
I decided to only go to Mandi one day before EID and so was materialized when we moved from our home to Bhains Colony for Jaanwar Purchase. We were 7 people and got onto a messed up open to sky Suzuki. Cloudy weather and uneven roads made it like an adventurous Safari ride. Market rates were down due to rainfalls and we manged to purchase escape goats on reasonable prices. Qurbani was smooth, we cousins and family did justice with numerous goats on the day upto 2:00 pm before getting too tired. Area was free from any fear of snatching animal skin. Relevant people were gathering remains of animals. The painful thing was to do Qurbani in between sewage waters as gutters were overflowing everywhere. Young boys spent a lot of time in visiting Mandi, puchasing animals and taking care of them right till the end. They had to provide security Guard services too for the animals at night.

Government must make big slaughter houses to avoid hygienic issues emerging after the Qurbani. The Festivity, activities and mess Qurbani practiced in Pakistan is perhaps the one of its kind in the whole world. You can not imagine anyone doing private Qurbani at their homes elsewhere…

End of Trip
On last day, we attended a decent ceremony of Bismillah and Ameen of kids arranged by our cousin and his family. Similar to all passed years, I was once again saying good bye to loved ones with some cheerful memories sensing some unsaid words in their eyes, leaving some undone tasks; leaving my beloved country…

Whether I am back to reality or have I left reality; I do not know at this stage. Pakistan Zindabad, Hamehsa!

Note:

Article No:59

This Blog has also been published at following links:

https://www.pakpositive.com/pakistanibloggers/impressions-of-visiting-pakistan-after-9-years-abroad-t2222.html

http://www.zemtv.com/2017/09/20/pakistan-visit-2017/
 

Champions Trophy 2017, Yet another fairytale in Pakistan’s Cricket

Champions Trophy 2017, Yet another fairytale in Pakistan’s Cricket

                                      An account of a famous win and way forward…

Pakistanis were so jubilant and swamped with the occasion that none of us wanted end of victorious mood; just fancy this fervor continues for ever… Everyone had a story to tell about celebrations of this victory over India. The same night, we (here in Doha-Qatar) also went for Sehri Treat in a Pakistani restaurant named Punjab restaurant and witnessed an awesome atmosphere. Big screen was showing Pakistani channels presenting stats of final match and you could well hear commentary from each table. A large group of about 30-35 people were especially out there having party time. Giggles, itching here and there poking each other with some meaningful jokes enjoying Pakistan’s victory. Smiling for no reason! We could well see that people belonging to almost all provinces were present there united under the cause of cricket. This is a very special thing related with sport of cricket. It’s a rare sight seen after the Pakistan’s triumph of World T20 in 2009.

pakistan-final-celebrate-after-winning-champions-trophy_2a72ed9e-544e-11e7-869c-505e32be9126

Miraculous Phenomenon!

When our team started playing as a unit, you could easily see the unseen forces working in our favor. Rain rescued our weak batting lineup against South-Africa. Sarfaraz survived 2 dropped catches in a must win against Sri-Lanka where it was almost over for our team. Famous NO ball by Bumrah and Fakhar Zaman got a new life to post a maiden TON. Then Muhammad Hafeez’s stumps got in tact despite being hit by the ball. Allah (SWT) helped when team got united and put all their efforts for winning matches in holy month of Ramzan. And they were humble enough to recognize this unseen phenomenon thanking first Almighty Allah and then explaining all formal tactics and strategies behind their performances. What a sight it was for Pakistani fans and cricket lovers all over the world to see unpredictable team Pakistan, emerging from lowest ranking and shaking confidence of best teams of the world.

jasprit-bumrah-twitter_806x605_71497880907

Humble Boys!

A very unique aspect of this young Pakistani team is the simplicity and innocence displayed by players including the captain. No attitude, no arrogance! Short interesting videos started erupting from the very next day and still continuing. They respectfully entertained all the spectators greeting them at all places and were seen with their old friends. Captain came out of his home to gift his cricket shirt to a blind special child, we saw his simple wear and Ulti Topi. Sarfaraz kept on praising his boys wherever he went, that’s a sign of a true leader. Rumman Raees was spotted assisting common people on a street Iftari organized in some old area of Karachi. Hassan Ali celebrating with people of Gujranwala, land of Pehalwans now introduced as hometown of a hardworking fast bowler. Fakhar Zaman enjoying a causual full dressed Shalwar Qameez bath in a canal with his friends. Shadab Khan hugged by a random passionate fan at a petrol station and this boy respected elder person giving all due time to speak whatever he wanted to say. All of this is in itself a big delight to watch. Hoping that such attention and fame shall not get on to their minds and they do not get too much carried away. I wish they all remain the same even after gathering more success in future.

20sarfraz-1

Our Amir is Back!

A day before Final match, just randomly I was thinking who could be a match winner for Pakistan in this match. Muhammad Amir was the one name which came into my mind and I tweeted as:

And what an amazing day he had, picking up 3 big players of India. This effort and his excellent batting effort in the game against Sri-Lanka may well be regarded as his complete return to international cricket. He is one of lucky people who played crucial roles in Pakistan’s win in World T20, 2009 and Champions Trophy, 2017. Best wishes to Muhammad Amir from this point, may you have a long, clean and successful career for Pakistan.

mohammad-amir-1

Amir, Junaid Khan, Hafeez, Babar Azam and others should also get attention of people and media for their efforts.

Merit, Merit & just Merit

After the first lost against India, it was an amazing turnaround for Pakistan team especially in the fielding department. The way all players were backing up each other and marshaled by Sarfaraz was just awesome. It was a rare sight for an ever suffering Pakistani supporter. Runs they stopped and amazing catches they took were exciting for spectators around the world. They played as a unit! You can not have this thing when there are issues within the team or when some villain is doing his own politics. Within 3 days gap to final, Amir Sohail’s viral statement shocked all of us. Whether we accept it or not, the useless Karachi-Lahore or Karachi-Punjab divide is often seen in Pakistan’s cricket.  But the good thing was that Ex-players like Wasim Akram & Basit Ali came to rescue our boys with their positive messages. The special thing in this Champions trophy is the overwhelming response from all corners. Whole Pakistan owned this team throughout series of events.

Good cricketing facilities should be provided all over the country and Deserving talented players to be given fair chance because if you do not give them chance, favoritism will doom everything because there is no replacement for merit. I would request that anything that happened in past should be buried and national team to be selected on merit and supported from all cricketers regardless of their belonging to any city or region. That’s the only way forward!

Fawad-Alam-propose

Role of Pakistan Super League

To be honest, one should give due credit to all people who were involved in organizing Pakistan Super League (PSL) from which we got some exciting players. PSL franchise owners also seem to be passionate about the cause. Like Karachi Kings, other teams should also arrange Talent hunt camps within their regions and present talented players at PSL stage. I suggest few more teams like Hyderabad, Faisalabad & Sialkot etc should be added to PSL. A final topping to PSL; Cricket team named ‘Kashmir’ representing whole Kashmir valley must be added in PSL.

There is no doubt that India has played a big role in bringing our cricket down. We can also not forget how Pakistani players were humiliated during action in the initial versions of Indian Premier League (IPL). That later led to formation of PSL and now we got talented players who beat India in the Champions trophy final. I would strongly suggest, Pakistani cricketers should never be permitted from our side to play in IPL and we must strive to make PSL a world’s leading cricket league with innovations and Pakistani talent in action.

Future Steps

Winning the Champions trophy is not the end of achievements, it’s just a beginning. Lot of things needs to be fixed within our cricketing system. PCB should not be running under government ruling, it needs to be an autonomous body. Reforms should be made to Domestic structure, sponsors should be invited and attractive atmosphere to be created for public viewing. School and college cricket should be revived as a campaign enticing our young generation to spend more time on ground activities rather to be engaged to social media all the time. We always had a weak and vulnerable batting lineup. I am of a belief that it is due to lack of big play grounds, children play in streets and constrained environment with local rules of street cricket so batsmen cannot play their shots freely. Another reason is expansive kit for batsmen and majority of us are happy in bowling rather than exploring our batting skills. So, some serious measures need to be taken to produce quality batsmen with good techniques, power hitters in particular.

It was so romantic to see Pakistan team overcoming their fears and play like Tigers. I hope all of us are mature enough to capitalize on success from this point onwards. Thank you team Pakistan for giving us MOKA MOKA & providing unforgettable moments of joy…

Article No. 58

Please note that this Article has been published at following websites:

https://www.pakpositive.com/pakistanibloggers/celebrating-champions-trophy-2017-in-qatar-t2206.html

“War of Perception: Cunning Neighbors and Ignorant friends”

“War of Perception: Cunning Neighbors and Ignorant friends”

Reviewing India’s fake propaganda history and TO DO’s for Pakistan!

On 18th September, 2016; four gunmen attacked an Indian Army brigade headquarters in Uri, near the Line of Control. 17 Indian army personnel were killed in the attack. As expected, Indian media and security officials put the blame on Pakistan. Like each terrorist event in past, Indian media heated the beat and linked it to Pakistan minutes after the event occurred without any solid evidence. Nevertheless lately, the world yet again saw India’s baseless allegations against Pakistan proved to be wrong after Indian NIA cleared the alleged duo Faizal Hussain Awan and his friend Yasin Khurshid, inhabitants of Azad Kashmir as no evidence was found against them. But much damage was done as India took advantage of these attacks into the last year’s UNGA terming Pakistan as a terrorist state. The idea was to defame and ‘isolate’ Pakistan on a global scale and divert the world’s attention from the continuous human rights violation by Indian forces in occupied Kashmir.

This isn’t the first instance of manipulation of evidence by Indian security officials. Indian security agencies have also been blamed for staging terror attacks within the country which have also caused the casualties of Indian civilians. Almost all of Indian false flag have been accepted as inside jobs by their own officials time to time. (Quoted from external source)

India faced a global humiliation upon their claimed surgical strikes along the LOC last year after the Uri attacks. Again, Indian media created a supersonic hype against Pakistan followed by their celebrities tweeting with proud backing to so-called brave attempt. All of this perception was soon dissolved in thick air after detailed briefing from ISPR (Pakistan Army) to the media alongside L.O.C. But still no sign of any regret or acceptance from India!

Pathankot attacks were also of similar nature and metal in which Indian media started blaming Pakistan right from the word go but later findings pointed some doubtful proceedings leaving it as another inside job.

The arrest of notorious Ajmal Kasab claimed linkage with 2008 Mumbai attacks by Indian security officials is also doubtful and does not hold much credibility. The foremost evidence is the language pronunciation of Kassab during his aired interview; his words and delivery style does not even fall anywhere near to the type of Urdu spoken in Pakistan. Former Indian inspector-general S M Mushrif had claimed in his book ‘Who killed Karkare?’ that AjmalKasab was arrested before 2006 from Kathmandu by the Indian agency RAW with the help of Nepalese forces. The book summarizes that Ajmal was arrested for the purpose to be presented as a substantial ‘evidence’ for ‘terror attacks’ even before they took place. The former IGP went on to say that it is a common practice in India to apprehend innocent folks from Kathmandu and other parts and present them as terrorists after undue detention. (Quoted from external source)

The list of Indian lies and false flags is long and tedious which includes Malegaon attacks alleging Lashkar-e-taiba & Jaish-e-Muhammad or attacks on Samjhota express burning 70 odd Pakistanis to ashes; they first blamed Lashkar-e-taiba but later here were signs if involvement of Indian nationalist group. Notably the 2008 Mumbai attacks and 2001 Indian parliament attacked were orchestrated as revealed by RVS Mani a former secretary in Indian home ministry. Similarly aircraft Ganga was a plotted hijack aimed to cut of air ties between then East and West Pakistan.

India works on the ideology of Chankiya dreaming of making Akhand Bharat in which Pakistan remains the sole obstacle. They use their media as a weapon to spread lies in such a way that it seems a reality. By the grace of Allah, all these plots and games were exposed by their own people with the passage of time. There case is so weak that they cannot face us if we stand strong on our grounds but ironically we fall short due to lack of statesmanship. Unfortunately we do not have a strong foreign office to face such tricks of India and other enemies at large; even a foreign minister is not there for unknown reasons. The need is to built up our case against Indian narrative and tell the world about their history of deception. Strong proofs of Indian involvement in Baluchistan and Karachi need to be shown to the world; Kalboshan Yadev needs to be used a tool of exposing dirty politics of India in the region. It’s about time to engage Afghanistan and Iran which are being used by India to do crimes against our Pak-Sarzameen.

Government/establishment alone cannot cope up with the propaganda war laid by India. Despite of doing a good job in their capacity, our electronic media has to rise up to obey their national duty of defending motherland at all costs in the footsteps of patriotic social media sections. Such news Channels who even found out the house of Ajmal Kassab inside Pakistan should be made accountable for their acts. Pakistan’s condition and facts & figures are far better than India and many other countries but we fall short in showing the real face of Pakistan and creating a positive perspective which could wash our negative image for good.

Even after seeing everything that has happened to us in past years, still countries like China and Turkey are standing with us as brothers; Russia looking forward to a strong future relationship with Pakistan sensing some serious progress in the form of CPEC and beyond. Just imagine what the situation could have been if our foreign office was working properly presenting our case to the world with the support of electronic media and public. Allah has always supported us, let’s start supporting ourselves.

Article No. 57

Please note that this Article has been published at following websites:

http://www.pakistankakhudahafiz.com/articles/exclusive/war-perception-cunning-neighbors-ignorant-friends/

Destructive topics in Pakistani Dramas!

Destructive topics in Pakistani Dramas!

“Reviewing current trend of unhealthy topics like Divorce and invitation for producing healthy dramas with strong topics!!!”
In my school days, there was a scenario in a drama named ‘Ye Zindagi’ featuring Nauman Aijaz and Mah Noor Baloch. After a brisk love marriage, the couple broke up soon after; however, after realizing this fatal mistake the husband suggested “Halalah” to his ex-wife. This was a new term for me and straight away I asked my father “Dad what is this Halalah?”. My father somehow handled my question and told that was just nothing…Remember, that time was almost ending period of golden Pakistani dramas. Indian dramas soon captured our market for quite a significant amount of time during early 2000’s. Pakistani drama then fought back its way lately and even influenced the Indian market due to some good dramas. This was indeed a good feeling for seasoned viewers of Pakistani dramas.
It has been noticed that our dramas are yet again falling behind of topics as most of the stories are circulating around the marriage issue of loving man and woman. These are filmed in very sophisticated locations/ homes but the inmates are displaying ultimate immoral attitude and filthy family politics. I have noticed that relationship of husband–wife in many current dramas is shown in complicated status which ends up in Divorce. The scene of fight and shooting 3 words of Talaq are shown often as if it’s a very normal thing and part of our society.

I can certainly recall that during my childhood days’, divorce was never too often discussed within sections of society but with the passage of time and influence of abundantly produced dramas; Divorce has become a very common topic. Remember this is most unlikeable Halal act in Islam. We can see the impacts of showing/discussing this topic as the lives of many media celebrities are very unstable and also the rate of divorce is rising within society. Young innocent minds are definitely catching up this and can practice it very well in their practical life without realizing the real consequences. The environment in which you live your life counts a lot for you and watching such topics certainly makes their place in sub-conscious of mind and can get you in such a situation where a minor conflict can result in fatal event of Divorce.Stop-Separation-and-Divorce-Problems

We have to be responsible in protecting this noble institution of marriage by influencing positive topics to flourish this relationship. Instead of complicated Husband-Wife relationships, why can’t we cover strong bond and examples of how they supported each other during times of financial crisis or in case of severe health problems? Every other day, we can see highlights of many brilliant stories of common Pakistanis on various social media platforms like “Humans of Pakistan”; we can make many dramas out of them. I cannot forget fantastic pictures/stories covered by Brandon Stenton of “Humans of New York” while he visited Pakistan back in 2015. Why not glorify our enthusiastic and most resilient people instead of showing cunning stories of disgrace and betrayal between them?

14877388940o-indian-family-facebook

Read More: HONY in Pakistan
https://msultanshah.com/2015/08/24/humans-of-new-york-restored-faith-in-humans-of-pakistan/

There are hundreds of genuine topics speared in the society including life cycle of overseas expatriate people and their families back home. Topics related with various ongoing army operations and their effects on related people.  Topics related to the success stories of un-known heroes may well be covered as pay back to them; this would certainly inspire others. We can cover lives of our forgotten heroes (and living heroes) from education, science, arts, armed forces and sports. Dramas can be made covering issues related with special children and their status in the society. Media can cover conditions of people related with various organizations such as Pakistan railways, PIA, Sui-Gas and private media itself to make people realize efforts and issues related to them and better understand their lives. Above all, on the education and training side; topics covering the ideology of Pakistan depicting true goals for which Pakistan was created must be shown as a national duty.
TV channels can invite and appreciate young authors for getting fresh out of the box stories. I am certain that different and genuine topics shall definitely grab more audience and shall certainly be equally or even more successful in the monetary terms as well. We can certainly work our way towards improving society by taking such steps.
Let’s realize the important of topics covered in our dramas and take a first step today!

Article No. 56:

This article has been published at following: